چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی
چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی

  


تحریر: عاصم خان

بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جس کا خاتمہ پوری قوم کی آواز ہے ۔ ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔ چئیرمین نیب نے ادارے میں جہاں بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائیں وہاں ان کو عملی جامہ پہنانے کے بعد قومی احتساب بیورو کو ایک معتبر ادارہ بنا دےا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین نیب جنا ب جسٹس جاوید اقبال بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں ےہی وجہ ہے کہ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے نہ صرف “ احتساب سب کےلئے “ کی پالیسی اپنائی اور کسی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر سے 326 روپے کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی جو کہ ایک ریکارڈ کامیاب ہے ۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب مکمل شفافیت،میرٹ او قانون کے مطابق عمل کرتے ہوئے ملک بھر سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہے۔ بدعنوانی کا خاتمہ اور میگاکرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب نے ملک بھر سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے لئے اپنی کوششوں کو دوگنا کر دےا ہے۔ چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ نیب کی آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی سہ جہتی حکمت عملی کے شاندار نتائج سامنے آرہے ہیں۔معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں جیسے ٹرانسرپرنسی انٹر نیشنل پلڈاٹ، مشال پاکستان اور عالمی اقتصادی فورم کی حالیہ رپورٹس نیب کی بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے کاوشوں کو سراہتی ہیں اس کے علاوہ گیلپ اینڈ گیلانی سروے کے مطابق نیب کی بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کے باعث 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ نیب خود احتسابی، شفافیت، میرٹ اور قانون کی عملداری پر مکمل یقین رکھتا ہے۔ نیب کے چئیرمین کی ہدایت پر کرپشن سے متعلق شکایات کے اندراج کے لئے شہریوں کے لئے نیب ہیڈ کوارٹرز اور تما م علاقائی بیوروز کے دروازے کھول دیئے ہیں۔چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال ہر مہینے کی آخری جمعرات کو نہ صرف شہریوں کی شکایات خود سنتے ہیں بلکہ انہوں نے ذاتی شنوائی کے دوران قانون کے مطابق تین ہزار شکایات کو نمٹایا ہے۔ ملک بھر سے آئے ہوئے شکاےات کنندگان اپنی شکاےات کے ازالہ کے بعد چئیرمین نیب کا نہ صرف شکرےہ ادا کرتے ہیں بلکہ ان کا نیب پر بھی اعتماد بڑھا ہے۔ گزشتہ سال نیب کو 44315 شکایات موصول ہوئی ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا ہیں۔ نیب کی قانون پر عمل درامد کی پالیسی کے تحت بلا تفریق احتساب کی بنےاد پرنیب کی موجودہ قیادت کے دور میں600 ملزموں کو گرفتا ر کےا گےا ہے جبکہ نیب نے متعلقہ احتساب عدالتوں میں 590 بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے ہیں۔ اس کے علاوہ نیب کے ملک بھر کی مختلف احتساب عدالتوں میں 1210 بدعنوانی کے ریفرنسز زیرسماعت ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 900 ارب روپے بنتی ہے۔ احتساب عدالتوں میں نیب کے مقدمات میں سزا کی مجموعی شرح 70 فیصد ہے جو کہ نیب کی شاندار کارکردگی کاعملی ثبوت ہے ۔

بیوروکریسی کسی بھی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جنا ب جسٹس جاوید اقبال اعلی عدلیہ سمیت ملک کے مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں سر انجام دے چکے ہیں اسلئے وہ بیوروکریسی کے مسائل سے بخوبی آگا ہ ہے۔ نیب قانون کے مطابق بیورو کریسی سمیت ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کرنے کے علاوہ ان کے جائز خدشات کو قانون اور آئین کے مطابق حل کرنے پر یقین رکھتاہے کیونکہ قانون کی نظرمیں تمام افراد برابر ہیں او رہر شخص اس وقت تک بے گناہ ہے جب تک اس پر الزا م ثابت نہ ہو جائے۔

ملکی ترقی میںبزنس کمیونٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔نیب بزنس کمیونٹی کے ملک کی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار کو انتہائی قدر کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس لئے نیب نےبزنس کمیونٹی کی شکایات سننے کے لیے نیب ہیڈ کوارٹر میں جہاں ایک ڈائریکٹر کی سربراہی میں علیحدہ سیل قائم کیا ہے وہاں چئیرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب کے تمام ڈی جیز کی سربراہی میں بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے نیب کے تمام علاقائی بیوروز میں شکایات سیل قائم کئے ہیں تاکہ بزنس کمیونٹی کی شکایات کاقانو ن کے مطابق بروقت اذالہ کیا جا سکے۔

نیب نے اپنے آپریشن اور پراسیکیوشن ڈویژنز میں بھی اصلاحات کرتے ہوئے جہاں انوسٹی گیشن آفیسرز کو عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جدید خطوط پر وائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات کرنے کے لئے ان کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ٹریننگ سیشنز کا اہتمام کیا وہاں نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش اور تجربات سے استفادہ کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم( سی آئی ٹی) کا نظام وضع کیا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج برا ٓمد ہوناشروع ہو گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب کوئی بھی شخص نیب کی تحقیقات پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔اس کے علاوہ نیب نے اسٹیٹ آ ف دی آرٹ فارنزک لیب نیب راولپنڈی میں قائم کی ہے جس سے نیب کی تحقیقات کی کوالٹی بہتر ہوئی ہے بلکہ مقدمات کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔

نیب پوری دنیا میں پاکستان کا پہلا ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے دوطرفہ تعاون کے تحت مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس کا مقصد چین کے ساتھ انسداد بدعنوانی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ سی پیک کے منصوبوں کے تناظر میں اس تعاون سے پاکستان میں شروع کئے گئے منصوبوں کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمےان انسداد بدعنوانی کے شعبہ میں تعاون میں اضافہ ہو گا۔

نیب نے اسلام آباد میں سارک سیمینار کا اہتمام کیا جس میں بھارت سمیت سارک کے تمام رکن ممالک نے شرکت کی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کی تعریف کی۔ نیب کی آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی موثر اینٹی کرپشن حکمت عملی کے تحت پاکستان سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج نیب سارک ممالک کے اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کی اہم کامیابی ہے ۔ اس کے علاوہ عوام کی شکایات کوہر ماہ کی آخری جمعرات کو ذاتی طور سنتے ہیں بلکہ قانون کے مطابق کاروائی کی جاتی ہے ۔ نیب ہیڈ کوارٹر ز اور تمام علاقائی دفاتر میں شکایات سیل قائم کیے گئے ہیں۔نیب نہ صرف قانون کے مطابق جائز شکایات پراپنی کاروائی شروع کرتا ہے بلکہ نیب جھوٹی شکایات کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی بھی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نیب ملک بھر میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والی ہاﺅسنگ سوسائٹےوں کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات اٹھا رہا ہے تاکہ لاکھوں متاثرین کی عمر بھر کو لوٹی ہوئی جمع پونجی انہیں واپس دلائی جاسکے۔قومی احتساب بیورو نے اپنے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال کی شاندار قیادت میں بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق ملک بھر میں بلا امتیاز کاروایاں کیں جس کی بدولت عوام کے نیب پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کی قےادت میں نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور میگا کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتا ہے تاکہ بدعنوان عناصر ،اشتہاری اور مفرور ملزمان کو قانون کے مطا بق ان سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جائے۔جس سے نہ صر ف ملک ترقی کرے گا بلکہ ملک کے تمام ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کرنے میںمدد ملے گی۔

مزید : بلاگ