کراچی ایئرپورٹ کے اطراف عمارتیں طیاروں کیلئے خطرناک قرار

  کراچی ایئرپورٹ کے اطراف عمارتیں طیاروں کیلئے خطرناک قرار

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)پی آئی اے طیارے حادثے کے 28 دن بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لاہور کے بعد کراچی ایئرپورٹس کے اطراف میں بھی عمارتوں کوطیارے کے لئے خطرناک قرار دے دیا۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کراچی ایئرپورٹ کے اطراف میں قوانین کی خلا ف ورزی پراونچائی کی حامل عمارتوں کے خلاف کارروائی کے لئے حکومت سندھ اور دیگر اداروں سے مدد طلب کر لی ہے۔ کراچی ایئرپورٹ کے ڈپٹی مینجرسید کاشف شاہ نے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ حکومتی اداروں کو اپنے تحفظات سے تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے۔ایئرپورٹ ڈپٹی منیجر نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ اور اسٹیشن کمانڈرز فیصل بیس اور ملیر کینٹ کو بھی الگ مراسلے بھجوادیئے ہیں۔مراسلے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈی جی کے ڈی اے، ٹیلی کمیونیکیشن، سی ای او کینٹونمنٹ اور سیکرٹری ڈی ایچ اے کو بھی بھیجے گئے ہیں۔مراسلے میں درج ہے کہ ایئرپورٹ کے گرد 15 کلومیٹر علاقے میں جابجا غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں،کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بارہا آگاہ کرنے کے با وجود کوئی کارروائی نہیں کی،ایئرپورٹ کے اطراف میں غیرقانونی عمارتیں نیشنل ائیر فیلڈ کلیئرنس پالیسی کی خلاف ورزی ہیں۔سول ایوی ایشن نے کہا ہے کہ نیشنل ایئرفیلڈ کلیئرنس پالیسی کی خلاف پی آئی اے کے بدقسمت طیارے کا حادثے کا سبب بھی بنا،ایئرپورٹ ایروڈروم، رن وے کے ٹیک آف اور اپروچ ایریا کے گرد غیر قانونی تعمیرات کسی بھی وقت مزید خطرناک حادثے کا باعث بن سکتی ہیں۔مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے پاس غیر قانون تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں،ایئرپورٹ کے اردگرد جابجا بڑے بل بورڈ، ٹیلی فون اینٹینا اور عمارتیں خطرناک صورتحال اختیار کرچکی ہیں۔ مراسلے میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ کراچی ایئرپورٹ کے گرد غیر قانونی عمارتیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت سے بنائی گئی ہیں۔اس سے قبل لاہور ایئرپورٹ منیجر اختر مرزا نے بھی لاہور ایئرپورٹ کے اطراف میں بلند عمارتیں اور کالونیوں کو طیاروں کے لئے خطرناک قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مراسلہ لکھا تھا۔

مزید :

صفحہ آخر -