فرعونوں کی سرزمین کا پہلا منتخب صدر

فرعونوں کی سرزمین کا پہلا منتخب صدر

سال2011ء میں مصری عوام اس وقت کے آمر حسنی مبارک کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے قاہرہ کے تحریر اسکوائر سے شروع ہونے والے پولیس کے بہیمانہ تشدد، آمرانہ قوانین،انتخابی دھاندلی، سیاسی سنسر شپ، کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی اور کم اجرت کے خلاف احتجاج کی یہ چنگاری دیکھتے ہی دیکھتے پورے مصر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نے حسنی مبارک کو صدارت کے منصب سے اتار نے کا مطالبہ کیا، مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے پر تشدد تصادم میں کم از کم846 افراد جان بحق اور6000سے زائد زخمی ہوئے۔25 جنوری 2011ء کو شروع ہونے والے احتجاج کے اڑھائی ہفتے بعد 11فروری2011ء کو نائب صدر عمر سلیمان نے حسنی مبارک کے استعفیٰ کا اعلان کیا اور اختیارات سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز کے حوالے کر دیئے، جس کے بعد کونسل نے 13فروری2011ء کو ملک میں آئین کی معطلی کا اعلان کیا،پارلیمان کو تحلیل کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ فوج اقتدار چھ ماہ تک اپنے پاس رکھے گی (جب تک الیکشن نہیں ہو جاتے)۔ سابق کا بینہ بشمول وزیر اعظم احمد شفیق کونئی حکومت کے آنے تک نگران قرار دیا گیا۔حسنی مبارک کے خلاف انقلاب اور سپریم کونسل کے اقتدار کے بعد اخوان المسلمون زبردست کامیابی کے ساتھ اقتدار میں آئی اور جون 2012ء کوڈاکٹر حافظ محمد مرسی کو بطور صدر منتخب کیا۔

ڈاکٹر حافظ محمد مرسی جدید مصر کی تاریخ کے پہلے جمہوری صدر تھے،لیکن ان کا یہ اقتدار زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکا۔ ڈاکٹرحافظ محمد مرسی نے مصری قوانین کو اسلامی قوانین میں تبدیل کرنے کے لئے کام شروع کر دیا تھا اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ آئندہ کوئی آمر مصر کے عوام کے حق حکمرانی پر شب خون نہ مارے، یہ وہ فیصلے تھے جو مرسی کے تختہ الٹنے کی بڑی وجہ بنے۔فوجی اور سیکولر اسٹیبلیشمنٹ کی پشت پناہی پر 28جون2013ء کو محمد مرسی کے خلاف احتجاج شروع ہوا، جس کو بہانہ بنا کر اس وقت کی مصری فوج کے سربراہ جنرل سیسی نے صدر مرسی کو مسائل حل کرنے کے لئے 18گھنٹوں کا وقت دیا اور دھمکی دی کہ بصورت دیگر وہ کوئی اور راستہ اختیار کریں گے۔ تاہم محمد مرسی نے اس الٹی میٹم کو رد کر دیا اور فوج کی بات ماننے کی بجائے اپنی حکومت جانے کو ترجیح دی۔ 3جولائی 2013ء کو مصری فوج نے ان کے خلاف بغاوت کی اور ان کے وزیر دفاع جنرل عبدالفتح السیسی کی سربراہی میں ان کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا۔ انہیں ان کے سرکردہ وزراء سمیت گرفتار کرکے پس دیوار زندان کر دیا گیا۔

فوجی سربراہ کے صدر مرسی کو معزول کرنے کے فیصلے کے خلاف اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سخت احتجاج کیا اور انہوں نے قاہرہ میں دو مقامات پر قریباً ڈیڑھ ماہ تک دھرنے دیے رکھے۔ ان دھرنوں کے خلاف مصری فورسز نے14اگست2013ء کو سخت کریک ڈاؤن کیا اور اخوان المسلمون اور دوسری جماعتوں کے چھ، سات سو کارکنان کوتشدد آمیز کارروائیوں میں ہلاک کر دیا، ہزاروں افرادکو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کر دیا گیا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد ایک سال کے عرصے میں کم سے کم40ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ بعد میں ان کے خلاف مصری عدالتوں میں غداری اور دوسرے الزامات میں اجتماعی مقدمات چلائے گئے۔

قاہرہ کی ایک فوجی عدالت نے جون 2015ء میں ڈاکٹر محمد مرسی کو 2011ء کے اوائل میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں ایک جیل توڑنے کے مقدمے میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اسی مقدمے میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع، نائب مرشد عام خیرت الشاطر، سینئررہنماؤں محمد البلتاجی اور محمد عبدالعاطی کو بھی سزائے موت سنائی تھی، اس مقدمے میں تیرہ دیگر مدعا علیہان کو ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ مصری عدالتوں کے ان فیصلوں کے خلاف عالمی سطح پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا، اقوام متحدہ نے تب ایک بیان میں کہا تھا کہ ”اس طرح تھوک کے حساب سے سزائے موت سنانے کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی“۔

ڈاکٹرحافظ محمد مرسی نے سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کی، جسے مسترد کر دیا گیا۔ مرسی پر قطر کو قومی راز دینے کے الزام میں 25سال قید کی سزا سنائی گئی اور دیگر جرائم میں 15سال کی اضافی قید کا اعلان بھی کیا گیا۔ تین سال قبل15نومبر 2016ء کو مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کو سنائی جانے والی موت کی سزا ختم کر دی تھی، لیکن ان کے خلاف دیگر مقدمات آخر ی دم تک زیر التوا رہے۔جیل کی چھ سالہ اسیری کے دوران انہیں نیند کے لئے صرف خالی فرش میسر رہا اور اہل ِ خانہ سے بھی چند ملاقاتیں ہی نصیب ہوئیں۔ڈاکٹرحافظ محمد مرسی کے الفاظ رہتی دنیا تک آمروں اور استعماری و سامراجی طاقتوں کے خلاف اعلان حق کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ”ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی رضا ہے،ہمارے لیڈر محمدؐ ہیں،ہمارا آئین قرآن ہے،جہاد ہمارا راستہ ہے، اللہ کی خاطر جان دینا ہماری سب سے عزیز خواہش ہے۔

مزید : رائے /کالم