ڈیفنس، گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنیوالے مالک کیخلاف مقدمہ درج

ڈیفنس، گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنیوالے مالک کیخلاف مقدمہ درج

  

لاہور (کرائم رپورٹر) عمران نامی شخص نے اپنی 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر چوری کا الزام عائد کر کے مقدمہ درج کروایا تھا۔ دوران تفتیش خود ان پر تشدد کرنے کا جوابی مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے مقدمے میں متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ انہیں ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔ واضح رہے ڈیفنس کے رہائشی عمران نامی شخص نے اپنی 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر ایک سال کے عرصے کے دوران گھر سے سات لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور نقدی چرانے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کروایا تھا۔لاہور پولیس کے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کے ترجمان عمران انور نے بتایا کہ ’ہمیں ریسکیو 15 پر ایک کال موصول ہوئی جس پر ایک شخص نے یہ شکایت کی کہ میری ملازمہ نے میرے گھر میں لاکھوں روپے کی چوری کی ہے۔ جس کے بعد انھوں نے بچی کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا تھا۔

مقدمے میں ان کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ ملازمہ گذشتہ سوا سال سے ان کے گھر پر کام کر رہی ہے اور اس نے وقتاً فوقتاً قیمتی سامان چوری کیا جس میں ایک سونے کی چین، پانچ انگوٹھیاں اور نقدی شامل ہیں۔ مقدمے میں یہ بھی لکھا گیا کہ یہ سارا سامان اور نقدی چوری کر کے اپنے بھائی اور ایک کزن کو دیتی رہی ہے۔عمران نامی شخص نے مقدمے میں یہ بھی الزام لگایا کہ انھوں نے شک کی بنیاد پر اپنی جیب میں پیسے گن کر رکھے جو مبینہ طور پر ملازمہ نے چوری کیے اور جب انھوں نے ملازمہ سے اپنے طور پر پوچھ گچھ کی تو ان کے دعوے کے مطابق اس نے پیسے چرانے کا اعتراف کیا۔عمران نے مقدمے میں یہ بھی موقف اپنایا کہ ڈی ایچ اے سکیورٹی نے بھی اس ملازمہ سے تحقیق کی تو اس نے مبینہ طور پر ان کے سامنے اپنی تمام چوریوں کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ اس کا بھائی بھی اس کے ساتھ ملوث تھا۔عمران کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے ان کو پولیس کی تحویل میں دے رہے ہیں تاکہ ’ہمارے چوری کیے گئے سامان کو برآمد کروایا جا سکے‘۔’مالک مکان تین ماہ تک تشدد کرتا رہا‘ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کے ترجمان عمران انور نے بتایا کہ ایف آئی آر کے بعد ’ہم نے اس ملازمہ کو گرفتار کر لیا اور ہمیں تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اس بچی پر بہیمانہ تشدد کیا گیا ہے‘۔انھوں نے بتایا کہ 14 سالہ بچی نے اپنے بیان میں یہ الزام لگایا کہ مالک مکان نے تین ماہ تشدد کے بعد چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کروا کر اسے پولیس سٹیشن میں بند کروا دیا ہے۔14 سالہ ملزمہ کے سر پر چوٹوں کے زخم ہیں اور سر کے بال بھی اتارے گئے ہیں۔ جبکہ زخم پر مرہم پٹی نہ ہونے کے باعث سر کا زخم خراب ہو چکا ہے۔اس واقعے کا علم ہونے کے بعد سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی کینٹ فرقان بلال سے واقعے کے تمام پہلوؤں کو جانچتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ترجمان ڈی آئی جی انوسٹیگیشن عمران انور نے بتایا کہ ’ہم نے ملازمہ کے بھائی کہ مدعیت میں عمران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ جس کے بعد ہم نے اس کی گرفتاری کے لیے ملزم کے گھر پر چھاپہ بھی مارا لیکن وہ وہاں سے اپنے پورے اہلخانہ سمیت فرار ہو چکا ہے۔ ہمیں یہ بھی اطلاع موصول ہوئی کہ وہ اپنے کسی رشتے دار کے گھر پر چھپے ہوئے ہیں جس پر ہم نے وہاں بھی چھاپہ مارا لیکن ملزم وہاں سے بھی میں ملا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا‘۔تاہم پولیس کی جانب سے 14 سالہ بچی کا میڈیکل کروا کر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور بچی کو اس کے گھر بھیج دیا گیا ہے۔

مزید :

علاقائی -