یادِ ماضی عذاب ہے یا رب؟

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب؟
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب؟

  


کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب الیکٹرانک میڈیاکا وجود نہیں تھا۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن کی آمد 1964ء میں ہوئی۔ اس سے پہلے، ریڈیو، میڈیائی عہد کا تاجدارِ عالم سمجھا جاتا تھا۔ اس ریڈیو نام کے الیکٹرانک آلے نے بھی تدریجی ترقی کی منزلیں آہستہ آہستہ طے کیں۔ہمارے محلے میں صرف چند لوگوں کے پاس ریڈیو سیٹ ہوا کرتے تھے۔ مجھے بڑے شہروں کا تو علم نہیں لیکن میرا مولد پاک پتن چونکہ ایک تحصیل ہیڈکوارٹر تھا، اس لئے اس کے گلی کوچے اور محلے بھی قدیم ثقافتی روایات کے امین تھے۔ صاحبِ ریڈیو ہونا کسی بھی صاحبِ خانہ کی امارت اور ماڈرن ازم کی نشانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔اول اول ہمارے گھر میں بھی یہ ’نشانِ امارت‘ موجود نہ تھا۔ اس کی وجہ میرے خیال میں مالی پسماندگی تھی جو نشاناتِ امارت سے نجانے کیوں اللہ واسطے کا بیر رکھتی ہے۔ یہ پاکستان بننے کے بعد کے اولین برسوں کی بات ہے۔ ہمارے کلاس فیلوز ریڈیو کو ایک ایسا آلہ سمجھتے تھے جس میں سنے جانے والے ناچ گانے اور ڈرامے (ریڈیو ڈرامے) تقریباً فحاشی شمار ہوتے تھے۔ اس قسم کے لایعنی خیالات اس دور میں ہر گاؤں اور قصبے کے متوسط گھرانوں میں عام پائے جاتے تھے۔ہمارا خاندان چونکہ ایک متوسط گھرانہ تھا اس لئے ان کٹر ”اسلامی افکار“ پر زیادہ ایمان نہیں رکھتا تھا اور جب والد محترم ایک دن ایک بڑا سا ریڈیو سیٹ خرید لائے تو ہم سب بچوں نے اپنے خاندانی تفاخر کی وجہ سے محلے کے دوسرے کلاس فیلوز کو نجانے کیوں دقیانوسی اور غریب سمجھنا شروع کر دیا۔

ڈرائنگ روم تو ایک جدید لفظ ہے ہمارے بچپن بلکہ لڑکپن تک بھی اسے ”بیٹھک“ کہا جاتا تھا۔ اس ریڈیو سیٹ کا نام PYE تھا اور یہ اتنا بھاری تھا کہ کوئی نابالغ بچہ اس کو اکیلا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس کے اندر 15،20موٹی اور بھاری شیشے کی ٹیوبیں، دو عدد سپیکر اور تاروں کا ایک جال سا تھا جو لکڑی کے بنے اس ریڈیو سیٹ کو بھاری بھرکم بنا دیتا تھا۔ بیٹھک میں جو سامانِ آرائش رکھا جاتا ہے اس میں فریم کی ہوئی دیواری تصویریں اور اِدھر اُدھر رکھی چھوٹی بڑی خوبصورت میزوں پر دھرے ڈیکوریشن پیسوں کے علاوہ یہ ریڈیو سیٹ بھی رکھا رہتا تھا۔ ہمارے مہمان آتے تو ظرفِ مکاں کی آرائش و زیبائش کے ساتھ ظرف زماں کے اس ترجمان پائی ریڈیو سیٹ کو بھی دیکھتے تو دل ہی دل میں ہماری ”امارت اور ماڈرن ازم“ کے قائل ہوتے نظر آتے۔ ہم اپنے بزرگوں کے حسب الحکم گرمیوں کے موسم میں شیشے کے گلاسوں میں شکنجین بنا کر جب مہمانوں کو پیش کرتے تو گلاس میں برف کے چھوٹے چھوٹے تیرتے ٹکڑے اور لیموں کی باریک باریک قاشوں کو اوپر نیچے بغل گیر ہوتے دیکھ دیکھ کر صرف منہ میں پانی بھر کر رہ جاتے۔ بدقسمتی سے ہمارا گلا شروع ہی سے Tenderتھا اور کوئی بھی تُرش چیز Accept نہیں کرتا تھا۔ ہمارے دوست تھوک کے حساب سے کچے آم، املی،لیموں، سنگترے اور مالٹے کھا کر جب ان کے ذائقوں کی تعریف کرتے تو بڑی کوفت ہوتی۔ بارہا ہم نے ان کی پیروی کی اور بارہا ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا۔

جب کوئی زیادہ معتبر اور زیادہ بااثر مہمان آتا تو ہمیں بازار بھیج دیا جاتا کہ جاؤ اور سوڈے کی بوتلیں خرید لاؤ…… ایک دو بار تو دکاندار نے پوچھا :”کیا گھر میں کوئی بیمار ہے؟…… خیر تو ہے؟……“یعنی سوڈا واٹر کی بوتل، بیماروں کا علاج سمجھی جاتی تھی۔ ہر بوتل کی گردن میں گول شیشے کا ایک ماربل بھی ٹِکا ہوتا تھا۔ اس پر انگوٹھا رکھ کر جب والد صاحب اوپر سے مکا مارتے تو ایک خفیف سے دھماکے کی آواز کے ساتھ بوتل کے پانی کا اوپر کا حصہ چھینٹوں کی شکل میں اردگرد گر جاتا، جو اس بات کی نشانی ہوا کرتا تھا کہ بوتل کا پانی تازہ ہے، باسی نہیں۔پھر اگلا قدم والدین نے یہ اٹھایا کہ پائی کی جگہ گرنڈگ ریڈیو بیٹھک کی زینت بن گیا۔ پائی ایک برطانوی سیٹ تھا اور گرنڈگ جرمن ساختہ تھا۔ اس میں اگرچہ ٹیوبیں تھیں لیکن اس کا حجم اور وزن پائی سے ایک چوتھائی تھا۔ تاہم سپیکروں کی آواز پائی سے دگنی تھی۔ ایک اور اضافہ یہ بھی تھا کہ اس میں سبز رنگ کی ایک چھوٹی سی لائٹ جلتی رہتی جو ریڈیو کے آف / آن ہونے کی نشانی تھی۔ اس کی شارٹ ویوز (Short Waves) 9سے شروع ہوتی تھیں اور 11،13،15،17،19سے ہوتی ہوئی 75تک جاتی تھیں اور میڈیم ویوز 400سے 1600تک تھیں (میگا ہرسٹ وغیرہ کی مشکلوں میں نہ ہم اس وقت پڑتے تھے اور نہ آج)……

ایک دن کلاس فیلوز سے پتہ چلا کہ مارکیٹ میں ریڈیو کی بجائے ٹرانسسٹر آ گیا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں بھی نیشنل پیناسانک کا ایک ٹرانسسٹر سیٹ، گرنڈگ کی جگہ ایک نئی تبدیلی لے آیا۔ ہمارے لئے اس میں آسانی یہ تھی کہ دیر سویر اسے اٹھا کر چوری چھپے کمرے میں لے جاتے اور فلمی نغمے سناکرتے۔ اس سے پہلے فلمی گیت سننے کی اجازت نہ تھی۔ ایک ماہ بعد جب باربرشاپ پر بال کٹوانے جاتے تو وہاں 2بجے سے تین بجے تک وودِ بھارتی میں گیتوں کا پروگرام ہوتا تھا۔ باربر بال کاٹتا رہتا اور ہم دونوں بھائی لتا، محمد رفیع اور طلعت وغیرہ کے گیتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے۔ ……کبھی کبھی نور جہاں کی آواز بھی سننے کو مل جاتی…… اس کے بعد تو یہ عالم ہو گیا کہ پاکٹ ٹرانسسٹر سیٹ عام ہو گئے۔ 1965ء کی جنگ میں فوجی مورچوں سے میڈم نورجہاں کے نغمے ’ڈھول سپاہی‘ کی ہمت بندھاتے اور غیر وردی پوش پاکستانیوں کے لئے بھی فردوسِ گوش بنتے تھے……گرنڈگ کے زمانے کا ایک خاص واقعہ یاد آ رہا ہے…… پتہ نہیں کس فلم کا گیت تھا جس کا مکھڑا تھا:

نمّے نمّے بدلاں دی چھاں ڈھول جی

اکھّاں وچ پالو اکھّاں، گول گول جی

]اے محبوب! جھکے جھکے بادلوں کی چھاؤں ہے۔ آؤ ہم بھی گول گول آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انجوائے کریں [

ہمارا گھر جس گلی میں واقع تھا اس کے ماسٹر بیڈروم کی دو کھڑکیاں باہر گلی کی طرف کھلتی تھی جس میں آتے جاتے بچے، جوان اور بوڑھے کئی فلمی گیتوں کی تکرار کیا کرتے جس سے کمرے کے مکین بھی ایک حد تک محظوظ ہوا کرتے۔ چنانچہ وہ کھڑکیاں بالعموم بند رکھی جاتیں تاکہ ’امنِ طفلاں‘ بحال رہے…… ایک دن ہماری نانی اماں قصور سے ہمارے ہاں آئی ہوئی تھیں۔ ان سے ہماری محبت اور ان کی ہم سے شفقت مثالی تھی…… اس موضوع کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں …… انہوں نے گلی میں کسی بے سُرے گلوکار کی آواز میں جب یہ گانا سنا تو ہم بھی ان کے پاس اپنے رنگیلے پلنگ پر دراز تھے۔ ہم نے پوچھ ہی لیا کہ: ”نانی اماں یہ گول گول آنکھیں کیا ہوتی ہیں؟…… آنکھیں تو سب کی گول ہوتی ہیں ناں ……“…… انہوں نے سنا تو کہا: ”اس کی وجہ رات کو جب تم سونے کے لئے آؤ گے تو بتاؤں گی“۔

بڑی مشکل سے شام ہوئی۔ اتوار کا دن تھا، سکول سے چھٹی تھی اور سردیوں کی شامیں تھیں۔ہم سرشام رضائی میں دبک گئے اور نانی اماں کا انتظار کرنے لگے۔ وہ والد صاحب کے ساتھ زمین کے کسی مسئلے پر بحث کر رہی تھیں۔ دو تین مزارعے بھی آئے ہوئے تھے اس لئے رات نو بجے جب سونے کے لئے ہمارے پاس آئیں تو ہمیں جاگتا پا کر حیران ہوئیں اور کہا: ”کیاصبح سکول نہیں جانا؟…… اب تک سوئے کیوں نہیں؟“…… ہم نے گول گول آنکھوں کا حوالہ یاد دلایا تو چپ ہو گئیں اور کہنے لگیں: ”کیا گول گول آنکھوں والا انسان کبھی تم نے دیکھا ہے؟“…… ہم دونوں بھائیوں نے انکار میں سر ہلایا تو بولیں: ”ہوتا ہے ایسا انسان ……اور ضرور ہوتا ہے…… لیکن وہ اصل میں ناگ ہوتا ہے!……“ ناگ کا نام سنتے ہی ہمارا دل دہلنے لگا۔ انہوں نے بیان جاری رکھا:”جب ناگ 100سال سے اوپر کا ہو جاتا ہے تو جس شکل میں چاہے، اپنے آپ کو ڈھال سکتا ہے۔ اس کو ”دیہہ پلٹنا“ کہتے ہیں۔ جس شخص کی آنکھیں گول ہوں گی اور لمبوتری نہیں ہوں گی، وہ ناگ ہو گا…… یہ گانا جس کے یہ بول ہیں اس میں ناگ اور ناگن کی سٹوری ہو گی۔ دونوں انسانی شکل میں ظاہر ہوتے ہوں گے۔ ناگ ہیرو اور ناگن ہیروئن بن جاتی ہو گی اور وہ گانے لگتے ہوں گے: ’اکھاں وچ پالو اکھاں گول گول جی!‘……

پھر قصور میں بابا شاہ کمال چشتی کی مزار کے آس پاس جو نیم کوہستانی سلسلہ ہے، اس میں کئی غاروں کی کہانیاں سنائیں اور کہا کہ ان غاروں اور نشیبی کھائیوں میں گہرے کنویں بھی ہیں جن میں ہیرے جواہرات اور طلائی نقرئی زیورات کی بھری دیگیں بھی موجود ہیں جن کے اوپر ایک ناگ اور ایک ناگن پہرہ دیتی ہے اور کسی انسان کو پاس نہیں آنے دیتی۔ کہا جاتا ہے کہ جب ان کی عمر 100سال ہو جائے گی تو تب یہ انسان کی شکل میں باہر آئیں گے اور بابا شاہ کمال چشتی کے مزار پر حاضری دیں گے اور یہ دیگیں نکال کر اللہ کی راہ میں خیرات کر دیں گے!“……نانی اماں یہ کہانی اس تفصیل اور اس ڈرامائی انداز میں سنا رہی تھیں کہ ہماری نیند اڑ گئی۔باوجود تاکید کے، صبح تک آنکھ نہ لگی اور ناگ اور ناگن کی گول گول آنکھیں خواب میں نظر آنے والے ہر عورت اور مرد کی آنکھیں معلوم ہوئیں۔افسوس کہ صبح سات بجے والد صاحب کی گرجدار آواز نے یہ سارا طلسم توڑ دیا: ”اوئے! سکول نہیں جانا؟ …… جلدی کرو اور منہ ہاتھ دھو کر کھانے کی میز پر آ جاؤ!“……

مزید : رائے /کالم