”مجھے کوئی فون نہیں آیا بلکہ اس جگہ سے درخواست آئی تو میں نے 6 دن کی اجازت دی اور زلفی بخاری کو کہا کہ ۔۔۔“ نگراں وزیرداخلہ اعظم خان میدان میں آ گئے ، زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے پر واضح اعلان کر دیا

”مجھے کوئی فون نہیں آیا بلکہ اس جگہ سے درخواست آئی تو میں نے 6 دن کی اجازت دی ...
”مجھے کوئی فون نہیں آیا بلکہ اس جگہ سے درخواست آئی تو میں نے 6 دن کی اجازت دی اور زلفی بخاری کو کہا کہ ۔۔۔“ نگراں وزیرداخلہ اعظم خان میدان میں آ گئے ، زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے پر واضح اعلان کر دیا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) نگراں وزیر داخلہ اعظم خان کا کہنا ہے کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے مجھے کسی نے فون نہیں کیا اور نہ ہی عمران خان سے رابطہ ہوا۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق نگراں وزیر داخلہ اعظم خان کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے مجھے کسی نے فون نہیں کیا اور اس حوالے سے عمران خان یا زلفی بخاری سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کی جانب سے سیکرٹری داخلہ کو انڈرٹیکنگ بھیجی گئی جس میں عمرے کی ادائیگی کے لیے ایک ماہ کی اجازت مانگی گئی تھی، سیکرٹری داخلہ نے مجھے ایک ماہ کی درخواست دی تاہم میں نے 6 دن کی اجازت دی اور زلفی بخاری کو کہا کہ آپ چھ دن میں واپس آ جائیں اور وہ واپس آ گئے۔

نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست نیب نے کی جب کہ وزارت داخلہ نے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا، کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنا طویل مرحلہ ہے اور کابینہ سے منظوری لینا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں بہت ساری رپورٹس غلط آئیں، وزیراعظم نے پوچھا میڈیا میں کیا چل رہا ہے مجھے بھی بتائیں لہذا وزیراعظم کو معاملے پر اپ ڈیٹ کر دیا تھا۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...