موت ایک اٹل حقیقت ہے تو ۔۔۔

موت ایک اٹل حقیقت ہے تو ۔۔۔
موت ایک اٹل حقیقت ہے تو ۔۔۔

  


موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، جب اسکا وقت آجائے تو چاہے بادشاہ ہو یا غلام؟ وزیر ہو یا حقیر، سفیر ہو یا مشیر ؟کسی کو نہیں بخشتی۔ چاہے زمین کی سات تہوں میں چھپ جائیں یاآسمان کی وسعتوں میں محفوظ ہوجائیں لیکن موت ہے کہ جب وقت آجائے آکر رہتی ہے،یہ اپنے اسباب خود پیدا کردیتی ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ موت خود زندگی کی سب سے بڑی محافظ ہوتی ہے کیونکہ جب تک موت نہیں آتی زندگی محفوظ رہتی ہے لیکن انسان بڑا بھلکڑہے، اپنی حفاظت کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کرتا ہے لیکن موت کاشکنجہ ہے کہ جب کسنے کاٹائم آجائے تو سب انتظامات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور ایک لمحہ لگتا ہے صرف ایک لمحہ اور سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔غرور، تکبر، حرص ، لالچ، گھمنڈ، دشمنی ،حسد، بغض ،جلنا اور عزت، وقار، نام ،عہدہ  اور باد شاہی یہ سب کہاں جاتا ہے ؟ انسان کی حیثیت ہی کیا ہے ؟مٹی سے بنا ہے ،مٹی میں دفن ہو کر مٹی ہو جاتا ہے، پانچ یا چھ فٹ کا انسان قبر میں جا کر بے نام و نشان ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔دنیا میں اکڑ کر چلنے والا ، اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا، دوسروں کو حقیر سمجھنے والا اوردنیا پر حکومت کرنے والا۔۔۔ قبر میں آتے ہی اس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ صرف اور صرف مٹی۔۔۔ 

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : ویڈیو گیلری


loading...