فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر456

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر456
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر456

  

ہم ان کی بات سن کر ہنسے اور جواب دیا’’دراصل ہمارے قبضے میں ایک جن ہے۔ جب ہم کان کھجاتے ہیں تو وہ فوراً حاضر ہو جاتا ہے اور کہتا ہے ’’کیا حکم ہے میرے آقا‘‘ ہم اس سے کہتے ہیں کہ فلاں شخصیت کے بارے میں خفیہ و ظاہرہ تمام معلومات فراہم کردو۔‘‘

وہ ’’بہتر ہے ‘‘ کہہ کر غائب ہو جاتا ہے۔ چند لمحے بعد نمودار ہوتا ہے اور ایک پلندا ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے۔

انہوں نے پوچھا’’تو کیا یہ سب تحریریں جنات کی لکھی ہوئی ہیں؟‘‘

ہم نے کہا’’جی نہیں۔ دراصل وہ جناتی زبان میں لکھی ہوتی ہیں۔شاید وہ انگلش میڈیم میں پڑھا ہوا جن ہے۔ اس لیے ہم اس کاآسان اور عام فہم اردو میں ترجمہ کر لیتے ہیں۔‘‘

وہ کہنے لگے’’گویا آپ کو یہ خیالات اور واقعات کہیں اور سے ملتے ہیں؟‘‘

ہم نے غالب کا یہ شعر انہیں سنا دیا۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں

غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر455 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان صاحب نے ہمیں یہ معلومات فراہم کیں کہ جب انہوں نے مدھو بالاکے بارے میں ہمارامضمون پڑھا اور یہ پتا چلاکہ مدھو بالا کے والد عطا اللہ خاں کا آبائی گھر پرانے شہرمیں ہے تو وہ اسکی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ پوچھتے ہوئے بالآخر ایک پرانے بوسیدہ مکان تک پہنچ گئے۔ آس پاس والوں سے تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ یہی کسی زمانے میں عطا اللہ خاں کا گھر تھا۔ بعد میں جب وہ بمبئی منتقل ہوگئے تو کافی عرصے تک یہ مکان ان کے رشتے داروں کی تحویل میں رہا پھر فروخت کردیا گیا۔ اب ایک صاحب اس مکان میں رہتے ہیں۔ انہیں صرف اتنا علم ہے کہ یہ مکان کسی زمانے میں فلم اسٹار مدھو بالا کے والد کاگھرتھا۔ وہ جوانی میں مدھو بالا کے فین تھے پھر فلموں میں دلچسپی ختم ہوگئی۔ ہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ گھر اب کافی خستہ حالت میں ہے۔ اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا ہے کہ کاش میرے پاس اتنا سرمایہ ہوتاکہ میں یہ مکان خرید کر مدھو بالا کی یادگار کے طور پر اسے وقف کر دیتا جہاں مدھو بالا اور اس کی فلموں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی جاتیں۔ ان کی فلموں کے پوسٹر وغیرہ سجائے جاتے۔ اب تو پرانی فلموں کے ویڈیو بھی آسانی سے مل جاتے ہیں۔َ مدھو بالا کی پرانی فلموں کے ویڈیو بھی آسانی سے مل جاتے ہیں۔ مدھو بالا کی پرانی فلموں کے ویڈیو بھی اس مکان میں رکھ دیئے جاتے اور ہفتے میں ایک یا دو روز ان ویڈیو فلموں کی نمائش کے لیے وقف کر دیئے جاتے۔

یہ صاحب مدھو بالا کے مداح ہیں۔وہ زمانہ طالب علمی میں فلموں کے رسیا تھے۔پاکستانی اور بھارتی فلمیں باقاعدگی سے دیکھا کرتے تھے۔ ہماری فلمیں بھی انہوں نے اسی زمانے میں دیکھی تھیں انہوں نے بتایا کہ فلم ’’کنیز‘‘ انہوں نے کافی عرصے بعد دیکھی تھی جب وہ فرسٹ ائیر کے طالب علم تھے۔

دراصل ہم سب جانتے ہیں کہ چالیس کی دہائی سے برصغیر میں فلموں کی مقبولیت کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔ سنہ پچاس کے بعد تو فلمیں دیکھنا ایک معاشرتی سرگرمی اورکلچر کا حصہ بن گیا تھا۔ تعلیم یافتہ لوگ، ان پڑھ خاندان ، طالب علم ، مرد و زن سبھی فلمیں دیکھا کرتے تھے اور ان کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں باہمی تبادلہ خیال کرتے تھے۔ یہ دور دراصل فلم کا دور تھا۔ جن لوگوں نے اس زمانے میں فلمیں دیکھی ہیں ان کی پسندیدہ فلموں کی کہانیاں، مکالمے اور گانے تک انہیں آج بھی یاد ہیں۔ فلموں کا معیار، موضوعات اور پیشکش کا اندازبہتر ہوتا تھا۔ اسلیے اس کا تاثر دیرپا ہوتا ہے۔ آج بھی ان کے ذہنوں پر ان فلموں کے نقوش موجود ہیں۔

ان کی اس بات سے ہمیں بیرون ملک سے آنے والی خاتون کی ٹیلی فونک فرمائش یاد آگئی جنہوں نے میناکماری کے بارے میں ’’کچھ اور‘‘ بیان کرنے کی فرمائش کی ہے۔

مینا کماری کوہم نے بذات خود کبھی نہیں دیکھا۔ فلموں ہی میں دیکھتے رہے۔ انکے بارے میں اخبارات و جرائد میں پڑھتے رہے۔ بمبئی جانے والے فلمی دوستوں سے انکے متعلق ’’آف دی ریکارڈ‘‘باتیں سنتے رہے جو ہمارے ذہن میں محفوظ ہوتی رہیں۔ شروع میں ہم نے میناکماری کی فلمیں دیکھی تھیں اور ان کے حسن، مکالموں کی اداکاری کے غمناک انداز اور اداکاری کے انوکھے انداز نے ہمیں ان کا مداح بنا دیا تھا۔ اس وقت ہم طالب علم تھے اور مینا کماری کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہ تھا سوائے اس کے کہ انہوں نے بہت کم عمرمیں چائلڈ اسٹار کے طور پر اداکاری کا آغاز کیا تھا۔

جیسا کہ ہم کئی بار بیان کرچکے ہیں۔ تقسیم برصغیر کے بعد کا دو ر دراصل فلموں کی بے پناہ مقبولیت کا دور تھا۔ اس زمانے میں جیسی فلمیں بنائی گئیں اب ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مصنف ، فلم ساز، ہدیات کار، موسیقار، ہنر مند اور فنکاروں کی ایک فوج ظفر موج تھی جو فلمی میدان جنگ میں برسر پیکار تھی۔ یہ لوگ صحت مند مقابلے کے قائل تھے۔ اپنی قابلیت، صلاحیت اور ہنر مندی سے دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ وسیع الظرف تھے۔ اس لیے ایک دوسرے کی صلاحیتوں کا برملا اعتراف بھی کرتے تھے۔ سن ۴۵ء سے ۸۰۔۱۹۷۹ء کے زمانے میں پاک و ہند میں جیسی فلمیں تخلیق کی گئیں اب ان کی مثال پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -