تحصیل جتوئی میں خوشحال سروے بغیر تنخواہ 80نوجوان ملازمت سے فارغ، متاثرین کااحتجاج

  تحصیل جتوئی میں خوشحال سروے بغیر تنخواہ 80نوجوان ملازمت سے فارغ، متاثرین ...

  

چوک پرمٹ (نمائندہ پاکستان)تحصیل جتوئی میں قومی معاشی خوش حالی سروے میں لاکھوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے۔ سروے کیلیے تقرر کیے گئے نوجوانوں کی(بقیہ نمبر11صفحہ6پر)

ٹریننگ کے نام پر لاکھوں روپے غبن، دو ماہ بغیر تنخواہ ادائیگی کیے 80 نوجوان فارغ کرکے پٹرول اور تنخواہوں کی مد میں بھاری رقم بھی ادا نہ کی گئی۔ تفصیل کے مطابق چھے ماہ قبل تحصیل جتوئی میں قومی معاشی خوشحالی سروے کیلیے کنٹریکٹ پر تعلیم یافتہ80 بے روزگار نوجوان بھرتی کیے گئے۔ کنٹریکٹ کے تحت سروے کنندگان کو چالیس روپے فی فارم ادائیگی کی جانی تھی۔ 3200 روپے ماہانہ پٹرول کی مد میں ادائیگی ہونا طے پایا۔ سروے کے دوران نوجوانوں نے دو ماہ تک محنت اور لگن سے کام کیا۔ جب انہوں نے تنخواہ اور پٹرول اخراجات کا مطالبہ کیا۔تو عید سے قبل ان کی میٹنگ بلا کر ان سے لیپ ٹاپ سمیت دیگر سامان واپس لے کر کنٹریکٹ سے فارغ کردیا گیا ہے۔متاثرین نے اپنے ساتھ روا نانصافی اور زیادتی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ 80 نوجوانوں نے دو ماہ تک کام کرکے 4000 سے زائد گھرانوں کا ڈیٹا کلیکٹ کیا۔ ذاتی جیب سے پٹرول کے اخراجات اداکیے۔جب تنخواہ ادائیگی کا وقت آیا۔ تو انہیں چلتا کردیا گیا۔ انہیں ان کی تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی کا بندوبست کیا جا?۔ اگر ایک ہفتہ کے اندر ہمارا حق ہمیں نہ دیا گیا تو وزیر اعلی پنجاب عثمان خان بزدار کے آفس کے باہر دھرنا دیں گے۔ جب مؤقف جاننے کیلیے تحصیل انچارج ایس ڈی پی آئی فاخرہ سے ان کے موبائل پر رابطہ کیا گیا۔ تو ان کا موبائل پاور آف پایاگیا۔ آئی ٹی محمد اشرف غزلانی نے کہا کہ وہ بے قصور ہے۔سامان واپس لے لیاگیا۔دیگر الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

احتجاج

مزید :

ملتان صفحہ آخر -