پاکستانی قونصل جنرل کی ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات ، خیریت کیساتھ ہونے کی تصدیق

پاکستانی قونصل جنرل کی ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات ، خیریت کیساتھ ہونے کی تصدیق

واشنگٹن ،اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )امریکہ میں قید پاکستانی سائنسدان ڈاکٹرعافیہ صدیقی سے متعلق تمام افواہیں بے بنیاد نکلیں، ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلر نے عافیہ کے زندہ ہونے کی تصدیق کردی۔پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ایف ایم سی کارزویل جیل میں ڈ ا کٹر عافیہ سے دوگھنٹے تک ملاقات کی جو گزشتہ چودہ ماہ کے دوران ہونیوالی چوتھی ملاقات تھی۔ترجمان پاکستان قونصلیٹ کے مطابق عائشہ فاروقی نے 23مئی 2018 کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی،ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ میں ڈاکٹر عافیہ سے متعلق گردش کرنیوالی تمام افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہو ئے کہا گیا ہے عافیہ صدیقی سے قونصل جنرل نے تفصیلی ملاقات کی ، وہ خیریت سے ہیں۔ اس ملا قا ت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پہلی مرتبہ کھل کر خود کو درپیش مشکلات کا اظہا رکیا اورانہوں نے قید خانے کا دورہ بھی کرایا، دوران ملاقات ڈ ا کٹر عافیہ صدیقی نے اپنے وکلاء جو انکی بہن فوزیہ صدیقی نے مقرر کئے ہیں پر عدم اعتماد کا بھی اظہار کیا اور کہا ان کی بہن کو آگاہ کروں کہ وہ ان وکلاء کو تبدیل کریں ،انکا یہ بھی کہنا تھا سابق اٹارنی ٹینا فوسٹر نے بہتر طور پر انکے مقدمہ کو ڈیل کیا،اپنی والدہ سے ٹیلی فون پر بات کرنے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر عافیہ کا کہنا تھا انہیں دیگر قیدیوں کی طرح آزادانہ ٹیلی فون کرنے کی اجازت نہیں بلکہ ان کا ٹیلی فون ریکارڈ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ فون کرنے سے گریز کر تی ہیں ،اسی طرح وہ یہ بھی محسوس کرتی ہیں کہ ممکن ہے دوسری طرف سے بات کرنیوالے ان کی ماں یا بہنیں نہیں کوئی اور ہوں،اعلامیہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر قونصل جنرل نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو ان کی والدہ اور بہن کے درست ٹیلی فون نمبر بھی فراہم کئے ۔والدہ اور بہن سے ملاقات کرانے کی پیشکش کو ڈاکٹرعافیہ نے یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ انہیں امریکہ آمد کر گرفتار کیا جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر عافیہ نے ملاقات میں جیل عملہ کی جانب سے ان کی پرائیویسی میں مداخلت کرنے ، زیر استعمال اشیاء کے غائب ہونے اور زبردستی ڈرگز استعمال کرانے سمیت دیگر سنگین نوعیت جن میں انہیں اشیاء خورو نوش میں زہر ملا کر کھلانے کی بھی شکایت بھی شامل تھی ۔ڈاکٹر عافیہ نے خط و کتابت کو بھی من گھڑت جبکہ خود کو ذہنی و جسمانی طور پر فٹ قرار دیا ،2011میں ان سے منسوب بیان کیخلاف اپیل کرنے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر عافیہ کا کہنا تھا اس جج کے سامنے کیسے اپیل کروں جن سے انصاف کی توقع ہی نہ ہو،انکا کہنا تھا انکا ٹرائل اور انہیں دی جانے والی سز ادونوں ہی غیر قانونی ہیں ۔انہوں نے آصف حسین سابق پی اے ٹو سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی پر بھی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مقدمہ لڑنے کیلئے 2010ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے مختص کردہ 2ملین ڈالرز بھی ہڑپ کر لئے گئے ، دونوں شخصیات نے ان کی کسی طور بھی مدد نہ کی ۔اعلامیہ کے مطابق قونصل جنرل کے سوال کہ انہیں ڈاکٹر عافیہ کی خریت سے متعلق ان کی والدہ اور دیگر اہل خانہ کو تصدیق کرانے کیلئے کوئی ایسا پیغام نشانی دیں تاکہ انہیں تسلی دلائی جا سکے تو انہوں نے تصویر کھچوانے سے انکار کیا تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں گھر والے ’’عافو رانی ‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں اور میری خریت کی یہی نشانی ہے جب آپ میری والدہ یا بہن کے سامنے ’’عافو رانی ‘‘ پکاریں گے تو انہیں تسلی ہو جائیگی ۔ اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ نے اپنی والدہ اور بہن کیلئے اردو زبان میں مختصر پیغام بھی ریکارڈ کرایا، قونصل جنرل نے ملاقات کے بعد حکومت کو ڈاکٹر عافیہ اور ان کیخلاف مقدمات کے حوالے سے ہونیوالی ملاقات کے بعد متعددسفارشات بھی بھجوائی ہیں ، جن میں امریکی حکومت کیساتھ اس ضمن میں ڈاکٹر عافیہ کی ہرطرھ سے سلامتی وتحفظ یقینی بنانے ،مشکوک اور ناتشائستہ کردار کے مالک جیل سٹاف کی ڈاکٹر عافیہ تک رسائی کو روکنا جبکہ ان کے مقدمات کو در ست طور پرلڑنا،انہیں والدہ اور بہن تک محفوظ رسائی مہیا کرنا شامل ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی خیریت سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پرچلنے والی وہ تمام افواہیں دم توڑ گئیں جن میں کہا گیا تھا عافیہ صدیقی کا امریکی جیل میں انتقال ہوگیا ہے۔اس حوالے سے ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا وہ ایسی کسی افسوسناک خبر کی تصدیق نہیں کرسکتی ہیں کیونکہ حکومت اورجیل حکام کی جانب سے انہیں اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا گزشتہ 2 سال سے ہزارہا کوشش کے باوجود عافیہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ آن لائن قیدیوں کے اسٹیٹس میں عافیہ کا اسٹیٹس زندہ لکھا ہے، اگر کسی قیدی کا اسٹیٹس بدلا جائے تو فیملی کو اگاہ کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ

مزید : صفحہ اول


loading...