جے یو آئی نے مولانا گل نصیب کے این اے 8کے امیدوار بننے کیخلاف علم بغاوت بلند کردیا

جے یو آئی نے مولانا گل نصیب کے این اے 8کے امیدوار بننے کیخلاف علم بغاوت بلند ...

بٹ خیلہ (بیورورپوٹ ) ملاکنڈ کے حلقہ این اے 8ملاکنڈ پر ایم ایم اے اور جمعیت علماء اسلام کے صوبائی آمیر مولانا گل نصیب خان کی طرف سے کاغذات نامزدگی داخل کرنے اور ممکنہ اُمیدوار بننے کے خلاف ملاکنڈ میں جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں نے علم بغاوت بلند کردی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملاکنڈ کا قومی نشست مقامی اُمیدوار کو دیا جائے بصورت دیگر مولانا گل نصیب خان کا ساتھ دینے کی بجائے دوسرا لائحہ عمل تیار کریں گے۔ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کی طرف سے ضلعی سینئرنائب آمیر مولانا شمس الحق کے رہائش گاہ پر منعقدہ عید ملن پارٹی میں جے یو آئی کے سینئرآرکان نے کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ضلعی سینئرنائب صدر مولانا شمس الحق، نائب آمیر محمد آمین،یو سی ورتیر کے آمیر مفتی فرید خان،فضل رازق،فضل خالق،حضرت گل اور دیگر نے کہا کہ ایم ایم اے فارمولے کے تحت ملاکنڈ کا قومی نشست جمعیت علماء اسلام کے حصے میں آئی ہے لیکن صوبائی قیادت کی طرف سے مقامی اُمیدواروں سے ان کا حق چھینا جارہا ہے جس سے نہ صرف مقامی کارکنوں کی توہین ہورہی ہے بلکہ نتائج نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں جس کا اثر پورے صوبے میں جے یو آئی کے سیاست پر پڑیگا ۔مقررین نے کہا کہ صوبائی آمیر مولانا گل نصیب خان اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور ملاکنڈ کے سیاسی تاریخ سے آگاہی حاصل کریں کہ یہاں سے کھبی بھی باہر سے آنیوالا امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ میں اتخابی اور سیاسی ماحول ایم ایم اے کے لئے سازگار ہے تاہم قائدین کے غلط فیصلوں سے مخالفین فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کے رائے کو نظر انداز کیا گیا تو ائندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے اور سینئر کارکن اور ممتاز عالم دین مولانا شمس الحق کو اپنا آزاد امیدوار کھڑا کر سکتے ہیں۔اس مو قع پر ضلعی ، تحصیل اور یوسی امراء نے مولانا شمس الحق کے تائید اور باہر سے مسلط ہونیوالے امیدوار کے انتخابی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...