کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی گرلزہاسٹل واقعہ،تین ملازمین کو معطل کردیا گیا

کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی گرلزہاسٹل واقعہ،تین ملازمین کو معطل کردیا گیا

  

کراچی(سٹاف رپورٹر) وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر محمد سعید قریشی کی جانب سیگرلز ہاسٹل واقعے پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد یونیورسٹی کے تین ملازمین کو تاحکم ثانی معطل کردیا گیا ہیجبکہ چیف وارڈن گرلز ہاسٹل کی اضافی ذمیداری واپس لے لی گئی ہے ڈاؤ یونیورسٹی کے رجسٹرا ر ڈاکٹر اشعراشفاق کی جانب سے جاری کیے گئے الگ الگ نوٹیفکیشنز میں کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر پیتھالوجی کو چیف وارڈن گرلز ہاسٹل اوجھا کیمپس کی اضافی ذمیداریوں سے سبکدوش کردیا گیا ہے جبکہ وارڈن گرلز ہاسٹل مس صائمہ فواد،لیڈی سیکیورٹی گارڈز رضیہ بی بی اور کائنات بی بی کو معطل کردیا گیاہے۔یادرہے کہ بدھ کے روز ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے اوجھا کیمپس گرلز ہاسٹل واقعے کی انکوائری کیلیے پرو وائس چانسلر پروفیسر کرتار ڈاوانی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے چوبیس گھنٹے میں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ وائس چانسلر کو پیش کردی جس کے بعد کمیٹی کی تشکیل کے وقت کرائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرتے ہوئے ذمیداروں کے خلاف کارروائی بھی مکمل کرلی گئی ہیجبکہ کمیٹی کی دیگرسفارشات پر بھی عمل کیا جارہاہے یہاں یہ امربھی قابل ذکر ہے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے پراسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال محمدعلی گوپانگ کوتحقیقات کی ہدایت کی گئی تھی اسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال بھی فوری طور پر اوجھاکیمپس پہنچ گئے اور فریقین سے ملاقات کی اس موقع پر ہاسٹل میں جائے وقوعہ پر بھی گئے متعلقہ طالبات سے واقعے کی تفصیلات لیں بعد ازاں انہوں نے انکوائری کمیٹی کے سربراہ پروفیسر کرتار سے بھی واقعے کے تمام پہلوؤں پر گفتگو کی اور ڈاؤ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے فوری انکوائری اور اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی رپورٹ وزیراعلی سندھ کو پیش کردی ہے۔۔

مزید :

صفحہ آخر -