سنجیدہ کورونا وائرس اورغیر سنجیدہ حکومت نایاب گفتگو!

سنجیدہ کورونا وائرس اورغیر سنجیدہ حکومت نایاب گفتگو!
سنجیدہ کورونا وائرس اورغیر سنجیدہ حکومت نایاب گفتگو!

  

ڈبلیو۔ایچ۔او نے پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے اگر پاکستان کی حکومت نے کورونا وائرس کو سنجیدگی سے نہ لیا تو پاکستان کے لئے آنے والا وقت بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔ایسا نہ ہو جب حکومت ہوش میں آئے تو اُس وقت بہت دیر ہوچکی ہو۔ دنیا میں اس وقت 65 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں جبکہ3 لاکھ 75 ہزار افراد اس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔امریکہ اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے وہاں 25 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا وائرس سے متاثراور ایک لاکھ سے زیادہ کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس کے خوف میں مبتلاہے۔ روز بروز مریضوں کی تعداد اور ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس وقت کورونا وائرس کے شکار ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔جو کہ بہت ہی تشویشناک بات ہے۔حکومت کے بنائے گئے ایس او پیز پر کہیں بھی عمل نہیں کیا جارہا ۔لوگ بازاروں،ہسپتالوں اور سڑکوں پر ماسک کے بغیر گھوم رہے ہیں جس کے نتیجے میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

پاکستان میں گذشتہ روز متاثرین کی تعداد میں چھ ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے۔یہ پاکستان میں ایک دن میں مریضوں کی تعداد میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس سے مزید 111 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو رجسٹرڈ ہوا اور ایک ہزار اموات 21 مئی تک ہوئیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ابتدا میں کیسز میں اضافے کی رفتار سست تھی لیکن اب اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز پانچ لاکھ سے اوپر پہنچنے کا خدشہ ہے جون اور جولائی میں سب سے زیادہ کیسزسامنے آسکتے ہیں۔

کورونا وائرس کا شکار ارکان پارلیمنٹ بھی ہورہے ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث صوبائی وزیر مرتضٰی بلوچ ہلاک ہوئے ہیں۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کورونا وائرس کا شکار ہیں اور سابقہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابقہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید بھی کورونا کا شکار ہوکر اپنے گھروں میں ہی قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔رکن پنجاب اسمبلی مسلم لیگ (ن) رانا عارف اقبال اور اُن کی فیملی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔ رانا عارف اقبال پی پی 35 سیالکوٹ سے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں اور وہ اپنے حلقے میں فرنٹ لائن پر کورونا وائرس کا شکار لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔اِس کے علاوہ فرنٹ لائن پر کورونا کا مقابلہ کرنے والے ڈاکٹرز اور محکمہ پولیس بھی اس سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ڈی۔آئی۔جی آپریشن محمداشفاق خان بھی اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے اس مرض کا شکار ہو کر قرنطینہ میں چلے گئے۔ اللہ سے تمام لوگوں کی صحتیابی کیلئے دُعاگو ہوں۔

پاکستان میں کورونا وائرس میں تیزی سے اضافہ ہونے کے بعد ایک عام آدمی کے ذہن میں بھی یہ خیال پیدا ہورہا ہے کہ آخر یہ تعداد بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟ اور آخر کیوں اس وائرس سے نجات کا کوئی حل سامنے نہیں آ رہا؟

طبی ماہرین کے مطابق بعض اہم نکات کی طرف توجہ نہ دینے سے بھی کیسز بڑھتے جارہے ہیں، تاہم اگر بروقت اس کا خیال رکھا جائے تو اس وبا سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سب سے بڑی غلطی آئیسولیشن وارڈاور قرنطینہ مراکز میں فرق نہ کرنا ہے اور اس حوالے سے بڑی کنفیوژن پائی جارہی ہے اوریہی غلطی کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ بن رہی ہے۔ آئیسولیشن کا مریض قرنطینہ میں ڈال دیا جائے تو یہ ایک فاش غلطی ہوگی۔دراصل قرنطینہ میں آئیسولیشن وارڈ سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔اس نکتے پر بڑی غلطی کا امکان ہوتا ہے کہ کہیں قرنطینہ اور آئیسولیشن کے مریضوں کو ایک ساتھ رکھ کر اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو منفی اور مثبت مریضوں کے مل جلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ایران سے آئے زائرین کے قرنطینہ مرکز میں ایک ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کے نتیجے میں ہی آدھے سے زیادہ افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے۔

دراصل مریض جن میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے انہیں مثبت پیغامات اور ایسے لوگوں کے متعلق بتانا ہے جو اس وائرس سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ حکومت کو ماہرین نفسیات کی ایک ٹیم بھی ہر ہسپتال اور قرنطینہ سنٹر میں تعینات کرنی چاہیے جو وہاں موجود لوگوں کی ہمت بڑھائے اور انہیں مایوسی سے نکالنے کے لئے ہر مریض کے ساتھ سیشن کا اہتمام کریں۔بات یہ ہے کہ قرنطینہ سنٹر اور آئسولیشن سنٹر وارڈ میں پہلے ہی دباؤ کا ماحول ہوتا ہے، ایسے میں معمولی تبدیلی کرکے یہاں رہنے والے مریضوں کو ذہنی آسودگی فراہم کی جاسکتی ہے۔کورونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کے دوران ذہنی دباؤ اور ڈپریشن قدرتی عمل ہے۔ لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں آپ کمزور ہیں یا آپ یہ کام نہیں کرسکتے۔ایسی سرگرمیوں کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنائیں جو ذہنی دباؤ سے نکلنے میں مدد دے سکے، جیسا کہ صحتمند خوراک کھائیں،فیملی اور دوستوں سے بات کرتے رہیں، جسمانی سرگرمی ورزش وغیرہ کے لئے وقت نکالیں اور ذہنی دباؤ دور کرنے کی عارضی اور غیر صحت مند اشیاء سگریٹ نوشی وغیرہ سے پرہیز کریں۔سوشل میڈیا پر مایوسی پھیلانے والی خبروں سے دور رہیں۔

حکومت کو اِس نازک موقع پر انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگااور پورے ملک میں پندرہ دِن کے لئے لاک ڈاؤن کی بجائے کرفیو نافذ کریں کیونکہ یہ سختی وقت کی اشد ضرورت ہے۔اگر اِس وقت یہ اہم فیصلہ نہ کیا گیا تو پاکستان میں یہ وبا کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لے گی۔نیوزی لینڈ میں اِس موذی وبا کا خاتمہ وہاں کی حکومت کے سخت ایکشن سے ہوا ہے۔یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کی پاکستان کی عوام میں مہذب رویے کی کمی ہے جو کہ حکومتی قوانین کی راہ میں رکاوٹ بھی ہے۔اِس سلسلے میں حکومت عوام کو سخت جُرمانہ کرے۔ حکومت سے اپیل ہے کی وہ جلدازجلد فیصلہ کرکے اُس پر عملدرآمد کروائے۔یہ نہ ہو کہ بہت دیرہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -