باغبان پو دوں کو ضرررساں کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں، ترجمان محکمہ زراعت

باغبان پو دوں کو ضرررساں کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں، ترجمان محکمہ زراعت

  

قصور۔19 جون(اے پی پی)ترجمان محکمہ زراعت نے انارکے باغبانوں کو سفارش کی ہے کہ وہ پو دوں کو ضرررساں کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں‘موسم گرما میں انار کے پودوں پر مختلف ضرررساں کیڑے انارکی تتلی سکیلزسفیدمکھی پھل کی مکھی وغیرہ حملہ آورہوتے ہیں‘سکیلز اور سفیدمکھی پتوں فصل کو کمزور کرتے ہیں جسم سے فاسدمادہ خارج کرتی ہیں جس سے سیاہ لی اگ آتی ہے جس سے ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتاہے۔انہوں نے دوران ملاقات”اے پی پی“کو بتایا کہ انارکے پودے پرحملہ کی صورت میں کاربو سلفان 20ای سی بحساب 2.5ملی لیٹر فی لیٹرپانی میں حل کرکے سپرے کرے انارکی تتلی اور پھل کی مکھی پھل کے اندرسوراخ کرکے داخل ہوجاتی ہے اور اندر سے پھل کھا کر نقصان کرتی ہے۔ان سوراخوں پر بیکٹریااور فنکس حملہ آور ہوتے ہیں جس سے پھل گل سڑ جاتاہے۔

سدرہ اقبال ٹی سی ایف کی بطور گڈول ایمبیسیڈرمقرر

کراچی (پ ر)سٹیزن فاؤنڈیشن نے حال ہی میں معروف صحافی سدرہ اقبال کواپناگڈول ایمبسیڈر مقررکیا ہے جو معاشرے میں بہتر ی لانے کیلئے معیاری تعلیم کی اہمیت کے بارے میں آگہی کے فروغ میں تعاون کریں گی۔گڈول ایمبسیڈر کے طور پر سدرہ TCFٹیم کے ساتھ مل کراپنی بااثر شخصیت کے رسوخ سے پاکستان میں تعلیمی ایمرجنسی کے بارے میں آگہی پیداکریں گی اور واضح کریں گی کہ کس طرح TCF ملک کے مشکل حالات والے علاقوں میں بنیادی سطح تک کم مراعات یافتہ طبقے کے بچوں کو تعلیم کی سہولت بہم پہنچارہی ہے۔" ہمارے ارد گرد کی دنیا یکسر طور پر بدل گئی ہے اور ہمیں اس تبدیلی کو اپنانے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ نئی دنیا میں جدت، دردمندی، عزم اور اگلی نسل کی تربیت ِ نو کی ضرورت ہوگی۔TCFمیں سیکھنے کیلئے مثبت ماحول اور اعلیٰ مہارت کے حصول کے مواقع فراہم کرنے کی روشن روایت قائم ہے جس کے ذریعہ طلبہ کو اپنے خوابوں کی تعبیر ملنے اور غربت سے چھٹکارے کا یقین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ "سدرہ نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔TCF کے ساتھ اشتراک کے بارے میں انہوں نے کہا،" TCFکی خدمات نے مجھے ہمیشہ متاثرکیا ہے اس لئے میں ان کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کیلئے بہتر پرجوش ہوں۔

خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیکھنے، یقین پیدا کرنے اور روشن مستقبل کے خواب دیکھنے کی بہت اہمیت ہے۔ "سدرہ کا شمار نہایت بااثر اور نمایاں ترین نوجوانوں میں ہوتا ہے جو میڈیا پر اپنے کام کے ذریعہ حقیقی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جن کو UAE کی حکومت کی جانب سے GR8 Women Award for Journalism 2014 دیا گیا ہے۔وہ اس لحاظ سے بھی پہلی پاکستانی ہیں جن کو ایک باوقار انٹرنیشنل لیڈرشپ پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی جو Foreign and Commonwealth Office، گورنمنٹ آف یو کے کا فیلوشپ کا اقدام ہے۔ گزشتہ 12سال سے سدرہ ٹیلی ویژن کے صحافیوں کی صف اوّل میں شامل ہیں اور سیاست، عالمی امور اور پاکستان کے سماجی ومعاشی مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں۔

TP ٹریکر کی این سی او سی اور این آئی ٹی بی کے ساتھ شراکت داری

لاہور)(پ ر)پاکستان کی معروف IoT کمپنی TPL Trakkerنے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (NCOC) کے ساتھ شراکت داری کی ہے جس کا مقصد COVID-19 کے خلاف پاکستان کی جنگ میں ان کی قومی جدوجہد میں تعاون کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے TPL Trakker کی میپنگ ڈویژن TPL Maps بڑے شہروں میں کورونا وائرس کے کیسز کی میپنگ، تجزیہ اور رپورٹ کرتے ہوئے اس وباء کے دوران پاکستان کے عوام کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ کورونا وائرس کے کیسز میں حالیہ اضافہ کے پیشِ نظر انٹریکٹو میپ بیماری کے پھیلاؤ والے مقامات کی نشاندہی کرتا ہے جس سے صوبائی حکومتوں کو جغرافیائی سطح پر سمارٹ لاک ڈاؤنز کے نفاذ اور اسے موثر بنانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان میں COVID-19 کے آغاز کے بعد TPL Trakker کی ٹیم نے متعدد ٹولز تشکیل دینے کے لئے لوکیشن سلوشنز اور ڈیٹا اینلائسز میں اپنی مہارت کا اطلاق کیا جس سے COVID-19 رسپانس میکنزم میں سمارٹ ٹریکنگ اور آٹو میشن ممکن ہو سکے گی۔ تشخیص کرنے پر NCOC اور NITB نے ان ضروری چیلنجز کو حل کرنے کے لئے TPL Trakker's کے سلوشنز اور لوکیشن بیسڈ سروسز کا انتخاب کیا جو اس مرض کے پھیلاؤ میں جامع قومی رسپانس فراہم کرسکیں۔ اس شراکت داری کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے TPL Trakker کے سی ای او، سرور علی خان، نے کہا کہ اپنے کاروباری امور میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے ساتھ ہم اپنی تکنیکی صلاحیتوں کے ذریعے حکومتی اداروں اور قومی مقصد میں تعاون پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہماری لوکیشن بیسڈ خدمات، COVID-19 میپنگ ٹولز، سمارٹ لاک ڈاؤن آٹومیشن اور تکنیکی تعاون کسی اجرت کے بغیر اس وباء سے قوم کو کامیابی سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ شراکت داری شیئر ہولڈرز کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے اور ڈیجیٹل کمپنیوں کے اپنے گروپ کے لئے پائیدار ترقی کے حصول کے لئے ڈسرپٹو ٹیکنالوجیز کے استعمال کے حوالے سے TPL کے مشن کے عین مطابق ہے۔

NITB کے سی ای او شباہت علی شاہ نے کہا کہ یہ شراکت داری تکنیکی شعبہ میں ایک لیڈر کی حیثیت سے TPL Trakker کے استحکام کے ساتھ ساتھ لوکیشن بیسڈ ٹیکنالوجی کے حوالے سے اس کی زبردست صلاحیتوں کی ایک اہم مثال ہے۔ NITB میں ہم پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لئے کام کر رہے ہیں اور COVID-19 کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومت کے ساتھ مرکزی ڈیٹا سسٹم کی تشکیل کیلئے TPL Trakker جیسے شراکت داروں کا تعاون ہمارے وژن کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔

جاز کیش کاڈیجیٹل ادائیگیوں کیلئے ”ہوجائے گا“ مہم کا آغاز

اسلام آباد(پ ر) پاکستان کی سب سے بڑی مواصلاتی کمپنی جاز، مالی لین دین میں آسانی پیدا کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ اس لئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو آسان اور محفوظ ترین بنا نے کے لئے پاکستان کے نمبر 1 موبائل اکاؤنٹ جاز کیش نے ”ہوجائے گا“ مہم کا آغاز کر دیاہے۔چونکہ ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کے باعث نقل و حرکت میں کمی واقع ہوئی ہے، جازکیش لوگوں کو گھر بیٹھے آرام سے بل کی ادائیگی، رقم کی منتقلی، اور موبائل لوڈ ادا کرنے کی سہولت دے رہا ہے - ان حالات میں زیادہ سے زیادہ سماجی دوری کو یقینی بناناجاز کی ہمیشہ سے اولین ترجیح رہی ہے تا کہ وہ اپنے صارفین کے مالی لین دین کو آسان اورقابل بنائے۔ ٹریفک چالان کی ادائیگی، ٹکٹوں، اسکول فیس کی ادائیگی سے لے کر کیو آر کوڈز، ترسیلات زر اور کارپوریٹ تقسیم کے ذریعہ لین دین تک، جاز کیش یہ سب ایک وعدہ - 'ہو جا ئے گا' کے ساتھ پیش کرتا ہے، جو جازکیش کے صارفین کے موجود اعتماد کو بیان کرتا ہے۔جاز کیش نے ملک بھر میں کام کرنے والے تاجروں تک بھی اپنی خدمات میں توسیع کی جس میں تاجرجاز کیش کیو آر کے ذریعے بھی ادائیگی قبول کرسکتے ہیں، اسی طرح آن لائن تاجر اپنے صارفین سے ادائیگی حا صل کرنے کے لئے ادائیگی کے گیٹ و ے کو استعمال کرسکتے ہیں تاجروں کو ادائیگی کے آلات تک رسائی حاصل ہوتی ہے،۔ بلکہ وہ جازکیش ویب سائٹ کے ذریعے پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل آن بورڈنگ حل کواستعمال کرکے اپنے مرچنٹ اکاؤنٹس میں بھی سائن اپ کرسکتے ہیں۔

آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی صورتحال

اسلام آباد (اے پی پی) واپڈا نے مختلف آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعداد وشمار جاری کر دیئے ہیں۔ جمعہ کو جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 115700کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 35 ہزارکیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پرپانی کی آمد66 ہزارکیوسک اور اخراج66 ہزارکیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد50300کیوسک اور اخراج45 ہزار کیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پرپانی کی آمد50500کیوسک اور اخراج21700 کیوسک ہے۔ تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1392فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح1449.52 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 1.191 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1210.15 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.994 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 642.20 فٹ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.062 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

سپرباسمتی کی پنیری کل تک کاشت کرنے کی ہدایت

فیصل آباد (اے پی پی) دھان کے کاشتکاروں کو سپرباسمتی کی پنیری کل تک کاشت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور شرح بیج 500 سے 750گرام فی مرلہ استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیاگیاہے۔ماہرین زراعت نے کہاکہ کاشتکار زمین کو پانی دے کر وتر حالت میں لائیں اور پھر دوہراہل چلاکر سہاگہ بھی دیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ پنیری کاشت کرنے سے قبل دوہراہل چلاکر سہاگہ دیتے ہوئے تیار شدہ کھیت میں خشک بیج کا چھٹہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکاراس پر اروڑی، توڑی، پھک یا پرالی کی ایک انچ موٹی تہہ بکھیر دیں اور اسکے بعد ہلکا پانی لگا دیں۔ انہوں نے کہاکہ جس نکے سے پانی دیاجائے اس کے آگے سوکھی گھاس وغیرہ رکھ دینی چاہیے تاکہ پانی کا زور کم ہو جائے اور بیج بہنے نہ پائے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار چند دن بعد توڑی و پرالی کواٹھا دیں تاکہ پنیری پر سورج کی روشنی پڑ سکے۔ انہوں نے کہاکہ زنک اور بوران کی کمی دھان کے کھیتوں میں واضح نظر آتی ہے لہٰذا 33فیصد والا 30 کلو گرام زنک سلفیٹ فی ایکڑ نرسری پر ڈالنے سے زنک کی کمی کو دور کیا جاسکتاہے۔انہوں نے بتایاکہ سپرباسمتی، پی ایس 2، باستمی 385، باسمتی 2000، باسمتی 515 اور باسمتی 370 کی پنیری 20جون یا 6ہاڑتک کاشت کرکے یکم جولائی سے 20جولائی بمطابق 17ہاڑ سے 4ساون تک، باسمتی 198 ساہیوال، اوکاڑہ اور ملحقہ علاقوں میں پنیری کی کاشت 15جون یا یکم ہاڑ تک کاشت کرکے یکم جولائی سے 15جولائی بمطابق 17ہاڑ سے 31 ہاڑ تک، شاہین باسمتی کی پنیری کی کاشت 15جون سے 30جون بمطابق یکم ہاڑ سے 16ہاڑ تک کاشت کرکے 15جولائی سے 31 جولائی بمطابق 31ہاڑ سے 15ساون تک، کے ایس 282، نایاب اری 9، اری 6، کے ایس کے 133، کے ایس کے 434،پی کے 386، نیاب 2013 کی پنیری کی کاشت 7جون یا 24جیٹھ تک کاشت کرکے 20جون سے 7جولائی بمطابق 6ہاڑ سے 23ہاڑ تک کھیت میں منتقل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ 15 جون یا یکم ہاڑ تک وائے 26، پرائیڈ 1، شہنشاہ 2، پی ایچ پی 71 کی پنیری کو کاشت کرکے اس کی عمر 25 سے30 دن ہونے پر اسے کھیت میں منتقل کیاجا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بروقت اور شیڈول کے مطابق پنیری کی کاشت اور اس کی کھیتوں میں منتقلی سے شاندار پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

مزید :

کامرس -