تلخئی حالات ابھی اور بڑھے گی

تلخئی حالات ابھی اور بڑھے گی

وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کے ارکان سے کہا ہے کہ وہ بجٹ منظوری کی ٹینشن نہ لیں اور اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہ آئیں،ہم بجٹ منظور کرا لیں گے۔اپوزیشن آپ کو کسی جگہ بولنے نہیں دیتی تو آپ بھی بولنے نہ دیں، اپنے موقف سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیں، اگر اپوزیشن احتجاج کرنا چاہتی ہے تو سو دفعہ کرے،عوام کی زندگی میں خلل ڈالا گیا تو قانون حرکت میں آئے گا، ڈرنا سیکھا ہے نہ کسی کی بلیک میلنگ میں آؤں گا، وزیراعظم نے کہا دُنیا میں کہیں بھی مجرموں کو پروٹوکول نہیں دیا جاتا،لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں کرپٹ عناصر اور مجرموں کو خاص پروٹوکول دیا جاتا ہے، وزیراعظم نے یہ باتیں کابینہ کے اجلاس میں کہیں، جہاں اپوزیشن کے احتجاج سے نپٹنے کے لئے حکمت ِ عملی تیار کی گئی۔

وزیراعظم کے حوالے سے گزشتہ تین دن سے ایسی ہی باتیں رپورٹ ہو رہی ہیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ اپوزیشن کے چوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے، ان کا پروڈکشن آرڈر جاری نہ کیا جائے قائد ِ حزب اختلاف کی تقریر نہ سُنی جائے، قومی اسمبلی میں یہ تاثر نمایاں رہا کہ وزراء اور سرکاری بنچ جس طرزِ عمل کا اظہار کر رہے اور جسے روکنے میں سپیکر بھی ناکام ہیں اس کا مظاہرہ وزیراعظم کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے، اب انہوں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ہدایت کر دی تو اس کا مطلب یہی ہے کہ مستقبل قریب میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الفاظ کی گولہ باری جاری رہے گی،اور اس گولہ باری میں کوئی رو رعایت نہیں کی جائے گی، جب اینٹ کا جواب پتھر ہی ٹھہرا تو پھر اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ جو دِل چاہا ایک فریق کہتا رہے اور پھر دوسرا فریق جس طرح چاہے جواب دیتا رہے اِس لئے اب یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آنے والے دِنوں میں ابھی تلخی ئ حالات اور بڑھے گی، ٹی وی چینلوں پر تو پہلے ہی سارے حجاب اٹھ چکے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وفاقی وزیر شادی جیسی نجی تقریبات میں صحافی کو تھپڑ مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور پھر یہ وضاحت بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ کسی چینل پر ہونے والے کسی پروگرام کا جواب ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب کسی اور چینل پر کسی دوسرے پروگرام کا جواب کسی دوسرے تھپڑ کی شکل میں ملے گا اور پھر علیٰ ہذا القیاس۔ اللہ بہتر جاتا ہے کہ اب اگلا تھپڑ کس کے گال پر پڑے گا اور تھپڑ کس کا ہو گا۔

ان حالات میں ملک کو درپیش سنجیدہ مسائل پر کون بات کرے گا، ”چور“اور”ڈاکو“ تو پہلے ہی جواب دینے کے لئے تُلے بیٹھے ہیں ایسے میں تصور کیا جا سکتا ہے کیا حالات ہوں گے۔اِس دوران ملک کے حالات نازک سے نازک تر ہو جائیں تو کسی کو کیا پروا ہے،قرضے دس مہینوں میں 5ہزار ارب لے لئے جائیں اور مزید قرضوں کے لئے معاہدے کئے جائیں۔ حکومت کی دانش و حکمت یہ راہ سمجھاتی ہے کہ یہ قرضے جو آج لئے جا رہے سب درست ہیں جو ماضی میں لئے گئے سب غلط تھے، ان سب قرضوں کا آڈٹ اور فرانزک آڈٹ ہو گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج جو قرضے لئے جا رہے ہیں، آنے والی کوئی حکومت ان کا اپنے انداز میں آڈٹ کرا رہی ہو گی اور نئے چور اور ڈاکو سامنے آ رہے ہوں گے سنا ہے بعض ”دیانتداروں“ نے بھی اپنی ”دیانتداری“ بالائے طاق رکھ دی ہے اورپر پرزے نکال رہے ہیں جلد اس سلسلے میں باتیں سامنے آئیں گی کہ انہوں نے کہاں کہاں اپنی امانت و دیانت کو مجروح کیا۔

سابق قرضوں کے بارے میں ایک موقف تو وہ ہے جو حفیظ شیخ نے بیان کیا ہے جو پیپلزپارٹی کے دور میں وزیر خزانہ تھے۔اُن کا کہنا ہے کہ وہ اُن قرضوں کا حساب دینے کے لئے تیار ہیں،اس لئے بہتر ہے کہ قرضہ کمیشن کام گھر ہی سے شروع کرے اس طرح8ہزار ارب روپے کا حساب ملنا تو دشوار نہیں رہے گا وہ جو بھی بتائیں گے وہ ماننا پڑے گا،کیونکہ موجودہ حکومت نے اُن کی صلاحیتوں کے پیشِ نظر ہی اُنہیں اب وزارتِ خزانہ کا انچارج بنایا ہے اور اُن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ خسارے میں جانے والے ادارے پہلی فرصت میں بیچنا چاہتے ہیں، جو سابق وزیر خزانہ اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے بیچنے کی کوشش کی تھی، جس کی راہ میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری رکاوٹ بن گئے اور انہوں نے وزیراعظم کو سٹیل مل فروخت کرنے سے روک دیا، حالانکہ وزیراعظم کا خیال تھا کہ سٹیل مل اگر ایک روپے میں بھی بک جائے تو مہنگا سودا نہیں، اُن کے اِس بظاہر غیر سنجیدہ بیان سے اُن کی ذہنی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جب یہ سٹیل مل اُن کے منصوبے کے مطابق ”ایک روپے میں بھی“ نہ بک سکی تو انہوں نے صدر پرویز مشرف کو کہا کہ اس چیف جسٹس سے جان چھڑانے کے لئے اُن کے خلاف ریفرنس بھیجا جائے۔

جنرل صاحب نے ریفرنس کے لمبے چکر میں پڑے بغیر چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس میں طلب کر کے اُن سے سیدھا سیدھا استعفا ہی طلب کر لیا، اور انکار میں جواب سُن کر ساتھی جرنیلوں سے کہا کہ ان سے استعفا لیں، جب ناکامی ہوئی تو سپریم جوڈیشل کونسل کو شوکت عزیز والا ریفرنس بھیج دیا جو سپریم جوڈیشل کونسل نے مسترد کر دیا اور سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کو بحال کر دیا،جنہیں دوبارہ بر طرف کرنے کے لئے پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی۔ اب حفیظ شیخ یہی سٹیل مل جلد از جلد بیچنا چاہتے ہیں،لیکن انہیں مشورہ دیا جا رہا ہے کہ ایسا نہ کریں دیکھیں وہ کیا لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ جب حفیظ شیخ پیپلزپارٹی کے قرضوں کا حساب دینے کے لئے تیار ہیں اور اسحاق ڈار مسلم لیگ(ن) دور کے9ہزار ارب کے قرضوں کا حساب دینے کے لئے آمادہ ہیں میاں شہباز شریف نے بھی کمیشن سے تعاون کا یقین دلایا ہے تو پھر کمیشن کا کام تو آسان ہو گیا۔ شہزاد اکبر اسحاق ڈار کو واپس لانے کے لئے لندن کے کسی مجسٹریٹ کی عدالت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں وزیراعظم کہتے ہیں کہ24ہزار ارب قرضہ ہے،جبکہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے دونوں حکومتوں نے دس سال میں 17ہزار ارب قرضہ لیا، کمیشن اسحاق ڈار سے سات ہزار ارب کا فرق بھی معلوم کر لے گا۔

ایک طرف تو قرضوں کے بارے میں یہ رویہ ہے اور دوسری جانب مزید قرضے لے کر لُڈیاں ڈالی جا رہی ہیں، اپوزیشن جس بجٹ کو منظور نہ ہونے دینے کی بات کر رہی ہے وہ اگر عددی اکثریت کی بنیاد پر یا کسی”کیمرہ ٹرک“کے ذریعے منظور بھی ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے مہنگائی کا جو عذاب شروع ہو چکا ہے اور اس میں روز بروز اضافہ متوقع ہے، حکومت کو کچھ اس کا علاج بھی سوچ رکھنا چاہئے۔ پتھر سے جواب دے کر سیاسی درجہ حرارت تو بڑھایا جا سکتا ہے،عوام کے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے،حکومت کے اس طرزِ عمل سے تو یہی لگتا ہے کہ عوام کے مسائل کا حل اس کی ترجیح نہیں،اگر ہوتی تو وفاقی وزراء یہ بیان نہ دے رہے ہوتے کہ پانچ ہزار لوگوں کو مار دینے سے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے انہیں شاید معلوم نہیں مرنا ہر کسی نے ہے، انہوں نے بھی جو پانچ ہزار کیا پانچ لاکھ بھی مار دیں تو موت سے نہیں بچ سکتے، اس لئے اس طرح کے غیر محتاط الفاظ زبان سے نکالتے ہوئے توبہ استغفار کرنی چاہئے۔ لیکن شاید اقتدار کا نشہ راہوار فکر ادھر جانے نہیں دیتا۔اللہ رب العزت اس طرزِ فکر و عمل سے بچائے۔

مزید : رائے /اداریہ