وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد اسد عمر اپنی حکومت کے خلاف کھل کر بول پڑے

وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد اسد عمر اپنی حکومت کے خلاف کھل کر بول پڑے
وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد اسد عمر اپنی حکومت کے خلاف کھل کر بول پڑے

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے حالیہ بجٹ میں چینی ، خوردنی تیل ، کھاد اور چھوٹی گاڑیوں پر لگنے والے نئے ٹیکسز کو نامناسب قرار دیا ہے ۔ انہوں نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر پکڑ دھکڑ سیاسی انتقام کے لئے ہورہی ہے تو وہ ملک کے لئے اور جو کر رہا ہے اس کے لئے بھی اچھی نہیں ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے چینی پر لگنے والے ٹیکس کو غیر مناسب قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی امیر آدمی نہیں بلکہ غریب کی توانائی کا ذریعہ ہے، اسی طرح خوردنی تیل پر بھی ٹیکس مناسب نہیں ہے۔

سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ چھوٹی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی پر نظر ثانی ہونی چاہیے، ہم نے جوڈیوٹی لگائی تھی وہ بڑی گاڑیوں کے لیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ کھاد کی بوری پر 400 روپے جی آئی ڈی سی وصول کیا جارہا ہے، یا تو اس کو مکمل ختم کردیا جائے یا کھاد کی بوری سے واپس لیا جائے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے قرار دیا کہ اگر پکڑ دھکڑ سیاسی انتقام کے لئے ہورہی ہے تو وہ ملک کے لئے اور جو یہ کر رہا ہے اس کے لئے بھی اچھی نہیں ہے لیکن اگر یہ لوٹی دولت کے حساب کتاب کیلئے ہورہی ہے تو ٹھیک ہے۔سزا و جزا کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہے، اگر کسی نے قوم کی دولت لوٹی ہے تو اس کے لئے جزا سزا کا نظام بنانا آئینی حق ہے۔

اسد عمر نے کہا مشکل حالات میں بجٹ پیش کرنے والی معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مشکل حالات میں سفید پوش طبقے پر کم بوجھ ڈالنا ہے اور باہر سے آنے والی آمدن کو بڑھانا ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد