مالی سال 2019-20 کیلئے بلوچستان کا 419 ارب روپے سے زائد کا بجٹ ایوان میں پیش

مالی سال 2019-20 کیلئے بلوچستان کا 419 ارب روپے سے زائد کا بجٹ ایوان میں پیش
مالی سال 2019-20 کیلئے بلوچستان کا 419 ارب روپے سے زائد کا بجٹ ایوان میں پیش

  


کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)مالی سال 2019-20 کیلئے بلوچستان کا 419 ارب روپے سے زائد کا بجٹ ایوان میں پیش، بجٹ خسارہ 47 ارب روپے سے زائد ظاہر کیا گیا ہے،صوبائی وزیرخزانہ میر ظہور بلیدی نے بجٹ پیش کیا ۔

نجی ٹی وی کے مطابق مالی سال 2019-20 کیلئے بلوچستان کا 419 ارب روپے سے زائد کا بجٹ ایوان میں پیش کر دیا گیا ہے ، بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 126 ارب رکھے گئے ہیں، بجٹ میں غیر ترقیاتی بجٹ 291 ارب روپے رکھا گیا ہے، بجٹ خسارہ 47 ارب روپے سے زائد ظاہر کیا گیا ہے، بجٹ میں تعلیم کیلئے 60 ارب اور لا اینڈ آرڈر 44 ارب 70 کروڑ مختص کئے گئے ہیں ۔بلوچستان حکومت نے صحت کے شعبہ کے لیے 26 ارب اور پانی کے منصوبوں کیلئے 28 ارب روپے بجٹ میں  رکھے گئے ہیں، بجٹ میں صنعت اور توانائی کیلئے 19ارب 7 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،صوبائی بجٹ میں کھیل، ثقافت و سیاحت کیلئے 3 ارب 60 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔صوبائی وزیرخزانہ میر ظہور بلیدی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ لائیوسٹاک اور جنگلات کیلئے 2 ارب 98 کروڑ روپے بجٹ میں  رکھے گئے ہیں جبکہ  نئے مالی سال کے بجٹ میں غیر ملکی تعاون سے 7 ارب 56 کروڑروپے کے منصوبے بجٹ کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ  صوبے کی اپنی آمدنی 34 ارب جبکہ وفاق سے محصولات کی مد میں 319 ارب روپے بلوچستان کو ملیں گے، وفاق اور صوبے کے کل محصولات میں ملنے والی رقم 358 ارب روپے کی ہے ،صوبائی پی ایس ڈی پی 100 ارب 57 کروڑ روپےہے، وفاقی خصوصی ترقیاتی گرانٹ سے 18 ارب 21 کروڑ روپے کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔

دوسری طرف وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں کوئی پیسہ لیپس نہیں ہوا، حکومت نے ہر لحاظ سے عوامی بجٹ پیش کر کے صوبے کے عوام کو تحفہ دیا ہے، اپوزیشن سمیت کسی بھی حلقے کو نظر انداز نہیں کیاگیا، صوبائی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پانے کی بھر پور کوشش کریگی،بجٹ عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہے، صوبے کے ہر ضلعے میں سڑکوں، ہسپتالوں، سپورٹس کمپلیکس، سکول تعمیر کئے جائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوزیراعلیٰ بلوچستان  جام کمال خان نے کہا کہ ہم نے ہر لحاظ سے تاریخی بجٹ پیش کیا ہے جس میں صوبے کے عوام کی ضروریات کو پو را کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے،بجٹ سازی میں تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا گیا اور ایسا بجٹ تشکیل دیا گیا جو ہماری حال کی عکاسی اور مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے کام کر یگا، بجٹ میں تعلیم،صحت، امن وامان،پینے کے صاف پانی کی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے جبکہ حکومت نے معاشی حکمت عملی سے 100ارب روپے ترقیاتی مد میں رکھے ہیں جن سے سماجی بہتری میں مدد ملے گی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن نے ٹوکن احتجاج کیا لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ بلوچستان اسمبلی وفاق اور دیگر صوبوں جیسی ہنگامی آرائی کی صورتحال پیش نہیں آئی ہم نے ہر ضلع کو اسکی ضروریات کے مطابق ترقی دینے کی کوشش کی ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے انکا حلقہ نظر انداز کیاگیا ہے، ہم نے تمام حلقوں کو برابری کی بنیاد پر پلان دیا ہے اپوزیشن جب پی ایس ڈی کا بغور مطالعہ کریگی تو وہ بھی ہماری کوششوں کا اعتراف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو خدشہ تھاکہ ماضی کی طرح اس بار بھی انکے حلقے نظر انداز کئے جائیں گے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ جو لوگ آج اپوزیشن کے ووٹر ہیں وہ کل کو ہمارے ووٹر بھی ہوسکتے ہیں ہم نے صوبے میں سڑکوں کا جال بچھا کر اسے کھولنا ہے، ہر ضلع میں سپورٹس کمپلیکس بنا رہے ہیں،حلقوں میں سکول، ہسپتال سمیت بنیادی ضروریات بھی فراہم کی جائیں گے۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ