امریکہ کوپاکستان سے سرپرائز کی توقع 

امریکہ کوپاکستان سے سرپرائز کی توقع 
امریکہ کوپاکستان سے سرپرائز کی توقع 

  

افغانیوں کی نفسیات کو سمجھنا بڑا مشکل کام ہے۔ عید کے موقع پر افغان فوج اور طالبان کے درمیان خیر سگالی اور بھائی چارے کا جذبہ دیکھ کرپوری دنیا کو سرپرائز ملا تھا اور یہ اندازہ ہوا کہ افغان اور طالبان اپنی زبان کے اور وعدے کے پکے ہیں۔ کل تک کسی کو یہ گُمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ برسوں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے والے بغیر کسی رسمی یر تحریری معاہدہ کے عید کے موقعہ پر زُبانی دعودوں پر انحصار کرتے ہوئے کئی سالوں پر محیط دُشمنی کو بُلا کر ایک دوسرے سے عید ملیں گے اور خواتین جن کو طالبان کے دورِ حکومت میں کوڑوں کی سزا دی جاتی تھی یا اُنکو پردے کی خلاف ورزی کے ڈر سے گھر کی چار دیواری میں بند کر دیا جاتا تھا، وُہ خواتین طالبان کی سب زیادتیوں کو بھُلا کر طالبان کے سروں پر پگڑیاں سجائیں گی اور تین دن تک مسلل مُلک میں امن و امان قایم رہے گا۔لیکن تیسرے دن کے اختتام پر پھر سے دشمنی کی شروعات ۔۔۔ یہ بھی افغانیوں کے کلچر کا حصہ ہے لیکن اس وقت ہم افغانستان کے صدر ڈاکڑ اشرف غنی صاحب کی کاوشوں کا خیر مقدم کرتے ہیں جنہوں نے عید کے موقع پر افغان فوج ، پولیس، طالبان اور امریکی فوجوں کے ساتھ گُفت و شنید کرکے اِس عارضی سیز فائر کا اہتمام کر وایا۔ اُن کے اِس روئیے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وُہ دل سے افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں۔ وُہ قتل و غارت سے نفرت کرتے ہیں اور اپنے اور پڑوسی مُلک پاکستان کے دل سے خیر خواہ ہیں۔

عید کے موقعہ پر عارضی سیز فائر سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ اگر طالبان اور افغان فوج اور حکام مُلک میں امن قایم کرنا چاہیں تو وُہ اس مقصد کو حاصل کئے بغیر کسی ثالثی کے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اُن کو پاکستان، امریکہ، بھارت اور دوسرے ممالک کے سفارت کاروں کی ضرورت نہیں۔ اِس کے علاوہ، ابھی تک اُن فریقین میں اتنی سکت موجود ہے کہ وُہ فراخدلی کا مُظاہرہ کرتے ہوئے مُلک کے مُفاد میں ایک دوسرے سے اختلافات کو بھول سکتے ہیں۔ سب سے حیران کُن بات یہ ہے کہ وُہ ایک دوسرے پر اب بھی اعتماد کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے موقعہ پر بغیر کسی تحریری معاہدہ اور ضامن کے دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے خیر سگالی کے جذبے سے معاہدے کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اِس پر عملی طور پر عمل کرکے بھی دکھا دیا۔ واقعی افغانی لوگوں کی نفسیات کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ وقتی طور پر انکو تتر بتر کیا جاسکتا ہے۔ انکو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شکست سے دوچار کیا جا سکتا ہے لیکن افغان ایک بہادر قوم ہے جس سے عزم کو کسی قیمت پر کُچلا نہیں جا سکتا۔ ساری دُنیا گواہ ہے کہ انہوں نے روس کے فوجوں کو ناکو چبوا دئے تھے۔ اور اب امریکہ ان ہاتھوں سے افغانستان میں ہزیمت اُٹھا رہا ہے۔ لیکن اپنے غرور اور سُپر طاقت ہونے کی نخوت میں مدہوش ہونے کی وجہ سے اپنی شکست کو برملا تسلیم کرنے سے گُریز کرر ہا ہے۔ لیکن اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ اندازہ ہوگا کہ امریکہ افغانستان سے با عزت نکلنے کے لئے محفوظ راستے کی تلاش میں ہے۔ لیکن بد قسمتی سے اُسے محفوظ راستہ نہیں مل رہا۔ 

امریکہ کو پاکستان سے اُمید تھی کی پاکستان طالبان کو سمجھا بُجھا کر مذاکرات کی میز پر لے آئے گا۔ لیکن پاکستان کی راہ میں بھارت حائل ہے۔ جس نے افغانستان میں اپنے اثر ورسوخ کو بڑ ھانے کے لئے افغان حکومت اورا مریکی حکومتی کو بہکایا ہے۔ پاکستان کو دیوار سے لگانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ بلکہ امریکہ اور افغانستان کو حکومتوں کو یہ باور کر وایا ہے کہ پاکستان طالبان کے ذریعے طالبان کی شکل میں اپنی کٹھ پُتلی حکومت کرنا چا ہتا ہے۔

افغانستان امریکہ اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیوں کو ہوا دینے کے لئے بھارت نہ صرف نئے شوشے چھوڑتا ہے ۔ باالفاظِ دیگر، بھارت نے پاکستان کے خلاف سفارتی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اور وُہ آج کی تاریخ تک کامیاب بھی ہے۔ افغانستان میں ہونے والی ہر تخریبی کارروائی کی ذمہ داری افغان حکومت بڑی آسانی کے ساتھ پاکستان پر عائد کر دیتی ہے۔ پاکستان کے لئے قدرے نرم گوشہ رکھنے والے صدر اشرف غنی صاحب کو بھی بھارت نے اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ وُہ بھی پاکستان کی فوج اور حکومت کو افغانستان میں ہونے والی ہر ایک دہشت گردی کی کارروائی کا ذ مہ دار پاکستان کو ہی سمجھتے ہیں۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ کہ اِس سال کے اوائل میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر آگئے تھے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی افواج کو دی جانے والی ہر مالی مدد کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ جب تک کہ پاکستان امریکہ اور افغانستان کے ساتھ مخلصانہ تعاون نہیں کرتا اور اپنے مُلک سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم نہیں کرتا۔ غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے سفارتی اور غیر سفارتی سطح پر گُفت شنیدکا سلسلہ جاری کیا گیا اور ابھی تک امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مروجہ سطح پر بحال نہیں ہوسکے۔ تاہم جنرل باجوہ کی کوششوں سے اختلافات کی برف پگھلنا شروع ہوئی ہے۔ پاکستان کا مطالبہ تھا کہ افغاں اور امریکی حکومت پاکستان کے دشمنوں کو افغانستان سے نکالے یا اُنھیں پاکستان کے حوالے کر دے۔ کُچھ روز امریکہ کے ڈرون کے ذریعے حملہ کرکے مُلا فضل اور اُنکے چار محافظوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ ایک سر پرائز گفٹ ہے جو امریکہ اور افغانستان کی حکومت نے پاکستان کو دیاہے اور وُہ پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وُہ بھی ایسا ہی گفٹ امریکہ اور افغانستان کی حکو متوں کو دیں گے۔ 

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ