حکومت بجٹ پر ریفرنڈم کرالے

حکومت بجٹ پر ریفرنڈم کرالے
 حکومت بجٹ پر ریفرنڈم کرالے

  


آئی ایم ایف سے پیسے ملنے کی سبیل پر حکومت نڈر ہوگئی ہے اور اب آئی ایم ایف کے بجٹ کی منظوری کے لئے سرگرداں ہے جبکہ اپوزیشن اس کے خلاف سرگرم ہے۔ وزیر اعظم ہٹ دھرم، منطق سے بے بہرہ، چور چور پکارنے کے رسیا، عمل سے عاری اور عاقبت نااندیشی کے مرض میں مبتلا حکمران کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ محض اس بنا پر کہ اپوزیشن کے شور اور دباؤ کی وجہ سے وہ خود تقریر نہیں کرپاتے، اس لئے اپوزیشن لیڈر کو تقریر میں خلل کا اہتمام کئے ہوئے ہیں، وہ عمران خان ہیں کوئی سرفراز احمد نہیں کہ پریشر نہ لے سکیں، کرکٹ تو یوں بھی سپورٹس مین سپرٹ سکھاتی ہے، روندی مارنا کپتانوں کا شیوہ نہیں ہوتا، انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئے۔

انہیں اب تک احساس نہیں ہے کہ بطور چیف ایگزیکٹو ان کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ایک حکم کا درجہ رکھتا ہے، یہ کہنا کہ آصف زرداری سمیت کسی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوں گے دراصل سپیکر کے عہدے کی تذلیل کے مترادف ہے۔ سپیکر کو مچھندر بنادیا گیا ہے، حکومت بھی اس کی سپورٹ کے لئے آگے نہیں آتی، وہ ہر دو طرف سے پچکا ہوا ہے۔ اپوزیشن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا سوچ رہی ہے توحکومت نوکری سے فارغ کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے، انہیں چاہئے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملالیں اور دونوں کو چلتا کریں لیکن وہاں بھی محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈروں کے جاری کرنے کا معاملہ ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں جن اتحادیوں کا اجلاس ہوتا ہے و ہ اتحادی کم اور فسادی زیادہ دکھائی پڑتے ہیں جو انہیں بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ملک بچانے کے لئے بھیجا ہے اور خود من پسند پٹواریوں کے تبادلے کے لئے ڈی سی پر دباؤ ڈالتے ہیں۔

اگرا ٓصف زرداری، سعد رفیق سمیت دیگر گرفتار سیاستدان پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں تشریف لے آتے ہیں تو کیا قیامت آجائے گی، اس سے حکومت کی اکثریت اقلیت میں تو نہیں بدل جا ئے گی، پھر خوامخواہ بات کا بتنگڑ بنانے کی کیا تک ہے، حکومت خود ایوان کو چلانے میں سنجیدہ نہیں ہے، حکومت کی غیر سنجیدگی بیہودگی کی حدتک بڑھتی جا رہی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ مورد الزام اپوزیشن کو ٹھہرارہی ہے۔ یہ انوکھے لاڈلوں کا انوکھا احتجاج ہے کہ خود حکومتی اراکین اپوزیشن کو بجٹ پر بحث کی اجازت نہیں دے رہی ہے جس پر میڈیا کو اکانومی پر بحث کی اجازت کوئی اور نہیں دے رہا ہے۔ سنسر، سنسر، سنسر!....زباں بندی، پہرے داری، چوکیداری!....کیا آئی ایم ایف کا شکنجہ اتنا ہی سخت ہے کہ ہم چِین سے بھی چین کی بانسری نہیں سن سکتے، اب روس کی طرف ایک بوسہ اچھالا ہے دیکھئے کیا جواب آتا ہے!

پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے سپیکر کو یرغمال بنا رکھا ہے اور چور چور کی رٹ میں ان کی بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہیں، ان کے نزدیک عوام کے نمائندہ ہاؤس پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ عوام سے منتخب ہوئے ہوتے تو عوام کے نمائندہ اراکین کے ہاؤس کا احترا م کرتے، ان کا کام تو بس خلل اندازی ہے، رخنہ اندازی ہے، رکاوٹیں پیدا کرنا ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے کئی فیصلے بھی سابق حکومت کے کاموں میں رکاوٹ کا باعث بنے تھے، ریاستی ادارے اگر اس طرح عوام کے منتخب نمائندوں کی راہ کی رکاوٹ بنیں گے تو ان پر عوام کا اعتماد کیونکر جمے گا!

ایم کیو ایم اور اختر مینگل گروپ حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود اپوزیشن کی طرف جھکاؤ دکھا رہے ہیں، حکومتی نیا انہیں کے سہارے کھے رہی ہے،اگر یہ سپورٹ نکل گئی تو حکومت دھڑام سے آگر ے گی، مگر اس کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کو جو زعم ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے، کوئی ایسی غیر مرئی طاقت ان کی رہنمائی کررہی ہے جو انہیں خوف سے آزاد رکھے ہوئے ہیں، کیا وزیر اعظم عمران خان کسی جادو کے زیر اثر ہیں، کیا ایک جادو زدہ وزیر اعظم پاکستان کے لئے مفید ہو سکتا ہے؟

اپوزیشن سراپا احتجاج اور حکومت سراپا آمرانہ طرز حکومت، کیا ایمرجنسی کا نفاذ ہونے جا رہا ہے، لیکن اس کی کیا ضرور ت ہے کہ عدالتوں سے کون سا بنیادی حقوق کی پاسداری کا درس مل رہا ہے،و ہاں بھی ضمانتوں کی منسوخی کا شور ہے، یا پھر ریفرنسوں کا تازیانہ بج رہا ہے، دباؤ، دباؤ، دباؤ، پریشر، پریشر، پریشر....یہ حکومت نہیں نحوست ہے، دباؤ کی وبا پھیل رہی ہے، لوگ اٹھ کھڑے ہوں۔ اے این پی نے اپوزیشن کو امتحان میں ڈال دیا ہے، بلکہ یوں کہئے کہ ایک راہ سجھائی ہے۔ اگر اپوزیشن اس محاذ پر اپنی برتری ثابت کرگئی اور چیئرمین سینٹ کو چلتا کردیا تو پھر یہ سیل رواں سپیکر اور وزیر اعظم کو بھی بہا لے جا سکتا ہے۔

ایسے میں حکومت کے لئے یہی بہتر ہے کہ بجٹ پر عوامی ریفرنڈم کرالے کیونکہ اپوزیشن تو اسے منظور نہیں ہونے دے گی!

مزید : رائے /کالم