دوحہ معاہدے پر عملدرآمد جاری، افغانستان سے مزیدامریکی افواج کا انخلاء

  دوحہ معاہدے پر عملدرآمد جاری، افغانستان سے مزیدامریکی افواج کا انخلاء

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ نے قطر میں طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق افغانستان میں موجود اپنی فوج کم کرکے 8600کردی۔ امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل کینتھ میکنزی نے یہاں ایک تھنک ٹینک ایسپن انسٹیٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ طالبان کی طرف سے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے ابھی تک پوری طرح مطمئن ہے اور اگرچہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو امریکہ اس عہد کے مطابق مئی 2021ء تک افغانستان سے مکمل فوجیں نکال لے گا۔ یاد رہے کہ دوحہ میں 29فروری کو ہونے والے معاہدے کے مطابق امریکہ نے افغانستان سے 135 دنوں کے اندر اپنی فوج کی تعداد کم کرکے 8600کی سطح پر لانا تھا۔ اب طالبان کی طرف سے معاہدے پر پورا عمل درآمد ہونے کی وجہ سے امریکہ نے بھی اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ جنرل میکنزی نے یقین ظاہر کیا کہ اب طالبان کی طرف سے کوئی حملے نہیں ہوں گے اس لئے امریکہ بھی پورے خلوص سے افغانستان سے مکمل انخلاء کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ داعش طالبان کے دوست نہیں ہیں لیکن امریکہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ مستقبل میں طالبان کا القاعدہ کے ساتھ کیا رویہ ہوگا۔ اگر طالبان نے لفظی بہانوں کی بجائے عملی طور پر القاعدہ کے خلاف اقدام کئے تو پھر امریکہ بھی طالبان کی حمایت کرے گا۔

مزید :

صفحہ اول -