بھارت، سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن

بھارت، سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن

  

بھارت دو سال کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہو گیا ہے۔ دوسرے رکن ملکوں کے ساتھ وہ یکم جنوری کو اپنی نشست سنبھالے گا۔ بھارت کو 192ملکوں میں سے 184نے ووٹ دیئے پاکستان نے بھارت کے خلاف ووٹ دیا اس سے قبل بھی بھارت 1960ء،1967ء،1972ء،1977ء،1984ء،،1991ء اور 2011ء میں سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن رہ چکا ہے کئی سال پہلے تو اس نے کوشش کی تھی کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافہ کرکے اسے مستقل رکن بنا دیا جائے امریکہ بھی اس کا حامی تھا لیکن اس کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی، نہ ہی ویٹو پاور کے حامل ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکا بلکہ ویٹو پاور ختم کرنے کی تجویزیں آتی رہی ہیں۔ پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے انتہا پسند ہندو توا نظریئے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں بھارتی قیادت نے اپنے ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے بھارت کے انتخاب نے کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ اقوام متحدہ کو تو بھارت کا احتساب کرنا چاہیے تھا کشمیر کے عوام دس ماہ سے زیادہ عرصے سے غیر انسانی لاک ڈاؤن میں زندگی گزار رہے ہیں، کشمیری قیادت قید یا گھروں میں نظر بند ہے انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہونے دینا اس کے اقدامات کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔ بھارت کا بلا مقابلہ منتخب ہونا ہمارے لئے سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کے لئے سوال ہے کہ ہم نے ایسا کیوں ہونے دیا۔خطے میں بھارت کے مقابلے میں اور کوئی امیدوار کیوں نہیں تھا؟ جبکہ افریقہ کی نشست کے لئے بھی مقابلہ تھا۔ جس کا فیصلہ نہیں ہو سکا، جس میں جبوتی اور کینیا مد مقابل تھے دونوں ملک اب دوسرے مرحلے کے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ میکسیکو، ناروے اور آئر لینڈ بھی غیر مستقل ارکان منتخب ہوئے ہیں، کینیڈا مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان ہیں جو ویٹو پاور کے حامل ہیں دس غیر مستقل ارکان دو دو سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں اور ان میں تمام خطوں کی نمائندگی باری باری ہوتی ہے دو سال کی مدت پوری کرنے کے بعد کوئی ملک فوری طور پر دوبارہ رکنیت کا امیدوار نہیں ہو سکتا، بھارت پہلے بھی کئی مرتبہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن رہ چکا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں امن قائم رکھنے کے لئے تشکیل پایا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں رہا۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بھارت اور اسرائیل نے کبھی تسلیم نہیں کیا کشمیر کا مسئلہ آج بھی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اسے متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے لیکن سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود بھارت نے کشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا اور 5اگست کے بعد سے اب تک پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی کیفیت ہے اور غیر انسانی لاک ڈاؤن نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ بھارت نے لداخ کی حیثیت بھی تبدیل کر دی اور سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین کے خلاف بھی ایک نئے نزاع کا آغاز کر دیا جس کی وجہ سے بھارت کے ساتھ حال ہی میں ایک خونریز جھڑپ بھی ہوئی ہے اور دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس انتخاب کے بعد یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ایک ایسا ملک، جس کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ عالمی ادارے کی قیام امن کی کوششوں میں کس حد تک مددگار و معاون ثابت ہوگا؟ یہ سوال بھی ہے کہ جو ملک خود اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اہمیت نہیں دیتا وہ دوسرے ملکوں سے ان قراردادوں کا احترام کروانے میں کیسے اور کیا کردار ادا کرے گا؟ یہ سوال ان تمام ملکوں سے بھی ہے جنہوں نے بھارت کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔184 رکن ملکوں نے بھارت کو ووٹ دے کر غیر مستقل رکن تو منتخب کرا دیا لیکن زیادہ اہم یہ بات ہے کہ بھارت کے مقابلے میں کسی دوسرے ملک نے حصہ کیوں نہیں لیا، کیا بھارت نے کوشش کی کہ وہ اپنے مقابلے میں کسی دوسرے ملک کو امیدوار نہ بننے دے اور کیا یہ اس کی ڈپلومیسی کی جیت ہے؟

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے پوچھا ہے کہ بھارت کے مقابلے میں کوئی دوسرا امیدوار کیوں نہیں تھا جبکہ افریقہ کی نشست پر بھی دو ملک باہم مدِ مقابل تھے؟ محترمہ وفاقی وزیر یہ سوال کس سے کر رہی ہیں؟ کیا وہ اپنے دفتر خارجہ سے پوچھ رہی ہیں کہ بھارت کے مقابلے میں کوئی امیدوار کیوں سامنے نہیں آیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اس کا جواب دینا چاہیے اگرچہ پاکستان نے بھارت کے خلاف ووٹ دیا لیکن جو چند ووٹ اسے نہیں ملے اس کی وجہ سے عملاً تو کوئی فرق نہیں پڑا اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ چند ملکوں کے سوا کسی ملک نے بھارت کی مخالفت نہیں کی اس موقع پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ساری دنیا جو بھارت کو ووٹ دے کر سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بنوا رہی ہے اس بات سے بے خبر ہے کہ بھارت کشمیر میں کشمیری مسلمانوں اور پورے بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتی برادریوں کے کروڑوں لوگوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ کس طرح منظم فسادات کے تحت مسلمانوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے۔ پورے بھارت سے انتہا پسندوں کو منظم کرکے دہلی کے مسلمان محلوں کو گھیر کر ان کا قتل عام کیا گیا ہے۔ اعضا کاٹے گئے اور انہیں زندہ جلایا گیا، گھروں کے ریفریجریٹر میں گوشت رکھنے پر پورے پورے گھر تباہ کئے گئے اور اس امر کی تصدیق بھی نہیں کی جاتی کہ یہ گوشت گائے کا ہے یا کسی دوسرے جانور کا؟ گائے اور بیل ہانک کر لے جانے والے چرواہوں کو اس مفروضے پر قتل کیا جاتا ہے کہ وہ جو گائیں لے کر جا رہا ہے انہیں جا کر ذبح کرے گا کیا ”جُرم“ سے پہلے سزا انسانیت کی توہین نہیں ہے؟ کیا پوری دنیا اس شقاوتِ قلبی سے بے خبر ہے جس کا اظہار کھلے عام پورے بھارت میں کیا جا رہا ہے، اگرچہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور بھارت کے منتخب ہونے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا، تسلیم کہ ایسا ہی ہے لیکن جو سوال حکومت میں بیٹھی ہوئی ایک وزیر کر رہی ہیں کہیں سے اس کا جواب بھی تو آنا چاہیے اس سوال کے جواب سے پتہ چلے گاکہ جن ملکوں نے بھارت کو سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کرایا کیا وہ سب بھارت کی انسانیت کش پالیسیوں سے بے خبر تھے یا دنیا کی دھڑے بندیوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوا۔ شیریں مزاری کا یہ سوال اپنی حکومت سے بھی ہے اور عالمی برادری سے بھی، دیکھیں کیا جواب آتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -