ورلڈکپ بھول جائیں، آگے کی تیاری کریں!

ورلڈکپ بھول جائیں، آگے کی تیاری کریں!
ورلڈکپ بھول جائیں، آگے کی تیاری کریں!

  


بات تو معروضی حالات اور منتخب اراکین کے حوالے سے کرنا چاہئے،جن کی وجہ سے ملک بتدریج انارکی اور کسی بڑے حادثے کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے، تاہم یہاں سیاسی ماحول میں تلخی بڑھتی جا رہی اور محاذ آرائی شدت اختیار کر رہی ہے اور مہنگائی نے عوام کی حالت دِگر گوں کر دی ہے، اس کے باوجود مایوسی گناہ ہے اور بہتری کی توقع رکھنا چاہئے اور کچھ آس بندھی بھی ہے،اِس لئے آج اس مسئلے پر بات کرتے ہیں جو پرانا ہے تاہم اب نئے حالات میں اس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے عوامی توجہ بجٹ سے ہٹ گئی ہے اور اب ہر شہری اِس حوالے سے سوچ اور بات کر رہا ہے،اور یہ ہے ورلڈکپ ٹورنامنٹ کے میچ میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شکست جو کچھ زیادہ باعزت بھی نہیں ہوئی۔

بلاشبہ کھیل تو کھیل ہے اور اسے اسی حوالے سے دیکھنا چاہئے لیکن یہاں پاک بھارت تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے دونوں طرف کے میڈیا نے میچ کو میدانِ جنگ بنا دیا تھا اور بین الاقوامی سرحد کے دونوں طرف لوگ مرنے مارنے کی بات کرنے لگے تھے اور جہاں یہ میچ ہوا وہاں کی کیفیت کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے،چنانچہ جب پاکستان کی ٹیم ہاری تو اثرات بھی اسی حوالے سے مرتب ہوئے اور اب تنقید بھی کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے۔

پاکستان نے انگلینڈ سے میچ جیتا تو مَیں نے اسی کالم میں اپنی ٹیم کے حوالے سے کمزوریوں اور خوبیوں کی نشاندہی کی تھی،عرض کیا تھا کہ کپتان سرفراز نفسیاتی دباؤ میں ہیں اور وہ اچھی قیادت کے اہل نہیں،یہ بات سابقہ ریکارڈ کی وجہ سے کہی کہ اس جیت تک وہ مسلسل گیارہ بار شکست سے دوچار ہو چکے تھے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی تاریخ میں ایک برا باب رقم کیا تھا اب بقول میڈیا روایتی حریف سے شکست چیخ و پکار بن گئی ہے، حالانکہ یہ ایسے روایتی حریف ہیں،جو آئی سی سی کے پروگرام پر بھی عمل نہیں کرتے اور بھارت، پاکستان کے ساتھ سیریز نہیں کھیلتا۔ بین الاقوامی مقابلہ پر سامنے آتی ہے، جیسے دو سال پہلے چیمپئن ٹرافی میں ہوا اور اب ورلڈکپ میں آمنا سامنا ہوا ہے۔دو سال قبل شاہین فتح یاب ہوئے تو اب بھارتی جیت گئے ہیں۔ یوں حساب برابر ہوا،لیکن ایسا نہیں کہ وہ الگ ٹورنامنٹ تھا اور یہ عالمی کپ ہے،اس بارے میں ہم نے بھارت سے مسلسل ہارنے کا بھی ریکارڈ قائم کر دیا اور ساتویں بار ہارے ہیں۔

اب کی شکست نے تنقید کے بہت بڑے دروازے کھول دیئے اور روایتی طور پر ٹیم میں اختلافات کی بات بھی ہو رہی ہے،حالانکہ میرے خیال میں ایسی بات نہیں یہ بھی سرفراز احمد کی اپنی خفت ہے، جو اس نے کھلاڑیوں کو بُرا بھلا کہہ کر مٹانے کی کوشش کی، ورنہ اسی ٹیم اور انہی کھلاڑیوں کے ساتھ انگلینڈ سے میچ جیتا جس نے اسی ٹیم کو دو سیریز میں وائٹ واش کر دیا تھا،اِس لئے بات کھیل اور کھیل ہی کی حکمت عملی والی ہونا چاہئے، مجھے یہ عجیب لگا کہ سرفراز نے عماد کو کہا کہ اسے کپتان نہیں بننے دوں گا،اِس لئے کہ عماد ابھی جونیئر ہے اور ٹیم میں بابر اعظم بھی موجود ہے، جہاں تک محمد حفیظ اور شعیب ملک کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی کہہ چکے ہوئے ہیں کہ ٹورنامنٹ کے فوراً بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ یوں بھی ان کی قیادت تو پہلے ہی مکی آرتھر سے مل کر سرفراز احمد کھڈے لائن لگا چکے تھے، ان دونوں کی تو سلیکشن بہت مشکل ہوئی ورنہ وہ ٹیم کا حصہ ہی نہیں تھے،اِس لئے قیادت کی سازش سے ان کو بھی باہر ہی نکال دیں تو بہتر ہے۔ اگر جائزہ لینا ہے تو کھیل اور میدان میں عمل کے حوالے سے لیں۔

یہ میچ دیکھ کر واضح طور پر اندازہ ہو رہا تھا کہ بھارتی ٹیم کمبی نیشن میں بہتر،اس میں پانچ تجربہ کار بلے بازوں کے ساتھ چار آل راؤنڈر اور چار ہی سپیشلسٹ باؤلر بھی تھے ان میں دو فاسٹ اور دو سپن باؤلر ہیں۔یوں اس ٹیم کی پوزیشن بہتر تھی، پھر وہ ایک مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کھیلے جس کی وجہ سے شکھیر دھون اور بھونیشور کی کمی بھی متاثر نہ کر سکی، شائقین کرکٹ نے دیکھا کہ بھارتی کھلاڑیوں نے محمد عامر کو بہت سنبھل کر کھیلا کہ اس سے نفسیاتی دباؤ میں بھی تھے،عامر نے پہلے چار اوور میں صرف نو رنز دیئے تھے، اوپننگ کھلاڑیوں نے دوسری طرف سے حسن علی کو اٹیک کیا اور اسے جم کر باؤلنگ نہیں کرنے دی۔اگر سرفراز حفیظ اور ملک کو ایک ایک اوور کے بعد تبدیل کر سکتا تھا تو حسن علی کوبھی دو اوور کے بعد تبدیل کر کے وہاب ریاض یا عماد وسیم کو آزما سکتا تھا، اسی طرح اگر عامر کے چار اوور ہی بچانا تھے تو اسے پہلے چار کی بجائے پانچ یا چھ کرا لیتا کہ شاید اس طرح اوپننگ جوڑی ٹوٹ جاتی، اب آپ کو سرفراز احمد کی باڈی لینگویج پر بھی غور کرنا ہو گا وہ سست تھا، کھلاڑیوں پر ناراض ہو رہا تھا، فیلڈ پلیسنگ بھی درست نہیں تھی، کپتان تو مخالف کھلاڑی کے کھیل کے حوالے سے فیلڈر کھڑے کرتا ہے جیسے اوول ٹیسٹ میں مرحوم عیدالحفیظ کاردار نے کیا، ٹام گریونی کھیلنے آیا تو ایک ایسی تبدیلی کی کہ کمنٹیٹر بھی حیران تھے، لیکن ٹام گریونی اسی فیلڈر کے ہاتھوں کیچ ہوا،اب اگر بیٹنگ ہی کا مسئلہ ہے تو محترم نے خود کیا کِیا، اس کی اپنی کپتانی میں کوئی ایسی اننگ بتا دیں جو میچ وننگ اور کپتان والی اننگ ہو۔

جہاں تک سرفراز کی طرف سے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کے دفاع کا تعلق ہے تو یہ بھی عذر گناہ والی بات ہے۔ موسمیات والے مسلسل بارش کی پیش گوئی کر رہے تھے اور بارش زدہ میچ میں ہمیشہ پہلے بیٹنگ کرنے والا فائدہ میں رہتا ہے، جیسے 1992ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو جنوبی افریقہ کے خلاف فائدہ ہوا،جنوبی افریقہ کو بارش کے باعث میچ کے آخری اوور میں ناممکن العمل سکور کرنے کا موقع دیا گیا اور پاکستان کرکٹ ٹیم جیت گئی اور سیمی فائنل کا موقع مل گیا، پھر ٹیم چیمپئن بن گئی جو پہلی اور اب تک آخری بار ہے۔ اگر بارش نہ ہوتی تو جنوبی افریقہ جیتتا، پاکستان کرکٹ ٹیم گھر آ جاتی۔ یوں سرفراز نے اس حکمت عملی کو بھی مدنظر نہ رکھا اور یہ بھی نقصان ہوا۔

اب حالات کا ٹھنڈے دِل سے جائزہ لینا چاہئے، ماہرین لاکھ کہیں ابھی چانس ہے، مَیں یہی کہتا ہوں کہ اب بھی غلط توقعات وابستہ نہ کریں، بلکہ یہ سوچ لیں کہ اور کسی سے نہیں تو نیوزی لینڈ سے جیتنا ضرور مشکل ترین ہو گا۔ اگرچہ جنوبی افریقہ بھی ہرانے کی اہلیت رکھتا ہے اور اب تو بنگلہ دیش بھی خطرناک ٹیم ہے،اِس لئے پہلے ہی سے صبر کر لیں۔

جہاں تک بورڈ کا تعلق ہے تو ایسا پہلی بار نہیں ہو گا، ہر ٹورنامنٹ کے بعد کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اب بھی ایسا ہو گا، اور کم از کم اس بار بورڈ کے اندر بیٹھے اس مافیا کی بات تو نہ مانی جائے،جس کے پاس سرفراز کی پرچی ہے، مکی آرتھر اور اظہر محمود سمیت باقی مینجمنٹ کی فراغت کی بھی ضرورت ہے، کہ مکی آرتھر وہ ہے جس نے کامران اکمل، اظہر علی، عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسے کھلاڑیوں کا کیریئر سوچ سمجھ کر تباہ کیا، باؤلنگ میں وہاب ریاض حسن علی کو ریسٹ دے کر حسنین اور شاہین آفریدی کے ساتھ شنواری پر توجہ دینا ہو گی۔ حفیظ اور ملک کا متبادل بھی موجود ہے غور اور میرٹ کی ضرورت ہے، بھول جائیں ورلڈکپ سے آگے کی تیاری کریں۔

مزید : رائے /کالم