چوہدری نذیر کا خاندان1947ء میں انبالہ سے ہجرت کرکے گوجرانوالہ آیا

چوہدری نذیر کا خاندان1947ء میں انبالہ سے ہجرت کرکے گوجرانوالہ آیا

  

لاہور(فلم رپورٹر)چوہدری نذیر احمد مرحوم حقیقی طور پر خوددار شخص تھے۔ انہوں نے زندگی کا سفر نہایت ایمانداری اور سخت محنت سے طے کیا۔ ان کی زندگی میں اخبار فروشوں کو بڑی بڑی مشکلات پیش آئیں لیکن وہ نہایت عزم و ہمت کے ساتھ منزل کی جانب بڑھتے چلے گئے۔ مرحوم اپنی بات کے پکے، قول کے سچے اور بے حد درد رکھنے والے انسان تھے۔ یوں کہیے کہ اس تناور درخت کا سایہ ہم سب کیلئے تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ لیکن ان کی یادیں، باتیں، ان کے کارنامے اور ان کا طرز زندگی ہمیشہ سب کو یاد رہے گا۔اخبار فروشوں کے ہر دلعزیز رہنما کئی سالوں سے لاہور میں اخبار فروش یونین کے صدر چوہدری نذیر احمد مرحوم کا تعلق ارائیں برادری سے تھا مرحوم کاخاندان 1947ء میں ضلع انبالہ سے ہجرت کر کے ضلع گوجرانوالہ کے گاؤں نندپور میں آباد ہوا۔ چوہدری منظور احمد کے دادا اوران کے بھائی، خاندان کے تقریباً تمام لوگ فسادات کے دوران شہید کر دیئے گئے تھے۔ تقسیم ہند کے وقت چوہدری نذیر کے والد کی عمر تقریباً بارہ سال تھی اور انہوں نے حملے کے وقت دوڑ کر بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی تھی۔ان کا خاندان جب پاکستان آیاتو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کاشتکاری کا پیشہ جاری رکھا۔ چوہدری نذیر کی پیدائش نند پور کی ہے۔مرحوم نے پرائمری تعلیم کا مرحلہ کارپوریشن کے سکول کامونکی سے طے کیا۔ کامونکی ہی کے ہائی سکول میں مزید تعلیم مکمل کی اور کچھ عرصہ بعد مرحوم کے والد صاحب کاشتکاری چھوڑ کر لاہور منتقل ہو گئے۔ لاہور میں ان کے خاندان کے چوہدری رشید احمد اخبارات فروخت کرنے کا کام کرتے تھے۔ والد صاحب نے بھی لاہور آ کر یہی پیشہ اختیار کر لیا۔ ان کے پیچھے پیچھے خاندان کے باقی لوگ بھی 1976ء میں نقلِ مکانی کر کے لاہور آ پہنچے۔ چوہدری نذیر احمدنے گورنمنٹ ہائی سکول چوبرجی گارڈن میں داخلہ لے لیا۔ وہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کر کے دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا اور ایف ایس سی کر لی۔ سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ والد کی اخبار فروشی کے سلسلے میں معاونت بھی شروع کردی۔ چوہدری نذیر احمدمیکلوڈ روڈ کے رائل پارک کے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھیچوہدری رشید احمد مرحوم جو کہ اخبار مارکیٹ میں اخبار فروش یونین کے صدر تھے، ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کو فلاحی کاموں اور یونین ازم میں دلچسپی پیدا ہوئی۔چوہدری رشید احمد نے اخبار فروشی میں مرحوم کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اپنا جانشین مقرر کیا۔ چوہدری رشید احمد 1999ء میں وفات پا گئے تو اخبار فروش برادری نے مرحوم کو اپنا صدر منتخب کر لیا۔ چوہدری رشید احمد مرحوم بہت ہی نیک، ایماندار اور درویش صفت انسان تھے۔ انہوں نے فلاحی کاموں کی انجام دہی کے سلسلے میں چوہدری نذیر احمد کی بہترین تربیت کی۔مرحوم کے چچا چوہدری جہانگیر لاہور چھاؤنی میں اخبار سپلائی کرتے تھے، ان کی سرپرستی بھی ان کو میسر آئی۔چچا کی دوائی خانہ چوک چھاؤنی میں ان کی بک شاپ بھی تھی۔مرحوم نے اپنے چچا سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ انہی کی راہنمائی اور شفقت سیانہوں نے روزنامہ ”جسارت“ کی ایجنسی برائے لاہور 1983ء میں حاصل کی اور پھر اس کے لئے بھی بہت کام کیا۔ اسی طرح پشاور سے روزنامہ ”فرنٹیئر پوسٹ“ نکلا تو انہوں نے اس کی بھی ایجنسی لے لی۔ دونوں اخبارات کو ایئرپورٹ سے اٹھا کر لانا ہوتا اور ان کی ڈسٹری بیوشن کرنا ہوتی تھی۔ اخبارات کے علاوہ مختلف نیشنل اور انٹرنیشنل میگزینوں کی بھی سیل ایجنسی بنام چوہدری نیوز ایجنسی کام ہو تا رہا۔ 1990ء میں اکبر علی بھٹی مرحوم نے روزنامہ پاکستان کا آغاز کیا تو اس کی ڈسٹری بیوشن ٹیم میں مَیں بھی چوہدری نذیر احمدشامل تھے اور زندگی کے آخری سانس تک ان کا روزنامہ پاکستان سے خصوصی رشتہ قائم رہا۔20سال سے اخبار فروش یونین کی صدارت کرنے والے چوہدری نذیر احمد مرحوم سماجی اور فلاحی کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اخبار فروش یونین کے سابق صدرچوہدری رشید احمدمرحوم ایک ایسا درخت تھے جس کا پھل ہزاروں لوگوں نے کھایا۔

چوہدری نذیر

مزید :

صفحہ اول -