بجٹ عوامی امنگوں کا ترجمان، اپوزیشن بجٹ تقریر سن کر احتجاج کرتی تو بہتر ہوتا:صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان

بجٹ عوامی امنگوں کا ترجمان، اپوزیشن بجٹ تقریر سن کر احتجاج کرتی تو بہتر ...
 بجٹ عوامی امنگوں کا ترجمان، اپوزیشن بجٹ تقریر سن کر احتجاج کرتی تو بہتر ہوتا:صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان

  


کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان میرظہوربلیدی نے صوبائی بجٹ کو عوامی امنگوں کا  ترجمان بجٹ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اپوزیشن بجٹ تقریر سن کر احتجاج کرتی تو جمہوری حسن ہوتا، موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو صوبے کو معاشی بد حالی کا سامنا تھا ، ضروری اصلاحات کے بعد ہم ایک متوازن اور ترقیاتی اساس کا حامل بجٹ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں،سرکاری شعبوں میں 5 ہزار 4سو 45 آسامیاں رکھی گئی ہیں بلکہ ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں میں وفاقی حکومت کی طرز پر اضافہ کیا گیا ہے ۔

آفیسرز کلب کوئٹہ میں سیکرٹری خزانہ بلوچستان نورالحق بلوچ ، ایڈیشنل سیکرٹری ترقیات عبدالرحمن بزدار و دیگر کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو صوبے کو معاشی بد حالی کا سامنا تھا بلکہ لگ رہا تھا کہ صوبائی حکومت کے لئے ملازمین کو تنخواہیں دینا بھی مشکل ہوجائے گا تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور ان کی ٹیم کی بصیرت اور انتھک محنت کے باعث 8 ماہ کے دوران مالیاتی نظم ضبط پیدا کرنے اور مالیاتی امور میں ضروری اصلاحات کے بعد ہم ایک متوازن اور ترقیاتی اساس کا حامل بجٹ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں بلکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان نے خود بھی  بجٹ میں کہا ہے کہ اپوزیشن سمیت کسی بھی حلقے کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔

بجٹ برائے ما لی سال2019-20 کے اہم نکات کی تفصیل بتا تے ہو ئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں تما م سوالوںکے اطمینان بخش جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ سے منظور شدہ آئندہ مالی سال کے لئے صوبے کا 419 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیاگیاہے جس کا مجموعی خسارہ47ارب روپے سے زائد طے کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں غیر ملکی معاونت کا تخمینہ 7 ارب 56 کروڑ 11 لاکھ طے کیا گیا ہے،مالی سال 2019-20کے بجٹ میں تعلیم کے لیے55ارب72کروڑ روپے اور ہائر ایجوکیشن کے لیے 14 ارب 95 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ،بجٹ میں صحت کے شعبے میں34ارب18کروڑ روپے، پانی کے منصوبوں کے لیے28ارب روپے، امن و امان کے لیے 44 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔صوبائی بجٹ میں 150نئے وفاقی منصوبے اور غیر ملکی تعاون سے100منصوبے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سر کا ری ملا زمین کو ریلیف دینے کیلئے گریڈایک سے گریڈ16تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ گریڈ17سے 20تک کے آفیسران کو 5فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کااعلان کیاگیاہے گریڈ21اور 22کے صوبائی آفیسران کی تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیاگیاہے ،پنشنرز کی پنشن میں 10فیصد اضافے کااعلان کیاگیاہے جب کہ کم ازکم تنخواہ 17500روپے مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ برائے سال2019-20میں 123نئے پرائمری سکولوں قائم کرنے کے علاوہ 125مڈل سکولوں کو پرائمری سے مڈل کادرجہ دینے اور 94مڈل سکولوں کو ہائی کا درجہ دینے کے ساتھ26ہائی سکولوں کو ہائیرسیکنڈری سکولز اپ گریڈ کیا جا ئے گا،علاوہ ازیں سکول کلسٹربجٹ کو بھی 1.89بلین روپے کردیاگیاہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2019-20کے بجٹ میں بلوچستان عوامی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنے کیلئے 5ہزار 3سو ملین روپے مختص کئے گئے ہیں سماجی تحفظ اور غربت مٹا اتھارٹی کے قیام کیلئے بھی ایک بلین روپے رکھے گئے ہیں کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت جوائنٹ روڈ اور سبزل روڈ توسیعی پروگرام کیلئے 3بلین روپے جاری کئے جاچکے ہیں ،صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میڈیا اکیڈمی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے آئندہ بجٹ میں 30ملین روپے رکھے گئے ہیں اس کے علاوہ فلم فنڈ قائم کرنے کے لیے بھی 30 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا بجٹ مخالفت فلاحی کاموں اور ترقیاتی اقدامات کی مخالفت سے تعبیر کرتے ہیں، کیا ہی اچھا ہو تا اگر اپوزیشن جما عتیں بجٹ سننے کے بعد احتجاج اور تنقید کرتیں ،امید ہے کہ بجٹ پڑھنے اور سننے  کے بعد اپوزیشن کے بجٹ کے حوالے سے تحفظات اور خدشات دور ہو گئے ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کے باعث پولیس اور لیویز کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے ، سیکورٹی بجٹ کو مزید بڑھانا پڑا تو بڑھائیں گے ۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ