سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 3

سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا ...
سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 3

  

سلطان یہ دیکھ کر یک لخت اپنی نشست سے اُٹھ کھڑا ہوا اور حکم دیا کہ یہ مقابلہ بند کیا جائے ۔ مقابلہ تو ویسے بھی ختم ہوچکا تھا۔ سکندر، قاسم سے ذلت آمیز شکست کھا کر زمین پر اوندھے منہ پڑا مٹی چاٹ رہا تھا۔ مارسی نے سکندر کو اس حالت میں دیکھا تو خوشی سے پاگل ہوگئی ۔ کھیلوں کے اختتام پر سلطان مراد خان ثانی نے تمام شرکاء میں انعامات تقسیم کئے۔ اور سب کو خوب داد دی۔ لیکن جب قاسم کی باری آئی تو سلطان نے قاسم کو شانوں سے پکڑ کر بڑے غور سے دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا۔ 

سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’قاسم بن ہشام ! تمہاری شمشیر زنی قابل داد ہے۔ تم جیسے نوجوانوں کی سلطنت عثمانیہ کو اشد ضرورت ہے۔ عیسائیوں کا سب سے بہادر جرنیل ’’ہونیاڈے‘‘ ڈیڑھ لاکھ کی فوج لئے ہماری سرحدوں پر پہنچ چکا ہے۔ ’’ہونیا ڈے‘‘ کی شمشیر زنی کا مقابلہ تمہاری تلوار کر سکتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم ہماری تربیت یافتہ فوج ینی چری میں شامل ہوجاؤ۔ ہم تمہیں ینی چری کا ’’یک ہزاری سالار ‘‘ مقرر کرتے ہیں۔ ‘‘

سلطان کایہ فیصلہ قاسم کے لئے غیر متوقع تھا۔ وہ بری طرح سٹپٹا گیا۔ وہ تو محض چند دن گزارنے کے لئے ’’ادرنہ ‘‘ آیا تھا، اپنے بھائی طاہربن ہشام کے گھر۔ وگرنہ اپنے شہر مکہ میں اُس کے مصروفیات بہت زیادہ تھیں۔ بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال ، کھیتی باڑی اور مویشی۔۔۔ یہ سب کچھ سنبھالنا اکیلے قاسم کی ذمہ داری تھی۔ اُس کا بڑا بھائی طاہر پہلے ہی سلطان مراد خان ثانی کا ملازم تھا۔ طاہر عثمانی تربیت گاہ میں شمشیر زنی کا استاد تھا۔ شمشیرزنی اور پہلوانی قاسم کے موروثی اور خاندانی کھیل تھے۔ اُ س کا باپ ’’ہشام‘‘ حجاز کا نامی گرامی پہلوان رہ چکا تھا۔ قاسم یہاں اپنے بھائی سے ملنے کے لئے آیا تھا۔ وہ ابھی کل ہی یہاں ’’ادرنہ ‘‘ میں وار ہوا تھا۔ یہاں آکر اُسے سالانہ تہوار کا علم ہوا تو وہ بہت خوش ہوا اور اپنے بھائی طاہر کے ساتھ علی الصبح یہاں سٹیڈیم چلا آیا ۔ اور اب یہ اچانک افتاد جو اُس کے سر پر آپڑی تھی ، اُس سے سنبھالی نہ جا رہی تھی ۔ اُس نے تو سکندر کو تکبر کی سزاد ینے کے لئے اپنے بھائی کے مشورے سے اس مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ لیکن اب سلطان اسے مستقل طور پر یہاں ’’ادرنہ ‘‘ میں قیام کرنے کے لئے مجبور کررہا تھا۔ 

سلطان کی بات سن کر قاسم سکتے میں آگیا۔ قاسم کو خاموش کھڑا دیکھ کر سلطان نے پھر کہا۔ 

’’کیا تمہیں خوشی نہیں ہوئی نوجوان؟ابھی تم کم عمر ہو۔ اس لیے ہم نے تمہیں یک ہزاری سالار بنایا ہے۔ لیکن اگر تم اس عہدے سے خوش نہیں تو ہم تمہاری کمان میں پانچ ہزار بہترین سپاہی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔‘‘

اب تو جیسے قاسم گہرے خواب سے جاگ اٹھا۔ اس نے چونک کر سلطان کی جانب دیکھا اور پھر کسی قدر جھجکتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’ نہیں سلطان معظم! میں کسی عہدے کے لالچ کی وجہ سے خاموش نہیں۔ بلکہ میری خاموشی کی وجہ میرے والدین ہیں ۔ اپنے والدین اور مال مویشی کی دیکھ بھال کے لیے گھر پر میں اکیلا ہوں۔ جبکہ میرے بڑے بھائی ’’طاہر بن ہشام‘‘ آپ کے معسکر میں شمشیر زنی کے استاد ہیں۔‘‘

سلطان نے خاموشی سے قاسم کی بات سنی اور پھر بڑے نرم لہجے میں قاسم سے مخاطب ہوا۔ ’’مال مویشی یا گھر بار دنیاوی زندگی کا سہارا ہیں۔ نوجوان! ایک سچے مسلمان اور سپاہی کے لیے دنیاوی زندگی سے زیادہ آنے والی زندگی کی قدروقیمت ہے...............تم اپنے اندر کے سپاہی اور ماہر شمشیر زن کو مال مویشی اور کھیتی باڑی پر کیوں ضائع کرنا چاہتے ہو؟..............جہاں تک تمہارے والدین کا تعلق ہے ہم انہیں یہیں بلوالیتے ہیں.............ہم تمہارے بھائی طاہر سے بھی بات کریں گے۔‘‘

اب قاسم کے پاس کوئی چارہ نہ تھا ۔ اس نے خاموشی سے سر تسلیم خم کیا۔ سلطان ، قاسم کی رضا مندی سے بہت خوش ہوا اور اپنی بہترین فوج’’ینی چری‘‘ کے سپہ سالار کو بلا کر حکم دیا کہ وہ قاسم بن ہشام کی کمان میں پانچ ہزار سپاہیوں کا لشکر مقرر کردے۔قاسم کو حیرت تھی کہ سلطان نے محض اس کی شمشیر زنی دیکھ اتنا بڑا فیصلہ صادر کردیا۔ لیکن اس کے ساتھ وہ خوش بھی تھا۔ اس طرح وہ اپنی من پسند اور جنگجو یا نہ زندگی کا لطف اٹھا سکتا تھا۔ 

مارسی خواتین کے حصے میں اپنی نشست پربیٹھی سلطان اور قاسم کی کارگزاری دیکھ رہی تھی۔ اس کے دل میں قاسم کے نام کا شرارہ پھوٹ چکا تھا۔ یہ دراز قد اور خوش شکل عرب نوجوان سکندر کی فرعونیت کے لیے پیغام اجل بن کر آیا تھا ۔ چنانچہ ضروری تھا کہ مارسی اس پر نثار ہوتی..............وہ میٹھی میٹھی نظروں سے قاسم بن ہشام کا گندمی چہرہ دیکھ رہی تھی۔جب تک قاسم، سلطان کے پاس کھڑا رہا مارسی ان کی جانب متوجہ رہی۔ جونہی قاسم، سلطان سے الگ ہوا، مارسی کی نظریں اس کے قدموں کا تعاقب کرنے لگیں۔ وہ دور معززین شہر کی نشستوں پر اپنے بھائی کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ اب مارسی کے لیے اس اسٹیڈیم میں کوئی کام نہیں تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھی او ر باہر کی طرف چل دی۔

**

’’لڑکی ! تمہارے اطوار بگڑے جارہے ہیں۔ آج صبح تم نے پھر سکندر بیگ کے ساتھ بداخلاقی کا مطاہرہ کیا۔‘‘

مارتھا کے اس جملے پر مارسی کا منہ لٹک گیا۔ وہ کسی قدر پھنکارتے ہوئے لہجے میں بولی۔’’امی حضور ! آپ دل سے یہ خیال نکال دیجیے کہ میں سکندر بیگ کی دلہن بنوں گی...............مجھے آپ کا لاڈلا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔‘‘مارتھا غصے سے بولی۔

’’خبردار ! اگر کوئی الٹی سیدھی بات منہ سے نکالی تو .............بد بخت لڑکی! تو اپنی اوقات کیوں بھول جاتی ہے۔ سکندر بیگ البانیہ کا شہزادہ ہے اور عنقریب ہونے والا بادشاہ....................جبکہ ہم محض اس کے غلام۔ سکندر بیگ سے زیادہ تمہیں کوئی خوش نہیں رکھ سکے گا۔‘‘ 

’’واہ ! یہ کیا بات ہوئی؟ شہزادہ صاحب خود سلطان مراد خان ثانی کے یرغمالی ہیں۔ اور ان کے والد البانیہ کے بادشاہ’’جان کسٹریاٹ‘‘ سلطان مراد خان کے باجگداز ہیں.............. آپ ایک یرغمالی کے بارے میں کیسے کہہ سکتی ہیں کہ وہ البانیہ کا ہونے والا بادشاہ ہے؟‘‘ 

مارسی نے طنزیہ لہجے میں اپنی ماں کو جواب دیا۔ لیکن مارتھا یک لخت خاموش ہوگئی۔ وہ دوسری مرتبہ یہ نہیں کہنا چاہتی تھی کہ سکندر بیک البانیہ کا ہونے والا بادشاہ ہے۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی اور ابو جعفر کی بارہ سال پرانی سازش پوری ہونے میں بہت تھوڑے دن باقی رہ گئے ہیں۔ اور ایسے نازک موقع پر وہ پوری احتیاط کرنا چاہتی تھی۔ مارسی نے ماں کو خاموش کھڑے دیکھا تو غنیمت جانا اور تیز تیز قدموں سے اندر کی جانب دوڑتی چلی گئی۔ ادھر مارتھا ابھی تک اپنی سازش کے خیالوں میں گم تھی۔

مارتھا اور ابو جعفر نے سکندر بیگ کو پوری طرح اپنے جال میں پھانس رکھاتھا ۔ مارتھا کی نظروں کے سامنے سکندر کا بچپن گزرنے لگا۔ اسے وہ وقت اچھی طرح یاد تھا جب البانوی بادشاہ جان کسٹریاٹ کو سلطنت عثمانیہ کے سلطان مراد خان ثانی نے ذلت آمیز شکست سے دوچار کیاتھا................اس وقت مارتھا البانوی محل میں ایک کنیز کی حیثیت سے مقیم تھی۔ مارتھا جوان اور حسین ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین اور متحرک لڑکی تھی۔ محل کی کنیز بننے سے پہلے وہ ایک البانوی امیر سے محبت کا دھوکہ کھا چکی تھی۔ اس کی گود میں اپنے محبوب کی ایک سالہ بچی بھی تھی۔ البانوی امیر شروع شروع میں مارتھا کے ساتھ دل لگی کرتا رہا۔ لیکن جب مارتھا کی گود ہری ہوئی تو اس نے مارتھا کو بے عزت کر کے نکال دیا ۔اب مارتھا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ بادشاہ سے شکایت کرے۔ چنانچہ وہ جان کسٹریاٹ کے محل میں حاضر ہوئی اور بادشاہ کو اپنی روئیداد سنائی۔ لیکن جب بادشاہ نے البانوی امیر کا نام سنا تو اس خیال سے کہ صوبے میں بغاوت نہ پھیل جائے، امیر کو کچھ نہ کہا ۔ البتہ مارتھا کو اپنے محل میں کنیز رکھ لیا۔

(جاری ہے۔۔۔اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح