طارق عزیز بھی رخصت ہو گئے

طارق عزیز بھی رخصت ہو گئے
طارق عزیز بھی رخصت ہو گئے

  

نامور کمپیئر، براڈ کاسٹر، اداکار، شاعر اور دانشور طارق عزیز کی وفات پر جس طرح ہر عمر، طبقے اور شعبے کے افراد نے اپنا ذاتی دکھ قرار دیا ہے، اس سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ طارق عزیز نے اپنی 84سالہ زندگی میں ایک نہیں کئی نسلوں کو متاثر کیا، وہ ایک درویش منش انسان تھے اور ان کی زندگی اس بات کا حقیقی عکس نظر آتی ہے۔ انہیں بے پناہ شہرت ملی، جس کے بل بوتے پرجتنی چاہتے دولت بنا سکتے تھے، انہوں نے خود ایک بار کہا تھا کہ ان کا پروگرام نیلام گھر اگر امریکہ یا یورپ کے کسی ملک میں اتنے عرصے نشر ہوتا تو وہ دنیا کے امیر ترین شخص ہوتے لیکن وہ پاکستان کو نہیں چھوڑنا چاہتے کیونکہ انہیں جو مزہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے میں آتا ہے وہ کسی اور ملک کے نعرے میں نہیں آ سکتا۔ ایک محب وطن، سادہ دل، منکسر المزاج اور سراپا محبت شخصیت کے مالک طارق عزیز بڑی خاموشی سے اچانک دنیا چھوڑ گئے۔ کسی کو بھی ان کی علالت کا علم نہیں تھا، نہ ہی کسی اخبار میں انہوں نے اس کی خبر چھپوائی، شاہد وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ بیماری کا سن کر حکمران بھاگ جائیں اور انہیں گلدستے بھجوانا شروع کر دیں، ان سے زیادہ کون یہ جانتا ہو گا کہ اس ملک میں فنکاروں، ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے تو اس لاہور میں ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ حکومت کی بے حسی کو سب نے دیکھا کہ بیماری کے دوران ان کی ملازمت بھی چھین لی گئی اور علاج کے لئے کسی نے زحمت تک گوارا نہیں کی۔

طارق عزیز کو مالی لحاظ سے کسی قسم کی کوئی مشکل درپیش نہیں تھی۔ بلکہ وہ تو اپنی ساری جائیداد وفات کے بعد قومی خزانے میں جمع کرانے کی وصیت کر چکے تھے، البتہ یہ ضرور ہے کہ انہیں آخری دنوں میں تنہائی اور بے قدری کے احساس کا سامنا تھا، وہ زندگی سے مایوس نظر آتے تھے جب سے کورونا کی وباء آئی بتانے والے کہتے ہیں کہ وہ گھر تک محدود ہو گئے تھے، نیلام گھر کی سرگرمی بھی باقی نہیں رہی تھی۔ خود انہوں نے وفات سے پہلے کئے گئے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ وہ کئی دن سے بستر پر لیٹے سوچ رہے ہیں کہ نقل و حرکت بھی اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے، نجانے اب وہ دن دوبارہ آتے ہیں یا نہیں، فی الوقت تو ان کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ایک باغ و بہار مجلسی شخصیت کو جب پابند سلاسل جیسی زندگی گزارنا پڑی اور حلقہ احباب بھی کٹ کر رہ گیا تو ڈپریشن اور اکلاپے نے شاید انہیں اندر ہی اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ شاید زندگی میں ان کی دلچسپی ختم ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان کا مضبوط دل انہیں دھوکہ دے گیا۔

طارق عزیز کو کئی حوالوں سے تادیر یاد رکھا جائے گا۔ ان کا پروگرام چار دہائیوں تک پی ٹی وی کی زینت بنا رہا۔ اس پروگرام کی سب سے بڑی افادیت یہ تھی کہ اس کے ذریعے معاشرے میں علم سیکھنے کی طرح ڈالی گئی۔ اس میں سوالات پوچھنے کی روایت نے لوگوں میں تجسس کو ابھارا، علم، سائنس، اخوت، اسلام، معاشرت اور حالات حاضرہ کے بارے میں پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات معاشرے میں علم کے پھیلاؤ کا باعث بنے۔ کئی دہائیوں بعد بھارت میں اس پروگرام کی نقل کی گئی اور کون بنے گا کروڑ پتی جیسے پروگرام شروع کئے گئے مگر جو شائستگی، تہذیبی رچاؤ اور ادبی چاشنی نیلام گھر میں تھی، وہ دنیا کے کسی اور پروگرام میں نظر نہ آئی، اس کی سب سے بڑی وجہ خود طارق عزیز کی شخصیت تھی، وہ پروگرام کے آغاز ہی میں کچھ ایسی باتیں کہہ جاتے تھے کہ سننے والا اور ہال میں موجود حاضرین بحث کئے بغیر نہیں رہ پاتے تھے،

بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ طارق عزیز نے اپنے پروگرام کے ذریعے اردو زبان کی وہ خدمت کی جو بڑے بڑے علمی ادارے بھی نہیں کر سکتے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی الفاظ کا تلفظ تھا ہر لفظ کو اتنی خوبصورتی کے ساتھ ادا کرتے کہ جیسے وہ دہلی یا لکھنؤ کے رہنے والے ہوں۔ اردو زبان کے وقار اور متانت کو انہوں نے صحیح معنوں میں اجاگر کیا۔ ان کے ہاں لفظوں کا چناؤ اتنا دلکش ہوتا تھا کہ وہ بولتے چلے جاتے اور سننے والے پر سحر سا طاری ہو جاتا، وہ اپنے پروگرام کے آغاز اور اختتام پر کوئی نہ کوئی ایسا شہ پارہ ضرور بیان کرتے جو ایک طرف انسانیت کا درس دیتا تو دوسری طرف وطن سے محبت کے جذبات ابھارتا۔ وہ پروگرام برائے پروگرام نہیں کرتے تھے، بلکہ ہر پروگرام کے اندر ایسا کہہ جاتے کہ بہت سوں کی اصلاح ہوتی تو بہت سی الجھنیں ختم ہو جاتیں۔

میں نے طارق عزیز کو اس وقت بہت قریب سے دیکھا جب 80کی دہائی میں طارق عزیز ٹرسٹ کی ملتان میں بنیاد ڈالی گئی، ملتان کے چند دوستوں نے مل کر اس جذبے کے ساتھ اس ٹرسٹ کی بنیاد رکھی تھی کہ اس کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کی جائے گی، جن بچیوں کی شادیاں وسائل نہ ہونے کے باعث نہیں ہوتیں ان کے لئے وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ اس ٹرسٹ کی افتتاحی تقریب کے لئے طارق عزیز ملتان آئے۔ وہ بہت خوش تھے کہ ایک اچھے مقصد کے لئے انہیں بلایا گیا ہے، وہ اصرار کرتے رہے کہ اس ٹرسٹ کا نام بدلا جائے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی اتنی شہرت ہو مگر منتظمین کا اصرار تھا کہ یہ طارق عزیز سے ان کی محبت ہے اس لئے نام نہیں بدلیں گے۔ اس دوران شام کے وقت مجھے یہ موقع مل گیا کہ میں طارق عزیز سے اخبار کے لئے انٹرویو کر سکوں۔ طارق عزیز کی شخصیت کا رعب دبدبہ مجھ پر طاری تھا مگر جب گفتگو شروع ہوئی تو یوں لگا کہ جیسے ایک بہت شفیق، نرم خو اور سادہ بندے سے بات چیت ہو رہی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ طارق عزیز نے بطور خاص یہ بات کہی تھی کہ ہم سب ایک عام سے آدمی ہوتے ہیں لیکن پھر قدرت ہمارا ہاتھ پکڑ کر خاص بنا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں ساہیوال میں ایک عام سا نوجوا ن تھا، کسی دوسرے کو تو کیا خود مجھے بھی علم نہیں تھا کہ ایک دن قدرت مجھے اتنا مشہور کر دے گی۔ میں سب کچھ بھول سکتا ہوں مگر اپنے ساہیوال کو نہیں بھول سکتا کیونکہ اس کی علمی فضا نے مجھے ایک ذرے سے آفتاب بنانے میں اہم کردار کیا ہے۔ان سے جب میں نے پوچھا کہ ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ کیا تھا تو انہوں نے کہا جب پی ٹی وی کے آغاز پر انہیں پہلی اناؤنسمنٹ کے بغیر منتخب کیا گیا۔ میری شناخت اس ایک اناؤنسمنٹ کی وجہ سے ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ اسی ملاقات میں طارق عزیز نے مجھے یہ شعر لکھ کر آٹو گراف بھی دیا تھا۔

ہم وہ سیاہ بخت ہیں طارق کہ شہر میں

کھولیں دکاں کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں

طالب علمی کے زمانے میں طارق عزیز ایک شعلہ بیان نوجوان مقرر تھے، جس کی سوچ انقلابی تھی۔ جب وہ عملی زندگی میں آئے تو انہوں نے پاکستانیت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا وہ سیاست میں آئے لیکن انہیں شعبہ راس نہ آیا جلد ہی تو بہ تائب ہو کر اپنے اصل شعبے کی طرف لوٹ گئے آج کل وہ اپنی یادداشتیں قلمبند کر رہے تھے اور بعض قریبی دوستوں کو بتایا بھی تھا کہ جلد ہی وہ کتابی شکل میں منظر عام پر آجائیں گی۔ اب جبکہ وہ اچانک دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں تو ان کی اس کتاب کو محفوظ کیا جانا چاہئے کیونکہ جس طرح طارق عزیز نے زندگی کو دیکھا ہے، شاید ہی کسی دوسرے نے دیکھا ہو۔

مزید :

رائے -کالم -