غلط معلومات پر ریفرنس دائر کیا گیا، حکومت عدلیہ اور میڈیا پر کنٹرول چاہتی ہے: سراج الحق

  غلط معلومات پر ریفرنس دائر کیا گیا، حکومت عدلیہ اور میڈیا پر کنٹرول چاہتی ...

  

کوئٹہ (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کا ریفرنس داخل کرناجذباتی اورلاابالی پن پر مبنی قدم تھاجس کی وجہ سے آج عدلیہ نے ان کاریفرنس واپس کردیا ہے۔حکومت نے غلط اور بے بنیاد معلومات کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرکے قوم اور عدالتوں کا وقت ضائع کیا۔حکومت عدلیہ اور میڈیا سمیت تمام اداروں پر کنٹرول چاہتی ہے۔ جس طرح سابقہ حکمران پارٹیاں جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کے ہاتھوں یرغمال تھیں اسی طرح موجودہ حکومت اس ٹولے کے ہاتھوں کھلونہ بنی ہوئی ہے۔موجودہ نظام فرعونی اورغیر جمہوری سوچ کا قائم کردہ ہے جو کسی صورت ملک میں جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں دے گا۔جب تک سود پر مبنی استحصالی معاشی نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا ملک و قوم کو مسائل کی دلدل سے نہیں نکالا جاسکتا۔ملک کا آدھا بجٹ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضوں کے سود کی ادائیگی میں چلاجاتا ہے۔چہرے بدل بدل کر آنے والوں نے قوم کے ہاتھوں میں آئی ایم ایف کی غلامی کی ہتھکڑیاں پہنا دی ہیں۔ موجودہ حکومت نے عام آدمی کو ریلیف دینے کی بجائے اس مخصوص کلاس کے مفادات کی تکمیل کو ترجیح اول بنالیا ہے۔قومی دفاع کومضبو ط بنانے کے لیے ذاتی مفادات کے اس کھیل کا خاتمہ ضروری ہے۔ اب تو سپریم کورٹ نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہورہی ہے۔حکومت نے 18ویں ترمیم میں مزید ترمیم کا شوشہ موجودہ گھمبیر مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے چھوڑا۔اگلے ماہ پہلے سے چار سو گنا بڑے ٹڈی دل کے حملہ آور ہونے کی خبروں کو سنجیدگی سے لیکر اس سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاریاں کی جائیں۔ اپنے بیان میں سراج الحق نے کہا کہ 70سال سے ملکی اقتدار پر قابض ٹولے نے قیام پاکستان کی منزل کو کھوٹا کرنے اور نظریہ پاکستان سے بے وفائی کی جو روش اپنا رکھی ہے اس کی وجہ سے آج ملک و قوم کو معیشت سمیت مختلف بحرانوں کا سامنا ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبے ناکامی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔لاکھوں نوجوان اعلی تعلیم کے باوجود بے روزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں اور رہی سہی کسر کرونا نے نکال دی ہے۔عدالتوں سے غریب کو انصاف نہیں مل رہا۔لاکھوں مقدمات التوا کا شکار ہیں۔کیس لڑے لڑتے لوگوں کی زندگی ختم ہوجاتی ہے مگر پیشیاں ختم نہیں ہوتیں۔ہر حکومت غربت ختم کرنے اور قرضے نہ لینے کے نعرے لگا کر اقتدار میں آتی ہے مگر جب جاتی ہے تو قرضوں کے انبار لگاکر اور غربت اور مہنگائی روزگاری میں کئی گنا اضافہ کرکے جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقااور سا لمیت کے لیے ضروری ہے کہ قوم اسلامی پاکستان کو از سر نو اپنی منزل قرار دیکر ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔قرضوں او ر سود کی معیشت سے تائب ہوکر اسلام کے زکو و عشر کے نظام معیشت کو اختیار کیا جائے اور خود انحصاری کا باعزت راستہ اختیار کیا جائے۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -