قومی ترقیاتی کونسل کا قیام؟

قومی ترقیاتی کونسل کا قیام؟

وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کئے جانے والے اہم فیصلوں میں ایک قومی ترقیاتی کونسل کے قیام کا ہے،کابینہ نے وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منظوری دی اور فوری طور پر نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق اِس کونسل کے چیئرمین وزیراعظم ہوں گے اور اس میں دوسرے اراکین کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی رکن نامزد کئے گئے ہیں،وزیر خارجہ، مشیر خارجہ، وزیر منصوبہ بندی، مشیر تجارت بھی کونسل کے مستقل رکن ہیں،جبکہ چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم دعوت پر اجلاس میں شریک ہونے کے اہل ہوں گے۔ اگرچہ اس کونسل کے اغراض و مقاصد کی تفصیل نہیں بتائی گئی تاہم واضح کیا گیا ہے کہ یہ کونسل بڑے قومی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے گی۔ منصوبے تیار اور ان کی منظوری بھی دی جائے گی، مقصد یہ بتایا گیا کہ مربوط ترقی کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔اس حکومتی اقدام پر سیاسی حلقوں میں تعجب کا اظہار کیا گیا کہ اب تک پیپلزپارٹی کی طرف سے 18ویں ترمیم کو ختم کرنے اور ملک میں صدارتی طرزِ حکومت کی حوصلہ افزائی کا الزام لگایا جا رہا تھا اور سنجیدہ فکر حلقے اس امر کا بھی جائزہ لے رہے تھے کہ وفاقی حکومت اہم قومی امور اور مسائل میں پارلیمینٹ کو بھی نظر انداز کر رہی ہے اور سارے فیصلے اس انداز میں ہو رہے ہیں،جن سے تاثر ملتا ہے کہ حکومتی ذہن صدارتی طرزِ عمل کی طرف مائل ہے،ایسی کونسل کے قیام کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ متعلقہ وزارتیں موجود ہیں، جو وفاق اور صوبوں میں بھی ہیں اور ان کا دائرہ کار بھی متعین ہے۔ اس کے باوجود ایک نئی کونسل بنا دینا ایک نئی مثال ہے۔نقاد حضرات کا کہنا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت اور خود وزیراعظم نہ تو پارلیمانی جمہوریت کے اصولوں پر عمل کر کے پارلیمینٹ کو اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی دوسرے فریقوں کو اعتماد میں لیتے ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز(تعلقات کار) قائم ہیں،اس کونسل میں بھی وفاقی حکومت ہی نظر آتی ہے، صوبائی وزرائے اعلیٰ کی شرکت وزیراعظم کی صوابدید ہے، اسی طرح تحقیقاتی کمیشن جو دس سالہ قرضوں کا حساب لے گا، بنا دیا گیا اور اسے ایکٹ آف پارلیمینٹ کے تحت کہا گیا، تاہم نہ تو قومی ترقیاتی کونسل کی تشکیل اور نہ ہی انکوائری کمیشن کے قیام کو پارلیمینٹ میں زیر غور لانے کی کوئی اطلاع ہے، معروضی حالات میں وفاقی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ قومی سطح کے فیصلوں کے حوالے سے اجتماعی فکر کا مظاہرہ کرے،اول تو ماورا فیصلے نہ ہوں اور اگر ضرورت ہو تو ان کو پارلیمینٹ میں پیش کر کے تائید اور منظوری حاصل کی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ