مصر میں امیرقطر کے خلاف 15کروڑ ڈالرہرجانے کا مقدمہ دائر

مصر میں امیرقطر کے خلاف 15کروڑ ڈالرہرجانے کا مقدمہ دائر

قاہرہ (صباح نیوز) مصر میں مسلح حملوں کا نشانہ بننے والے متعدد افراد کے خاندانوں نے قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی کے خلاف 15 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ، یہ ایک عرب ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جو کسی دوسرے عرب ملک کے خلاف دائر کیا گیا۔مذکورہ خاندانوں نے شمالی سینا میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران چار افسران کی ہلاکت اور ایک شہری کے زخمی ہونے کا ذمہ دار قطر کو ٹھہرایا ہے۔مقدمے میں ان عدالتی فیصلوں کو بنیاد بنایا گیا جن سے سینا میں دہشت گرد جماعتوں کی سپورٹ کے ساتھ قطر کے تعلق کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ بات مدعی خاندانوں کے وکیل حافظ ابو سعدہ ایڈووکیٹ نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مصر کا قانون مقدمے کا حق دیتا ہے، عدالت میں مقدمے کا اندراج سپریم جوڈیشل کی آرا کے سروے کے بعد ہی ہو گا۔مقدمے کی درخواست میں دہشت گردی کے خلاف برسر جنگ چاروں ممالک کی جانب سے جاری فہرست کی جانب اشارہ کیا گیا اور اس میں ان شخصیات اور اداروں کو شامل کیا گیا جن کو قطر کی جانب سے پناہ اور سپورٹ حاصل ہے۔مدعی فریق نے کہاکہ قطر کا الاخوان المسلمین کے بعض ارکان کو پناہ دینا اور انہیں مصر کے حوالے نہ کرنا جب کہ ان کا مصر میں مرتکب جرائم میں ملوث ہونا ثابت ہو چکا ہے ، یہ قطر کو قصور وار ٹھہرانے کے لیے کافی ہے۔مقدمہ دائر کرنے والے ان چار افسران کے والدین ہیں جو شمالی سینا میں مسلح افراد کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔عدالت نے مقدمے کی اولین سماعت کے لیے رواں برس 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔

ہرجانے کا مقدمہ

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...