قومی تاریخ کا تاریخی دوراھا

قومی تاریخ کا تاریخی دوراھا
قومی تاریخ کا تاریخی دوراھا

  

ہم اپنی قومی تاریخ کے شائد بدترین دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ داخل کیا ہونا ہے اس دور سے گزر رہے ہیں یہ معاملہ حکمران یا اپوزیشن کا نہیں ہے۔ ہمارا ہے ہمارا اپنا نوحہ ہے قومی مسئلہ ہے تاریخی حقیقت ہے کہ ہمارے حالات ٹھیک نہیں ہیں کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ہمارے حالات تو کبھی بھی ٹھیک نہیں رہے ہیں ہم ایسے ہی حالات میں زندگیاں گزارتے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی بھی بھلے حالات کا سامنا نہیں کیا ہے۔ گویا اللہ کی رحمتیں ہم پر کبھی بھی سایہ فگن نہیں رہی ہیں۔ یہ بات جزوی طور پر بھی نہیں، بلکہ کلی طور پر غلط ہے۔ تاریخی حقائق سے ناواقفیت کا شاہکار ہے۔ پاکستان، ہمارا ملک، ہمارا وطن عطیہ خداوندی ہے۔ سینکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کی قربانیوں اور کروڑوں انسانوں کی سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے۔ آج پاکستان دنیا کے نقشے پر اپنے پورے قد کے ساتھ اپنے پورے وزن کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنا آپ منوا رہا ہے۔ خطے میں ایک اہم عامل ہی نہیں، بلکہ ایک فیصلہ کن فیکٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی یہ حیثیت، اس کی جغرافیائی اہمیت، اس کی تشکیلی بنیادوں میں پنہاں ہے۔ خلیج فارس کی سیاست ہو یا بحرہند کے عالمی معاملات، وسط ایشیائی تزویراتی سیاست ہو یا دیگر عالمی و علاقائی معاملات، پاکستان ان میں فیصلہ ساز پوزیشن کی حیثیت رکھتا ہے۔

گزری صدی کی سرد جنگ کو دیکھ لیں۔ سرمایہ دارانہ نظام حکمرانی اور اشتراکیت کے مابین جاری رہنے والی کشمکش کا انجام کہاں ہوا۔ اشتراکیت کا زوال کہاں سے اٹھا۔ افغانستان کی فیصلہ کن جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے افغان مجاہدین کی تحریک آزادی افغانستان کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کرکے بالآخر اشتراکی افواج کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کیا، ویسے کہنے والے تو کہتے ہیں کہ یہ امریکہ اور سوویت یونین کی لڑائی تھی جنرل ضیاء الحق نے امریکی پراکسی جنگ لڑی، جزوی طور پر یہ بات درست ہے لیکن اس طرح کی پراکسی جنگیں امریکہ نے اور بھی بہت سے ممالک میں لڑیں، لیکن وہاں سوویت یونین کو شکست نہیں دی جا سکی۔ افغانستان میں اشتراکیت کی شکست پاکستان کا کریڈٹ ہے۔ پھر امریکہ کی طالبان کے ہاتھوں عبرتناک فوجی شکست میں بھی پاکستان کا کردار ہے۔ہندوستان نے افغانستان میں امریکی اتحادی افواج کے سائے تلے پاکستان کے خلاف مورچہ لگائے رکھا، ہم نے اس کا بھی مقابلہ کیا، دہشت گردی کو شکست دی اور کامیاب و کامران ہوئے۔

اب ایک نئی عالمی بساطِ سیاست بچھائی جا چکی ہے۔چین ایک نئی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کا روپ دھار چکا ہے۔ معاشی و تجارتی میدان میں اس نے اپنی قیادت کا سکہ بھی نہیں لوہا منوا لیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے دنیا کے تین براعظموں بشمول ایشیاء، یورپ اور افریقہ کے درجنوں ممالک کے درمیان زمینی و سمندری نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے۔ عالمی تجارت پر غلبے کا یہ محیر العقول منصوبہ ایسا ہے کہ دنیا نے اس انداز کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا۔ سینکڑوں ارب ڈالر لے کر چین ان براعظموں کے ممالک کے پاس گیا انہیں دعوت دی کہ ”میرے سے اپنے ہاں سرمایہ کاری کرا لو“ سرمایہ کاری کے منصوبے ان اقوام کے سامنے رکھے۔ انہوں نے ہنسی خوشی انہیں قبول کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں برس پہلے، قدیم زمانے کا تجارتی روٹ (سلک روٹ) نئے انداز میں دنیا کے سامنے آیا۔ چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور اس منصوبے کا کلیدی حصہ ہے۔ چین اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کا پشت بان بن گیا ہے ویسے تو چین کے ساتھ ہماری دوستی ”ہمالہ سے اونچی ہے، لیکن سی پیک نے دونوں اقوام کے مفادات بھی مشترکہ کر دیئے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بھی ہمارے مفادات مشترکہ ہونے لگے ہیں۔ ہند چینی جھڑپیں اس کا ثبوت ہیں۔ چین اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کشمیر کے علاقے میں ہے۔ گویا مسئلہ کشمیر پر چین ا ور پاکستان کا ہندوستان مشترکہ دشمن ہے۔ یہ تاریخ ساز لمحات ہیں جن میں سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں۔

کورونا بھی ایک تاریخی وقوعہ ہے، جس میں سے ہم گزر رہے ہیں اس وبا نے ہمارے حالات اور واقعات کو وقوعہ بنا دیا ہے۔ ویسے اس وبا نے 200 سے زائد ممالک کی معیشتوں اور معاشرتوں کا بھرکس نکال دیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا جیسی ترقی یافتہ اقوام بھی کورونا کے ہاتھوں بری طرح پٹ چکی ہیں۔ ترقی یافتہ اقوام جنہیں اپنے ہیلتھ کیئر سسٹم پر ناز تھا، جنہیں اپنی معیشتوں کی مضبوطی اور اثر پذیری پر غرور تھا وہ قومیں جو یہ سمجھتی تھیں کہ ہماری تعمیرو ترقی نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے کہ بس اب اس سے واپس لوٹنا ممکن نہیں ہے وہ بھی اس وبا کے ہاتھوں بُری طرح پٹ چکی ہیں۔ سماجی بہبود کے قائم کردہ نیٹ بھی پارہ پارہ ہو چکے ہیں۔ بڑے بڑے معاملات کاروباری اور صنعتی معاملات کو تو چھوڑیں عوام کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنا ناممکنات میں داخل ہوتا نظر آنے لگا ہے۔ایسا نہیں کہ کورونا وبا کے چند مہینوں کے دوران زمین نے خزانے اگلنے بند کر دیئے ہیں سورج نے روشنی اور آسمان نے مینہ برسانا بند کر دیا ہے۔ پرندے ویسے ہی چہچہا رہے ہیں۔ قدرت کی نعمتیں ویسے ہی نازل ہو رہی ہیں لیکن انسان کے تشکیل کردہ نظام کی کمزوریوں کے باعث قدرت کی نعتمیں، انسانوں تک پہنچ نہیں پا رہی ہیں۔

ہم اس نازک دور میں بُری طرح متاثر ہوئے ہیں اس سے پہلے شائد ہم پر اتنا بُرا وقت کبھی نہیں آیا۔ یا ہم نے اس سے پہلے معاملات کو اس طرح لیا ہی نہیں۔ دنیا کے دو سو ممالک میں پاکستان شائد واحد ملک ہے، جس کی معاشی افزائش منفی ہو گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے ہماری قومی تاریخی حقیقت بھی ہے اور دور حاضر کی حقیقت بھی کہ کوئی ملک کورونا وائرس سے اس قدر متاثر نہیں ہوا ہے جس قدر ہم ہو چکے ہیں۔

کورونا ایک آفت خداوندی ہے ایک ہلاکت آفرینی ہے، اس وبا کے بارے میں فکری انتشار موجود ہے عامتہ الناس میں اس کے بارے میں مجہول خیالات بھی پائے جاتے ہیں۔ غیر سائنسی احوال عام ہیں کئی لوگ اسے ہلاکت خیز وبا تصور نہیں کرتے۔ پھر سرکاری طور پر فکری انتشار کے ساتھ ساتھ انتظامی انتشار بھی پایا جاتا ہے۔ مرکز اور صوبے اس وبا کے بارے میں الگ الگ خیالات کے حامل ہیں پھر اس سے نمٹنے کے لئے بھی یکسوئی نہیں پائی جاتی۔ اس کے بعد ہمارا ریاستی انتظامی ڈھانچہ ہے اس کے بارے میں تو کچھ نہ کہنا ہی اچھا ہے۔

اس کے بارے میں، اس کی کارکردگی کے بارے میں دو آراء نہیں پائی جاتی ہیں۔ ہمارا صحت و طب کا شعبہ اور انتظامیہ تو عمومی حالات میں،عمومی خدمات مہیا کرنے اور لاء اینڈ آرڈر چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اب تو خصوصی حالات ہیں، ان میں سہولیات کی فراہمی تو دور کی بات ضروریات اور انتہائی ضروری اشیاء کی فراہمی بھی یقینی نہیں ہے۔ ثناء مکی جو 200روپے کلو دستیاب ہو جاتی تھی جب پتہ چلا کہ یہ کورونا کا تریاق ہے تو وہ 2/3ہزار روپے کلو میں بھی دستیاب نہیں ہے۔ دیکسا میتھازون کی گولی 1روپے اور انجکشن 10روپے کا تھا جب پتہ چلا کہ اسے کورونا کی علاج کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے تو مارکیٹ سے ہی غائب ہو گیا ہے۔آکسی میٹر 2500/2700روپے میں دستیاب تھا یہ آلہ خون میں آکسیجن کی مقدار کا تعین کرتا ہے۔ کورونا میں استعمال کے باعث یہ 10/12ہزار روپے میں بھی بمشکل دستیاب ہے۔ حکومت تو آٹا چینی کی دستیابی ممکن بنانے، اعلان کردہ ریٹ پر دستیاب کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ پٹرول بھی غائب ہے، حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آ رہی ہے، ایسے میں کورونا نے ہماری معاشی گروتھ کو منفی کر دیا ہے۔ معاملات بہت ہی نازک ہو چکے ہیں، ہم اپنی قومی تاریخ کے تاریخی بحرانی دور سے گزر رہے ہیں، اللہ خیر کرے۔

مزید :

رائے -کالم -