حکومت ترجیحی بنیادوں پرجننگ انڈسٹری کو ریلیف دے، چیئرمین پی سی جی اے

  حکومت ترجیحی بنیادوں پرجننگ انڈسٹری کو ریلیف دے، چیئرمین پی سی جی اے

  

ملتان ( نیوز رپور ٹر  )پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی قیادت نے حالیہ بجٹ میں بحرانی صورتحال کے با وجود جننگ انڈسٹری کو کسی قسم کا ریلیف نہ ملنے پر حکومت (بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

سے شدیدتحفظات کا اظہار کیا ہے اوربتا یا ہے کہ موجودہ صورتحال سے جننگ انڈسٹری کی بقاء خطرے میں ہے۔اینمل فیڈ (کھل) کومتعلقہ حکومتی وزراء کے عہد و پیماں کے باوجود سیلز ٹیکس سے چھوٹ نہ دینا نہایت مایوس کن ہے۔کاٹن سیزن 2019-20 کے فروخت شدہ مال کی کورونا کے باعث ٹیکسٹائل ملز سے اربوں روپے کی ریکوری منجمند ہونے کے باعث اور غیر فروخت شدہ کثیر تعداد میں کاٹن بیلز کاخریدار نہ ہونے سے آئندہ کاٹن سیزن میں جنر ز (کپاس کے واحد خریدار) مالی طور پر کاشتکاروں سے کپاس خریدنے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال میں کاٹن کے کاشتکاروں، کاٹن جنرز اور آئل ملز کومکمل طور پر تباہ حالی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو خام مال مہیا کرنے والی جننگ انڈسٹری کو بجٹ میں ریلیف نہ دینامجموعی طور پرحکومت کی معاشی ترقی اور ایکسپورٹ انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچائے گا۔فنانس بل میں خامیوں کی نشاندہی کر تے ہوئے پی سی جی اے قیادت نے حکومت کی طرف سے قائم کردہ 03 رکنی کمیٹی اور ایف بی آر کی جانب سے قائم کردہ 11 رکنی کمیٹی کے علاوہ سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ریونیو کو اپنے تحفظات پیش کر چکی ہے اور حکومت وقت سے اپیل کر تی ہے کہ جننگ انڈسٹری کی بقاء کے لیے فور ی ریلیف فراہم کیا جائے۔کھل پر سیلز ٹیکس کے خاتمے،کاٹن جنرز کے قرضوں پر جنوری تا جون2020 تک مارک اپ کی چھوٹ، غیر فروخت شدہ سٹاک کی بذریعہ ٹی سی پی خریداری جیسے معاملات پر ریلیف دے کر آئندہ کاٹن کے کاشتکاروں، کاٹن جننگ وآئل انڈسٹری اور ان سے وابسطہ لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔پی سی جی اے چیئرمین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ منظوری سے پہلے جننگ انڈسٹری کے تحفظات دور کر کے ترجیحی بنیادوں پر جننگ انڈسٹری کی بقاء کے لیے ریلیف دیا جائے۔

پی سی جی اے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -