سینیٹ اجلاس، ناکام حکمرانوں کا عوام دشمن بجٹ، اپوزیشن، اگلا الیکشن بھی جیتیں گے: حکومت

      سینیٹ اجلاس، ناکام حکمرانوں کا عوام دشمن بجٹ، اپوزیشن، اگلا الیکشن بھی ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ میں اپوزیشن نے بجٹ کو ناکام حکومت کا عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحرانوں پر بحران پیدا ہو رہے ہیں، حکومت کورونا کے پیچھے چھپ رہی ہے، 18ویں ترمیم پر بحث کا غلط وقت ہے،این ایف سی کی بات ہو رہی ہے، صوبوں کا حق نہیں مارنا چاہئے۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، بجٹ پر بحث کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر کرشنا کماری نے کہا کہ یہ ناکام حکومت کا عوام دشمن بجٹ ہے، بحرانوں پر بحران پیدا ہو رہے ہیں، آخر غریب عوام جائے تو جائے کہاں؟ ان سے پیٹرول بھی دستیاب نہیں ہو رہا ہے۔کرشنا کماری نے کہا کہ بلاول بھٹو نے نیازی حکومت کو آئینہ دکھایاہے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین نے بھارت کو سبق سکھایا ہے جبکہ پاکستان نے بھارت کو واک اوور دیا، بھارت کے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن بننے پر اعتراض بھی نہیں اٹھایا، ایک طرف مودی کو احساس پروگرام کے حوالے سے مدد کی آفر کی جارہی ہے کہ دوسری طرف وزیر اعظم سندھ جاکر وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے، مشاہد حسین سید نے کہا کہ اس حکومت میں مافیاز کا اضافہ ہو رہا ہے۔سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ لگ رہا ہے یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، مہنگائی میں اضافہ دھڑا دھڑ ہو رہا ہے،کورونا کا بہت بڑا مسئلہ ہے،خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں آکسیجن نہیں، پمز میں بھی کوئی چیز نہیں ملے گی، ترقیاتی فنڈز کو ہسپتالوں اور تعلیم کی طرف لگانا چاہیئے،حکومت باہر سے لوگوں کو لانے میں فیل ہوچکی ہے۔سینیٹر عابدہ عظیم نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے،حکومت کوویڈ کے پیچھے چھپ رہی ہے،جبکہ حکومتی سینیٹر محسن عزیز نے کہا ہے کہ عمران خان کو 2023 میں بھی پانچ سال ملیں گے، عمران خان غریب ضرور لیکن مرد آہن ہے، اس نے ایک بھی کیمپ آفس نہیں بنایا،اب ہم ترقی کی طرف جا رہے ہیں،سینیٹر محسن عزیز نے کہا سمگلنگ کو کنٹرول کرنے کے لیئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے بجٹ کو عوام دشمن بجٹ کہا،ایسا بجٹ جو سادگی پر مبنی ہو جس میں نئے ٹیکسز نہیں لگائے گئے،کیا ایسا بجٹ عوام دشمن بجٹ ہے؟ کورونا سے نمٹنے کیلئے 70 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،بجٹ میں کسانوں کیلئے 50 ارب رکھے گئے ہیں،این ایف سی پر بہت زیادہ بات ہوئی ہے، آئین بیٹھیں بات کریں چھوٹے صوبوں کے اعتراضات کو دور کرنا چاہئیں۔قائد ایوان سینیٹ سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ وزیر اعظم کا بھرپور فوکس ہے کہ جو مزدور باہر ہیں ان کو جلد واپس لایا جائے،پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے بہت جلد تمام لوگ واپس آجائیں گے۔ سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ مافیا کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں، پیٹرول کے نرخ یہ لوگ لگاتے ہیں،حکومت مافیا کا سامنا کر رہی ہے، ہم نے اس مافیا سے جنگ لڑنی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق کو بلوچستان کی طرف توجہ دینی چاہئے، آٹے کو غائب کرنے والے مافیا کا مقابلہ کریں گے۔

سینیٹ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کیخلاف کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کرسکتا ہے، پاکستان کی سالمیت پر ہم سب متحد ہیں اور ملکی خود مختاری اور سالمیت کا ہر قیمت پر تحفظ کرینگے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، سلامتی کونسل کے الیکشن میں ایشیاء پیسفک گروپ کی مشاورت ہوتی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتے رہیں گے، 5 اگست کے بعد بھارت نے کشمیر میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی،شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا 50 سال کے بعد بھارت اور چین میں سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، بھارت کے نیپال، بھوٹان اور سری لنکا سے بھی تنازعات ہیں۔دریں اثناؤزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی پیک علاقائی رابطے استوار کرنے اور کورونا وبا کے بعد بحالی کے عمل میں نہایت اہم کردار اداکرسکتا ہے،س پاکستان اور چین سی پیک‘ منصوبے بروقت مکمل کرنے کے مطلوبہ اقدامات کررہے ہیں ، کورونا وبا کے علاج کی ویکسین جب تیار ہو تو اسے ”عالمی مفاد عامہ“ یا پوری انسانیت کے استفادے کے لئے عام ہونا چاہئے کورونا وباء کی روک تھام میں یہ مجلس کلیدی کردار ادا کرے گی۔ جمعہ کو وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’بیلٹ اینڈ روڈ بین الاقوامی تعاون، کورونا کا مقابلہ یک جہتی کے ساتھ‘ کے موضوع پر منعقدہ وڈیوکانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کی میزبانی اور صدارت چین کے سٹیٹ قونصلر اور وزیر خارجہ جناب وینگ یی نے کی جس میں ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے میں شامل ممالک کے وزراء خارجہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کورونا وباء سے انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی معیشت بھی ہل کر رہ گئی ہے، معاشی دیوالیہ پن، سنگین مالی بحران، بیروزگاری اور عالمی سطح پر اشیاء کی ترسیل وفراہمی کے تسلسل میں تعطل جیسے مسائل درپیش ہیں۔ وباء کے نتیجے میں سیاسی وسماجی استحکام کے لئے پیدا ہونے والے خطرات کو بیان کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ یہ ’عالمی برادری کے یک جہتی واتحاد اور باہمی تعاون‘کے مظاہرے کا وقت ہے تاکہ کورونا کا موثر انداز میں مقابلہ کیاجاسکے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان کورونا وباء کا پورے عزم وہمت سے مقابلہ کررہا ہے اور صحت عامہ کے موجودہ نظام کو تقویت دیتے ہوئے تمام ممکنہ اقدامات کررہا ہے۔ بنیادی توجہ ان کوششوں پر مرکوز ہے کہ انسانی جانیں اور روزگار دونوں بچائے جائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے معاشرے کے نادار طبقات کی مشکلات دور کرنے کے لئے 8 ارب ڈالر کے امدادی پیکج سمیت دیگر بڑے ا قدامات اٹھائے ہیں اور احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے ذریعے مستحق افراد کی مدد کی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے زوردیا کہ ’بی۔آر۔آئی‘ کا سرخیل منصوبہ سی پیک علاقائی رابطے استوار کرنے اور کورونا وبا کے بعد بحالی کے عمل میں نہایت اہم کردار اداکرسکتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان اور چین مطلوبہ اقدامات کررہے ہیں جس سے ’سی۔پیک‘ منصوبے بروقت مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چین کے ’صحت کی شا ہراہ ریشم‘ بنانے کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے تجویز کیا کہ کورونا وبا کے علاج کی ویکسین جب تیار ہو تو اسے ”عالمی مفاد عامہ“ یا پوری انسانیت کے استفادے کے لئے عام ہونا چاہئے اوریکساں انداز میں اس کی فراہمی ودستیابی ہونی چاہئے

شاہ محمود

مزید :

صفحہ آخر -