ٹیکس فری بجٹ: ریکارڈ کی درستگی

ٹیکس فری بجٹ: ریکارڈ کی درستگی
ٹیکس فری بجٹ: ریکارڈ کی درستگی

  

90 کی دہائی کی بات ہے مسلم لیگ (ن) کی غالباً دوسری حکومت تھی۔ سرتاج عزیز صاحب وزیر خزانہ تھے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا میں رپورٹنگ کے سلسلے میں ایوان میں موجود تھا۔ سرتاج عزیز صاحب نے چلتے چلتے اپنی تقریر میں یہ دل خوش کن اعلان کیا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اِس پر سرکاری پنجوں نے بڑے زور دار طریقے سے ڈیسک بجائے اِس دوران کچھ لوگوں نے مکرر مکرر کا مطالبہ کیا۔ سرتاج عزیز نے دوبارہ ٹیکس نہ لگانے والا جملہ دہرایا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا تھا کہ نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اِس سے پہلے ہر بجٹ میں کئی نئے ٹیکس لگائے جاتے تھے اور لوگ بجٹ آنے سے پہلے پریشان رہتے تھے۔ اِس واقعے کا ذکر میں نے اپنی کتاب ”پی ٹی وی میں مہ و سال“ میں کیا ہے اور اُس دن یہ بات پی ٹی وی کے خبرنامے میں شامل تھی لیکن اب موجودہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے اعلان کیا ہے کہ تاریخ میں پہلی دفعہ بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا اور حیرت ہے کہ کسی صحافی نے بھی اس دعوے کو چیلنج نہیں کیا۔ شیخ صاحب نے تو اِس جملے کو اپنی پریس بریفنگ میں ایک طرح سے انٹرو بنایا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ کامران خان نے سوشل میڈیا پر بجٹ کی مجموعی طور پر تعریف کی ہے اور یہ جملہ دہرایا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ بجٹ پر منفی یا مثبت تبصرہ تو ہر صحافی کا حق ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آئی کہ کامران خان کو سوشل میڈیا پر بیان ریکارڈ کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی وہ تو اپنے پروگرام میں جو کچھ کہنا چاہتے تھے کہہ سکتے تھے ویسے میں نے اُن کا پروگرام اُن دنوں نہیں دیکھا یقینا انہوں نے وہاں بجٹ پر ضرور تبصرہ کیا ہو گا۔ تاہم مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ اتنے سینئر جرنلسٹ سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ حقائق کے خلاف بات کریں۔

ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا بجٹ ہو جس میں سرکاری ملازموں کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ تاریخ میں پہلا بجٹ ہے جس میں معیشت کی شرح نمو منفی ظاہر کی گئی ہے۔ بہرحال اکانومی ایک مشکل موضوع ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں عموماً وزیر خزانہ باہر سے لینا پڑتا ہے مقامیوں کے بس کی بات نہیں کہ وہ گلوبلائزیشن کے اِس عہد میں ایسا بجٹ بنا سکیں جو عالمی اداروں کے لئے قابل قبول ہو۔ یہ تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی غلطی تھی کہ انہوں نے اقتصادیات جیسے اہم اور ٹیکنیکل شعبے کو ایک ”اکاؤٹنٹ“ کے حوالے کر دیا تھا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں متوازن بجٹ بنانا یقینا ایک مشکل کام ہے اور اِس دفعہ شاید ذرا زیادہ مشکل تھا کیونکہ کرونا جیسی وباء نے پوری دنیا کی اکانومی کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور ہمارے ہاں تو عموماً جانے والے خزانہ خالی کر جاتے ہیں اس صورت میں آنے والوں کیلئے مشکلات کافی بڑھ جاتی ہیں لہٰذا حکومت کو زیادہ الزام نہیں دینا چاہئے۔

بجٹ خالصتاً ایک ٹیکنیکل موضوع ہے اور میں اِس پر تبصرہ کرنے کیلئے اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتا۔ بنیادی طور پر میں نے صرف ریکارڈ کی درستگی کیلئے مجبوراً قلم اُٹھایا ہے۔ ویسے الیکٹرانک میڈیا پر میں نے چند پروگرام دیکھے ہیں جن میں عموماً ڈاکٹر حفیظ پاشا، ڈاکٹر زبیر اور ثاقب شیرانی جیسے ماہرین اقتصادیات نے بجٹ پر منفی تبصرے کیئے ہیں۔ ایک تو یہی سوال اُٹھایا گیا کہ کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا تو ایف بی آر کی آمدنی میں 27 فیصد اضافے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ ترقیاتی بجٹ بھی کافی محدود ہے اور پھر تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کے فیصلے پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا اور تقریباً سبھی ماہرین نے یہی نتیجہ نکالا کہ اس بجٹ پر عملدرآمد مشکل ہو گا لہٰذا کچھ عرصے بعد ایک منی بجٹ آئے گا۔ یہ بات قرین قیاس لگتی ہے۔ کئی محاذوں پر بے چینی میں اضافہ ہو گا اور پھر حکومت کو کچھ کرنا پڑے گا۔ سوشل میڈیا پر ایک کلپ چل رہا ہے جس میں وزارتِ خزانہ میں داخلے کے وقت بڑی تعداد میں ملازمین نے حفیظ شیخ صاحب کا راستہ روکا ہوا ہے پولیس نے بڑی مشکل سے اُن کے لئے راستہ بنایا۔

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ کے خواجہ آصف نے مطالبہ کیا ہے کہ حفیظ شیخ اور سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ خواجہ آصف کی بات کو مخالفانہ سیاست کا شاخسانہ قرار دیکر مسترد کیا جا سکتا ہے لیکن عام آدمی کے ذہن میں بہرحال اِس بارے میں کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ حفیظ شیخ صاحب تیسری دفعہ مشیر خزانہ بنے ہیں۔ ماضی میں معین قریشی اور شوکت عزیز کے تجربات قوم کے سامنے ہیں لہٰذا اِس معاملے میں لوگوں میں کچھ فرسٹریشن ضرور پائی جاتی ہے ویسے یہ معاملہ صرف حفیظ شیخ صاحب تک محدود نہیں بلکہ ہمارے کئی قومی اداروں میں بھی خاص لوگ تین تین دفعہ آ چکے ہیں۔ قوم میں اہلیت کا یہ قحط بڑا خطرناک ہے۔ اِس سے یہ تاثر اُبھرتا ہے خواہ وزیراعظم کوئی ہو ہمارا سرکاری ڈھانچہ آٹھ دس مخصوص چہروں کے بغیر نہیں چل سکتا۔

میرے خیال میں بجٹ کو متوازن بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک دو کام ہمیں کرنے چاہئیں اور اِن کاموں کیلئے نہ ہمیں کوئی خاص قانون سازی کی ضرورت ہے اور نہ عالمی اداروں کی اجازت کی۔ ہمیں پی آئی اے، سٹیل مل، پاکستان ریلوے جیسے محکموں کے معاملات طے کرنے چاہئیں تاکہ اُن پر ضائع ہونے والا خطیر سرمایہ ترقیاتی کاموں کیلئے بچایا جا سکے اور دوسرے بجلی اور گیس جیسے شعبوں میں چوری اورلائن لاسس کا سدباب کیا جائے اس کے لئے حکومتوں کی Will کے علاوہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت ہے۔ جب تک اِن مسائل پر قابو نہیں پایا جاتا کوئی حکومت عام لوگوں کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -