ٹیکسی ڈرائیور پر لڑکی کی جانب سے ریپ کا جھوٹا الزام، لیکن دراصل حقیقت ایسی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

ٹیکسی ڈرائیور پر لڑکی کی جانب سے ریپ کا جھوٹا الزام، لیکن دراصل حقیقت ایسی کہ ...
ٹیکسی ڈرائیور پر لڑکی کی جانب سے ریپ کا جھوٹا الزام، لیکن دراصل حقیقت ایسی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں کچھ عرصہ قبل ایک سفید فام لڑکی نے پاکستانی نژاد برطانوی ٹیکسی ڈرائیور پر جنسی زیادتی کا جھوٹا الزام عائد کر دیا تھا۔ اب اس لڑکی کی اس حرکت کی ایسی حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ دی مرر کے مطابق 27سالہ لارا ہڈ نامی یہ لڑکی اس رات دوستوں کے ساتھ باہر گھوم رہی تھی۔ وہ ایک ڈانس کلب میں گئے جہاں انہوں نے شراب پی اور رقص کیا۔ واپس پر لارا ہارون یوسف نامی 29سالہ نوجوان کی ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر واپس آئی۔

رپورٹ کے مطابق گھر آتے ہی مانچسٹر کی رہائشی لارا نے اپنی والدہ کو بتایا کہ اسے ٹیکسی ڈرائیور نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایاہے۔ اس نے ٹیکسی کی نمبر پلیٹ نوٹ کر لی تھی چنانچہ لارا کی ماں نے پولیس کو اطلاع دی جس نے گاڑی کے نمبر کے ذریعے فوراً ڈرائیور کا پتا چلا لیا اور اسے گرفتار کر لیا۔ اب اس کیس کی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ لارا نے ہارون پر جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔ درحقیقت اس رات لارا کا فون گم ہو گیا تھا اور وہ اس بات پر شدید غصے میں تھی۔ چنانچہ اس نے اپنا غصہ اس طرح ہارون پر نکالا کہ اس پر جھوٹا الزام عائد کر دیا۔ بعض ازاں جب پولیس نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں بتایا گیا تھا کہ ہارون کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس پر لارا نے عدالت میں تسلیم کر لیا ہے ہارون نے اسے زیادتی کا نشانہ نہیں بنایا تھا۔ وہ اپنا فون گم ہو جانے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار تھی، جس کی وجہ سے اس نے ہارون پر یہ الزام لگا دیا۔

مزید : برطانیہ