بڑے بڑے پہلوانوں کے کاغذات مسترد، عمران خان دو شاہد کاقان اور فاروق ستار ایک ایک حلقے سے آؤٹ ، پرویز مشرف ، وقاص اکرم ، شیخ اکرم ، احمد لدھیانوی ، عائشہ گلالئی اسد اللہ بھٹو ، فوزیہ قصوری ، نذیر جٹ کے کاغذات بھی منظور نہ ہو سکے

بڑے بڑے پہلوانوں کے کاغذات مسترد، عمران خان دو شاہد کاقان اور فاروق ستار ایک ...

سلام آباد ،لاہور ،سرگودھا ، نارووال ، قصور ، جھنگ ،گوجرانوالہ (سٹاف رپورٹر ،بیورورپورٹس ،نمائندگان، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )عام انتخابات 2018 کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ گزشتہ شام مکمل ہوگیا پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، پی ٹی آئی کی منحرف رکن عائشہ گلالئی اور مسلم لیگ (ن) کے رکن سردار مہتاب عباسی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالوہاب کی جانب سے عمران خان کے خلاف اعتراضات ریٹرننگ افسر کو جمع کرائے گئے تھے، جس پر دونوں فریقین کے وکلاء کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ افسرنے فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سنایا گیا۔امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بیان حلفی کی شق 'این' کے تحت طے شدہ طریقہ کار کے مطابق نہ ہونے پر مسترد کیے گئے۔ریٹرننگ افسر کے مطابق چاروں امیدواروں نے اپنے حلقے میں مفاد عامہ کے کاموں کی تفصیلات نہیں دی تھی کراچی کے حلقہ این اے 245 سے ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے قومی اسمبلی کی نشست پر کراچی کے تین حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جن میں این اے 245،241 اور 247 کے حلقے شامل ہیں۔ریٹرننگ افسر احسان خان نے حلقہ این اے 245 سے ڈاکٹر فاروق ستار کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جس کے بعد انہیں مسترد کردیا ۔ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ ایم کیوایم رہنما فاروق ستار 2 مقدمات میں مفرور ہیں اور انہوں نے کاغذات نامزدگی میں مفروری کا ذکر نہیں کیا جس بناء پر ان کے کاغذات مسترد کیے گئے جبکہ این اے 241 اور247سے فاروق ستار کے کاغذات منظور کر لئے گئے ہیں ۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے این اے 1 چترال سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے ہیں جہاں ریٹرننگ افسر محمد خان نے ان کے کاغذات مسترد کیے۔اے پی ایم ایل کے رہنما ڈاکٹر امجد نے کہا کہ پرویز مشرف اس بار نااہل ہونے پر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے لیکن ہم انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے اور اس بار بائیکاٹ نہیں ہوگا۔کراچی کے حلقہ این اے242 سے جماعت اسلامی کے نائب امیر اسداللہ بھٹو کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردیئے گئے ہیں۔جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اسداللہ بھٹو بینک ڈیفالٹر کی لسٹ میں شامل تھے جس بناء4 پر ان کیکاغذات مسترد کیے گئے۔اسداللہ بھٹو کا کہنا ہے کہ وہ ڈیفالٹر نہیں ہیں یہ بینک کی غلطی ہے جس پر عدالت جائیں گے۔کراچی کے حلقہ این اے 247 سے پاک سرزمین پارٹی کی فوزیہ قصور کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔این اے 115جھنگ سے سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم اور ان کے والد شیخ اکرم اور مولانا احمد لدھیانوی کے کاگزات مسترد کر دئے گئے کراچی کے حلقہ این اے246 سے پیپلز پارٹی کے منحرف کارکن حبیب جان کے کا غذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے کاغذات نامزدگی این اے 246 لیاری کی نشست کے لیے منظور کرلیے گئے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے این اے 132 لاہور، این اے 249 اور این اے 250 کراچی سے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے جب کہ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے این اے 124 اور این اے 132 سے نامزدگی فارم منظور کیے گئے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے این اے 131 لاہور اور سابق صدر آصف علی زرداری کے این اے 213 نوابشاہ کے لیے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے، دونوں رہنماؤں کے نامزدگی فارمز پر اٹھائے گئے اعتراضات ریٹرننگ ا?فیسر نے مسترد کردیے، ملتان کے حلقہ این اے 155 سے جاوید ہاشمی، چار سدہ کے حلقہ این اے 23 سے آفتاب شیر پاؤ اور چنیوٹ کے حلقہ این اے 99 سے فیصل صالح حیات کے بھائی اسد حیات کے کاغذات منظور کرلیے گئے۔۔پشاور کے حلقہ این اے 31 اور پی کے 76 سے ضیاء4 اللہ آفریدی کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔بلوچستان اسمبلی کی سابق اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی کے حلقہ این اے 265 کوئٹہ سے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔فیصل آباد کے حلقہ این اے 106 سے ریٹرننگ افسر نے سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے۔ ڈپٹی میئر کراچی ارشد ووہرا کے این اے 254 اور این اے 255 سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے، این اے 255 سے رہنما ایم کیو ایم کامران ٹیسوری کے بھی نامزدگی فارم منظور کرلیے گئے۔این اے 245 کراچی سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما محمد حسین خان اور اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدوار قیصر نظامانی کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔این اے 175 رحیم یار خان سے سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی، این اے 246 کراچی سے (ن) لیگی امیدوار سلیم ضیاء اور بدین کے حلقہ این اے 230 سے بی بی یاسمین شاہ کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کے لاہور کی صوبائی اسمبلی پی پی 173 سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔یاد رہے کہ مریم نواز کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 سے پہلے ہی کاغذات نامزدگی منظور ہوچکے ہیں۔ قصور کی صوبائی اسمبلی پی پی 176 سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک محمد احمد خان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ہیں۔بدین کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 74 سے گرینٹ ڈیموکریٹک الائنس کے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔این اے 240 سے تحریک انصاف کے خان زمان خٹک کے کاغذات نامزدگی درست قرار دئیے گئے۔گی۔متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانافضل الرحمان کے کاغذات نامزدگی دوحلقوں NA38ڈیرہ ون اورNA39ڈیرہ ٹوسے منظورکرلیے گئے ۔مولانافضل الرحمان کے کاغذات نامزدگی پرکوئی اعتراضات نہیں کیے گئے۔ ا ین اے 35 بنوں سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی منظور،ریٹرننگ آفیسرنے اعتراضات مسترد کر دیئے لاہورسے نامہ نگار کے مطابق لاہور سے قومی اسمبلی کی 14نشستوں پر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل گزشتہ روز مکمل ہوگیا جس کے بعدریٹرننگ افسروں نے 267 امیدواروں کو انتخابات کے لئے کلیئر قرار دے دیاہے جس کے مطابق لاہور سے قومی اسمبلی کی 14نشستوں کے لئے 310 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جن میں سے 43 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا اور ریٹرننگ افسران نے کاغذات نامزدگی کی منظوری کی فہرستیں آویزاں کر دی ہیں، حلقہ این اے 123 سے 25 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جس میں سے ایک امیدوار نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لئے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک ریاض اور پی ٹی آئی کے مہر واجد عظیم سمیت 24 کے کاغذات منظور کر لئے گئے، این اے 124 سے حمزہ شہباز اور نعمان قیصر سمیت 10 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ور تمام امیدواروں کے کاغذات منظور کر دیئے گئے، این اے 125 سے 25 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جہاں ریٹرننگ افسر نے ڈاکٹر یاسمین راشد، مریم نواز، پرویز ملک، عندلیب عباس ،زعیم قادری سمیت 23 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے، این اے 126 سے 19 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جن میں سے تین امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا، این اے 127 سے مریم نواز، جمشید چیمہ سمیت 18 امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے جن میں سے 14امیدواروں کے کاغذات منظور کئے گئے، این اے 128 سے روحیل اصغر اور اعجاز ڈیال سمیت 17 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جس میں سے ایک امیدوارکے کاغذات مسترد کر دیئے گئے، این اے 129 سے 20 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جن میں سے دو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، ریٹرننگ افسر نے این اے 130 سے شفقت محمود، خواجہ احسان، لیاقت بلوچ سمیت21 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے جبکہ8امیدواروں کے کاغذات کو مسترد کر دیا، فہرستوں کے مطابق این اے 131 سے عمران خان، خواجہ سعد رفیق کے کاغذات منظور کرلئے گئے ہیں جبکہ اس حلقہ سے 23 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے ، این اے132سے شہباز شریف، حمزہ شہباز، منشا سندھو سمیت 24میدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے جبکہ ایک امیدوارکے کاغذات مسترد اور ایک نے کاغذات واپس لے لئے، ریٹرننگ افسر نے این اے 133 سے وحید عالم گل ،عمران نذیر، ایاز صادق سمیت 26 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے جبکہ ایک امیدوار کے کاغذات کو مسترد کر دیا۔این اے 134 سے 21 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے اور ایک امیدوار کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے ، این اے135سے 15امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ، ریٹرننگ آفیسر نے 3امیدواروں کے کاغذات مسترد جبکہ کرامت علی کھوکھر اور سیف الملوک کھوکھرسمیت 12امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے،حلقہ این اے 136 سے ملک کرامت کھوکھر، ملک اسد کھوکھر سمیت 15 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جنہیں ریٹرننگ آفیسر زنے منظور کر لیا ہے۔انتخابی شیڈول کے تحت ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف 22جون تک الیکشن اپیلٹ ٹربیونل سے رجوع کیا جا سکتا ہے،لاہور ہائیکورٹ کی پرنسپل نشست اور علاقائی بنچوں پر قائم الیکشن اپیلٹ ٹربیونلز28جون تک ان اپیلوں پر سماعت کریں گے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے حلقہ پی پی229 سے 2010 میں سپریم کورٹ سے جعلی ڈگری کی بنیاد پر تاحیات نااہل ہونے والے سابق ایم این اے چوہدری نذیر احمد جٹ کو امیدوار نامزد کیا تھاجس نے ناصرف پی پی229 بلکہ این اے 162 اور این اے 163 سے بھی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جن پر انکے مدمقابل امیدواروں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی رو سے نااہلی کے اعتراضات داخل کروائے تھے جن پر سماعت کے بعد ریٹرننگ افسران نے انکے کاغزات نامزدگی مسترد کر دیئے نذیر احمد جٹ نے این اے163 سے پی ٹی آئی کے امیدوار اسحاق خاں خاکوانی کے مقابلہ میں اپنے اور اپنی بیٹی عارفہ نذیر جٹ کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جبکہ پی پی 229 سے تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیدوار چیئرمین یوسی نثار احمد ولیکا کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردئے گئے کیونکہ انہوں نے اپنی چیئرمین شپ سے استعفیٰ نہیں دیا تھا پی پی229 سے دیگر تمام امیدواروں کے کاغذات منظور کر لئے گئے پی پی231 سے آزاد امیدوار میاں افضل کریم بیٹو اور پی پی232 سے ملک محمد علی لنگڑیال کے کاغذات نامزدگی بھی دوہری شہریت رکھنے پر مسترد ہو گئے ہیں۔حلقہ این 78نارووال سے ریٹرننگ آفیسر محمد عثمان نے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے آزاد امیدوار محمد طیب میر ایڈووکیٹ کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات ریٹرننگ آفیسر نے مسترد کر دئیے،جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ابرارالحق چوہدری کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لئے گئے،حلقہ پی پی50نارووال سے سابق پارلیمانی سیکرٹری خواجہ محمد وسیم بٹ کے کاغذات نامزدگی پر لگائے گئے اعتراضات کو ریٹرنگ آفیسر محمد عثمان غنی نے مسترد کر تے ہوئے کاغذات منظور کر لئے۔بھلوال سے نمائندہ خصوصی کے مطابق اربوں روپے قرضے معاف کروانے کی وجہ سے امیدواربرائے صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 73مہرغلام دستگیرخاں لک کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے ۔ سرگودھا سے بیورورپورٹ کے مطابق ضلع کی قومی اسمبلی کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے دس حلقوں کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے 324 امیدواروں میں سے 279 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، سابق وزراء، ممبران اسمبلی تسنیم قریشی، محسن شاہنواز رانجھا، مناظر علی رانجھا، پیر امین الحسنات، ندیم افضل چن، عامر سلطان چیمہ، حامد حمید، مختار بھرتھ، مناظر علی رانجھا سمیت 279 امیدواروں کے کاغذات سکروٹنی کے بعد درست قرار دیئے گئے، جبکہ سابق صوبائی وزیر غلام دستگیر لک پی پی پی کے رانا جمشید جھمٹ اور خواجہ سراء نینا لعل، پی ٹی آئی کے ملک ہمایوں اعوان سمیت متعدد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے۔ قومی اسمبلی کی ضلع کی پانچ نشستوں کیلئے 78 امیدوار میدان میں آئے ہیں، جن میں این اے 88 سے ندیم افضل چن، پیر امین الحسنات، ڈاکٹر مختار بھرتھ، ہارون پراچہ سمیت 16 ،این اے 89 سے محسن شاہنواز رانجھا، اسامہ غیاث میلہ، اسلم مڈھیانہ سمیت 6 ، این اے 90 سے ڈاکٹر نادیہ عزیز، ممتاز کاہلوں، تسنیم قریشی، ارشد شاہد، حامد حمید، ڈاکٹر لیاقت سمیت 25، این اے 91 سے ڈاکٹر ذوالفقار بھٹی، عامر سلطان چیمہ، حافظ سعید کے بیٹے طلحہ سعید، پی پی پی کے طارق گجر سمیت 16 اور این اے 92 سے جاوید حسنین شاہ، شفقت حیات بلوچ، عنصر بلوچ، ظفر احمد قریشی، نور حیات کلیار، نعیم الدین سیالوی سمیت 15 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے رانا جمشید کے کاغذات بینک ڈیفالٹر ہونے پر مسترد ہو گئے، ضلع سرگودھا کے 10 صوبائی حلقوں کیلئے 234 امیدواروں میں سے 201 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے، جن میں پی پی 72 سے زوہیب بھرتھ، فاروق بہاؤالحق، گلریز چن، حسن انعام پراچہ، زبیر احمد گوندل، انعام الحق پراچہ سمیت 17، پی پی 73 سے خالقداد پڑھیار، منیر احمد، یاسر ظفر سندھو، ظفر عباس لک سمیت 23، پی پی 74 سے عنصر اقبال ہرل، میاں مظہر احمد رانجھا اور انکے بھائی میاں مناظر رانجھا سمیت 8 پی پی 75 سے منیب سلطان چیمہ، عمر کلیار، شمس نوید چیمہ، تنزیلہ عامر چیمہ سمیت 13، پی پی 76 سے فیصل فاروق چیمہ، حافظ فرحان احمد گجر، جاوید اقبال چیمہ، کامل شمعیل گجر، نجف علی بھٹی، ذوالفقار بھٹی سمیت 21، پی پی 77 سے عبدالرزاق ڈھلوں، عدنان گل، شعیب اعوان، متین قریشی، علی آصف بگا، عمارہ رضوان گل سمیت 33 پی پی 78 سے عنصر مجید نیازی، ڈاکٹر نادیہ عزیز، عبداﷲ ممتاز کاہلوں، عمارہ رضوان گل، فیاض اوٹھی، اعجاز کاہلوں، ڈاکٹر ارشد شاہد، ممتاز کاہلوں سمیت 25، پی پی 79 سے فیصل جاوید گھمن، حامد رضا، رانا منور غوث سمیت 24، پی پی 80 سے غلام علی اصغر لاہڑی، عنصر بلوچ، نور حیات کلیار، نعیم الدین سیالوی سمیت 19 اور پی پی 81 سے افتخار حسین گوندل، شفقت عباس میکن، بہادر عباس میکن، شہزادی عمر زادی ٹوانہ سمیت 18 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں۔ سمیرا ملک ، ملک احسان اللہ ٹوانہ، ملک شاکر بشیر اعوان، ڈاکٹر غوث محمد نیازی، محمد اسفندیار خان، انجینئر گل اصغر بگھور ، شاہد اقبال، عمران بشیر اعوان، عذیر محمد خان، غیاث دین ، محمد حسین علی، صفدر علی اور انور خان کے کاغذات نامزدگی بھی منطور کر لئے گئے ۔قلعہ دیدار سنگھ سے نامہ نگار کے مطابق این اے 80سے آٹھ امیدواروں کے کاغذات ،پی پی 62سے دس امیدواروں جبکہ پی پی 53سے 2کے کاغذات منظور کر لئے گئے انتخابات 2018کے لئے این اے 80سے رہنما مسلم لیگ (ن)سابق وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک،رہنما پاکستان تحریک انصاف سابق ایم ان اے میاں طارق محمود،سابق وفاقی وزیر مواصلات امتیاز صفدر وڑائچ،جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عبیداللہ گوہر،مسلم لیگ (ق) کے ڈاکٹر زین بھٹی،پپلز پارٹی کے راؤ اکرام علی خاں ،رانا نعیم الرحمٰن اور حکیم میاں ارشد محمود کے کاغذات منظور،حلقہ پی پی 62سے تحریک انصاف کی مسسز میاں مظہر جاوید،مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم پی اے چوہدری محمد اشرف وڑائچ،جماعت اسلامی کے بلال قدرت بٹ،چوہدری الفت رسول وڑائچ،زاہد اسحاق وڑائچ،حاجی امان اللہ وڑائچ،قاسم اکرم وڑائچ،رانا عامر افتخار خاں، جاوید الحسن وڑائچ مرزا طارق محمود کے کاغذات منظور ،حلقہ پی پی 53سے رہنماپاکستان تحریک انصاف سابق ایم پی اے چوہدری محمد ناصر چیمہ،رہنما مسلم لیگ (ن)سابق صدر پاکستان رفیق تارڑ کے پوتے بلال رفیق تارڑ کے کاغذات منظور ہو گئے جبکہ چوہدری جمال ناصر چیمہ کے بنک ڈفالٹر ہونیکی وجہ سے کاغذات مسترد اور تاحیات ناہل ہوگئے۔ڈسکہ نامہ نگار اورتحصیل رپورٹر کے مطابق رؤف احمد باجوہ ،چوہدری صداقت علی ،محمد رضوان ،سید افتخار الحسن ،شمسہ سلیم بخاری ،چوہدری ممتا ز علی ،گوہر نواز ،علی اسجد ملہی ،ظہیر الحسن رضوی ،کاشان حیدر،حسن اعجاز چیمہ ،امان اللہ ،چوہدری انصر اقبال بریار ،عثمان عابد،محمد اشرف ،عبدالوحید میؤ،عبدالرؤف ،ظفر اقبال چیمہ ،ارسلان ظفر ،محمد عتیق رفیق کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیئے گئے اور سابق ایم پی اے و تحصیل ناظم پی ٹی آئی رہنما چوہدری اعجاز احمد چیمہ کے کاغذات نامزدگی بینک ڈیفالٹر ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیئے گئے جبکہ پی پی42سے 22امیدواروں نے ریٹرننگ آفیسر قیصرحسین مرل کے دفتر میں کاغذات نامزدگی جمع کر وائے جن میں سے چوہدری صداقت علی ،محمد افضل منشاء ،توحید اقبال بٹ ،وقاص افتخار ،چوہدری ممتاز علی ،رانا محمد عمران ،حسن پرویز ،ضیاء حئی،ذکاء اللہ،محمد آصف باجوہ ،محمد اشفاق وائیں،ذیشان رفیق ،رانا شاہد سہیل،نعیم اللہ ،عمر اعجاز ،ظفر اقبال ،علی اسلم ،مرز اشاہد صدیق ،قاری ریاض ابرار ،محمد شاہد انصاری ،مس عطیہ ،امانت علی بٹ ،اللہ دتہ رفیق،یحیی گلنواز گھمن ،حسن اعجاز چیمہ ،عبدالرؤف ،ذوالفقار علی سیالوی ،زاہد حسین مغل کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیئے گئے ۔نوشہرہ ورکاں سے نمائندہ خصوصی کے مطابق , این اے 84 سے چوہدری اظہر قیوم ناہرا سمیت تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور, پی پی 63 سے چوہدری مدثر حنیف اوجلہ ایڈووکیٹ اور پی پی 64 سے سہیل اقبال کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئے گئے این اے 84 کے ریٹرننگ آفیسر محمد اعظم رانا نے چوہدری اظہر قیوم ناہرا سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور ڈاکٹر عامر علی حسین کے کاغذات نامزدگی پر رانا بلال اعجاز کے اعتراضات سماعت کے بعد مسترد کر دیئے اور این اے 84 میں جمع کروائے گئے تمام 14 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 63 کے ریٹرننگ آفیسر عمر دراز ہرل نے چوہدری مدثر حنیف اوجلہ اور پی پی 64 کے ریٹرننگ آفیسر مسعود زمان گوندل نے سہیل اقبال کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے ان کے علاوہ تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے احافظ آباد میں قومی اسمبلی کے حلقہ 87میں ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے 19امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کی فہرست جاری کردی گئی۔ جن امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے ان میں سابق وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ، سابق صوبائی وزیر شوکت علی بھٹی، لیاقت عباس بھٹی، مبشرعباس بھٹی ، افراسیاب موہل، بابر مقبول قاضی، سعدیہ لیاقت عباس، میاں شاہد حسین، محمد رفیق، قمر عباس، فہمیدہ کوثر،راحیلہ بابر تارڑ،رائے صفدر علی، محمد نعیم، ملک محمد اسلم،چوہدری اسعداﷲ، اﷲرکھی، ذکاء اﷲ اور میاں فضل احمد قادری شامل ہیں۔وزیرآباد، جامکے چٹھہ، سوہدرہ سے نمائندہ خصوصی، نمائندہ پاکستان، نامہ نگار کے مطابق سابق ایم این اے جسٹس(ر)افتخار احمد چیمہ،عدنان سرور چیمہ،بریگیڈئر(ر)بابر علاوالدین فاروقی کے کاغذات مسترد کردیے گئے۔ قومی اسمبلی این اے79 پر مسلم لیگ (ن)کے امیدوارن ڈاکٹر نثار چیمہ،نوازش علی چیمہ،ساجد حسین چٹھہ،عادل بخش چٹھہ،جوہر سرور چیمہ،تحریک انصاف کے محمد احمد چٹھہ،فیاض چٹھہ ،متحدہ مجلس عمل کے وقاص بٹ،مرزا تقی علی، پیپلزپارٹی کے اعجازچیمہ سمیت19 کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد درست قرار دے دیے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے امیدوار سابق ایم این جسٹس(ر)فتخار احمد چیمہ کے کاغذات سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مسترد کردیے جسٹس(ر)افتخار احمد چیمہ پراپنی اہلیہ کے اثاثے ظاہر نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے انہیں ڈی سیٹ کرکے دوبارہ ضمنی الیکشن لڑنے کی اجازت دی تھی بعدازاں میاں نوازشریف کے فیصلے کی روشنی میں آئین کا آرٹیکل 62 اور 63 تحت نا اہلی تاحیات کردی تھی، عدنان سرور چیمہ کے بھی کاغذات ٹیکنکل بنیادوں پرمسترد کر دیے۔صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی51 پر مسلم لیگ(ن)کے امیدوران چوہدری شوکت منظور چیمہ انکی اہلیہ طلعت محمود،مستنصر علی گوندل،جوہر سرور چیمہ،عمر گوندل،محمد ادریس سپال،تحریک انصاف کے شبیر اکرم چیمہ انکی اہلیہ حمیرا شبیر چیمہ،خرم مختار چیمہ،وقار اشرف،چوہدری یوسف، پیپلزپارٹی کے اعجاز احمد سماں،متحدی مجلس عمل کے محمد مشتاق بٹ،ملک زبیح اللہ،لبیک یارسول اللہ کے مہر جاوید بابا سمیت19 امیدروان کے کاغذات درست قرار دے دیے جبکہ بریگیڈئر(ر)بابر علاوالدین فاروقی کی ریٹائرمنٹ کی مدت پوری نہ ہونے پر کاغذات مسترد ہوگئے۔جڑانوالہ سے نامہ نگار کے مطابق پنجاب اسمبلی کے حلقہ 131 میں کاغذات کی جانچ پڑتال کا مرحلہ مکمل ہوگیا،20میں سے17امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، ،2امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے جبکہ ایک امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے،پیپلز پارٹی کے محمدطارق ولد عبدالرشید اور آزاد امیدوار شازیہ چیمہ نے کاغذات واپس لئے،احتشام الحسن بھٹی کے یونین کونسل کی چیئرمین شپ سے مستعفی نہ ہونے کی بناء پر کاغذات مسترد کر دئیے گئے، جن کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،ان میں این اے 117کے آزاد امیدوار چوہدری طارق محمود باجوہ سابق ایم پی اے کی اہلیہ محترمہ شازیہ چیمہ ،مسلم لیگ ن کے میاں اعجاز حسین بھٹی، چوہدری امتیاز احمد کاہلوں،حاجی عرفان الحسن بھٹی،میاں کاشف علی بھٹی، محمد عباس ولد مشتاق احمد ولی پور بوڑا،فلک شیر ولد محمد مرزا کوٹلہ کاہلواں،تحریک انصاف سے چوہدری طارق سعید گھمن،محمد احسن رضا واہگہ،حاجی محمد اعظم ملک،حاجی ارشد نذیر،چوہدری محمد ارشد ساہی،محمد اشفاق ولد عبدالرشید ولی پور بوڑا،پیپلز پارٹی سے میرمحمد صدیق وائیں، ندیم اصغرعرف مٹھو مغل ماڈل ٹاؤن، تحریک لبیک یا رسول اللہ سے رانا جماعت علی معصومی،ملی مسلم لیگ سے حفیظ احمد ساکن چک291ذخیرہ شامل ہیں۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 117سیجن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں ان میں مسلم لیگ ن کے سابق وفاقی وزیر امور کشمیر،گلگت بلتستا ن چوہدری محمدبرجیس طاہر،تحریک انصاف کے چوہدری بلال احمد ورک سابق ایم این اے،آزاد امیدوارچوہدری طارق محمود باجوہ سابق ایم پی اے،پی ٹی آئی کے چوہدری محمد ارشد ساہی،حاجی محمد اعظم ملک،شفقت رسول گھمن،ملی مسلم لیگ کی تحریک اللہ اکبرکے ہارون اشفاق ،چوہدری طارق محمود باجوہ سابق ایم پی اے کی اہلیہ محترمہ شازیہ چیمہ،ان کے چھوٹے بھائی چوہدری ذوالفقار علی باجوہ کی اہلیہ محترمہ نازیہ چیمہ،پیپلز پارٹی کے محمد وقاص ،اکرم حیات چیمہ،نعیم اقبال،شکیل الرحمن ،تحریک لبیک کے محمد رضوان واہگہ شامل ہیں۔

سکروٹنی مکمل

مزید : صفحہ اول


loading...