بجٹ، ٹیکس اور مہنگائی

بجٹ، ٹیکس اور مہنگائی
بجٹ، ٹیکس اور مہنگائی

  


بجٹ ہر سال آتا ہے اور الفاظ کا ہیر پھیر گورکھ دھندہ ہوتا ہے جس میں بڑے بڑے دعوے ہوتے ہیں اور ہر بجٹ میں اپوزیشن حکومت مخالفین سپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہوتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں۔ مراعات یافتہ لوگ اپنی اپنی پارٹیوں، لیڈروں کا ساتھ دیتے ہیں چونکہ پاکستان میں موجودہ اپوزیشن پندرہ بیس سال سے برسرِ اقتدار رہ چکی ہے بلکہ پی پی پی صوبہ سندھ میں اب بھی حکمران ہے اور موجودہ اپوزیشن میں تقریباً 60 سالوں کا مراعات یافتہ طبقہ شامل ہے۔پتہ نہیں پنجاب کے 40 ترجمان اور وفاقی حکومت کے ترجمان کس کی ترجمانی کر رہے ہیں یا صرف اپنے ناموں کے ساتھ ترجمانوں کا لیبل لگا کر مراعات حاصل کر کے موج کر رہے ہیں۔ عوام کو صحیح صورت حال کیوں نہیں بتا رہے ابھی ماہِ رمضان ختم ہوا ہے اس کے دوران مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکالی تھیں اور اب بجٹ آ گیا ہے مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے۔ ملازمین کو اضافی تنخواہیں ملی نہیں لیکن دوکانداروں نے مہنگائی کر دی ہے۔

اب سارا سال مہنگائی، بے روزگاری، غربت کے مارے عوام روتے دھوتے گزاریں گے پٹرول مہنگا، گاڑیاں مہنگی غرضیکہ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہر سال کی طرح عوام کو کوئی فائدہ حاصل ہوگا اور نہ ان کے چھوٹے بڑے مسائل حل ہونے کی کوئی خاطر خواہ امید ہے۔ موجودہ بجٹ میں جہاں ٹیکسوں کی بھرمار کر دی ہے وہاں ایک مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 17500 روپے آج کے مہنگے ترین دور میں دو وقت کی روٹی بھی نا ممکن معلوم ہوتی ے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصداور 5 فیصد اضافہ مذاق ہے اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات ہے پھر کم وسائل اور زیادہ مسائل خود کار طریقے سے عوام کو چوری، لوٹ مار، دھوکہ دہی، فریب، ملاوٹ، گراں فروشی اور سنگین ترین خطرناک و قابل مذمت جرائم میں مبتلا کرتے ہیں متحرک و معاون ثابت ہوتے ہیں کوئی بھی انسان اپنی اولاد اور خونی رشتوں کو بھوکا، ننگا، بلکتا، سسکتا اور مصائب و آلام اور آزمائش میں مبتلا نہیں دیکھ سکتا اس طرح معاشرہ مختلف جرائم کی آماجگاہ بن جاتا ہے آج ہمارا معاشرہ اس کی منہ بولتی تصویر ہے جس میں غربت بے روزگاری افراط زر نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور جس کے لئے ہماری کسی حکومت نے کوئی سنگ میل طے نہیں کیا۔ عوام سال بھر مہنگائی کے طوفان میں گھرے رہتے ہیں کبھی گھر کا سربراہ حالات سے لڑتے لڑتے خودکشی کر لیتا ہے تو کبھی کوئی ماں خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے لخت جگر کا گلا گھونٹ کر اسے بھوک پیاس کی تکالیف سے آزاد کرا کے ہمیشہ کی نیند سلا دیتی ہے عجیب نظام ہے اس ملک کا یہاں امیر زادے کھاتے پیتے فوڈ پوائزن میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو غریب روٹی کو ترستے سسکتے، بلکتے جان دیتا ہے۔

ہر بجٹ میں وزیر مشیر یہ راگ الاپتے ہیں کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے یہ حکومتی لوگوں کی خام خیالی بلکہ غلط فہمی ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہر چیز پر ٹیکس دیتے ہیں بار بار ہر مہینے ہر روز ٹیکس دیتے ہیں، بجلی کے بل، ٹیلیفون کے بل، پانی کے بل، موبائل فون پر ظلم ٹیکس، گیس کے بل کھانے پینے کی تمام اشیاء، کپڑوں کی خریداری، پٹرول ڈلوانے پر، اسلحہ لائسنس، ڈرائیونگ لائسنس گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس، ہر سال اپنی دکانوں پر ٹیکس، میڈیسن پر ٹیکس، ہوٹلوں میں کھانے پر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے سرمائے کو بے شمار لوگ عیاشی اور موج میلے پر خرچ کرتے ہیں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے اصل صارف، متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں سرکاری سطح پر ان کا کوئی نمائندہ ہے نہ غیر سرکاری سطح پر ان کے حقوق کے لئے سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے یہاں قائم صارفین کی انجمنوں کا عوام سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی حکومت یا میڈیا میں ان کا کوئی اثر ہے۔

اس وقت قیمتیں عام صارفین کے بس سے باہر ہیں دو تین بچوں پر مشتمل خاندان کے لئے اپنے گھر کا بجٹ بنانا بہت مشکل ہے جو شخص مزدور یا ملازم 17500 روپے کا ہے اس کے لئے اپنی سفید پوشی برقرار رکھنا نا ممکن ہو گیا ہے اشیاء صرف کے ساتھ ساتھ یوٹیلٹی بلز نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور تسلی بخش اقدامات کرے بصورت دیگر یہ تمام صورت حال کسی بھی سماجی بحران، معاشرتی طوفان یا عوامی انقلاب کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے حکومت کے لوگ کب تک سابقہ حکومتوں کے ذمے تمام معاشی تباہی لگائیں گے عوام کو ریلیف چاہئے سرکاری خرچے کم کئے جائیں جو عوام کو نظر آئیں۔

مزید : رائے /کالم