ویل ڈن ڈاکٹر یاسمین راشد

ویل ڈن ڈاکٹر یاسمین راشد
 ویل ڈن ڈاکٹر یاسمین راشد

  

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاہے کہ لاہوریوں کیلئے ان کا دل ماں کی طرح دھڑکتا ہے اور ان سے بڑھ کر کوئی لاہوری نہیں ہے۔انہوں نے کھلے دل کے ساتھ کہاہے کہ میرے کسی بیان سے دل آزاری ہوئی تو معافی چاہتی ہوں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بڑی فعال وزیرصحت ہیں۔ انہوں نے کورونا جیسے مرض کے خلاف لڑنے میں شب و روز لگائے ہیں۔ مگر جب انہیں یہ بتایاجاتا ہے کہ پنجاب میں کورونا کے نصف سے زائد مریض لاہور سے ہیں اور یہ موذی مرض تیزی کے ساتھ اس شہربے مثال پر اپنی گرفت مضبوط کرتا جا رہا ہے تو ان کا دل مضطرب ہوجاتا ہے۔ لاہور کے ٹی وی چینلوں پر دکھایا جا رہا ہے کہ کس طرح اہل لاہور کورونا کے متعلق حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ ماسک نہیں پہن رہے ہیں۔شہر میں ایسے لطیفے بھی گردش کر رہے ہیں کہ ایک بوڑھی خاتون کو کورونا کا مرض ہوگیا مگر ہسپتال جانے سے پہلے وہ محلے میں جاکر اپنی تمام سہیلیوں سے بغل گیر ہوکر ملیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کی آخری ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔

لاہور کو پاکستان کا دل کہاجاتا ہے اور سب سے پہلے سرسید احمد خان نے یہاں کے رہنے والوں کو زندہ دلان لاہور کا خطاب دیا تھا۔ وہ جب علی گڑھ یونیورسٹی کیلئے چندہ اکٹھا کرنے آئے تو اہل لاہور نے ان کی غیرمعمولی پذیرائی کی تھی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ماسک پہننا، دوسروں سے گرم جوشی کے ساتھ نہ ملنا پنجاب کے کلچر کے خلاف ہے۔ بعض پنجابیوں کے متعلق کہاجاتا ہے کہ وہ ہر جگہ اور ہر وقت دوسروں کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی ان سے تکلف برتے تو اس کے ساتھ بے تکلف ہونے کیلئے اچھا خاصا جھگڑا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

محترمہ یاسمین راشد صاحبہ ڈاکٹر بھی ہیں بلکہ بہت اچھی ڈاکٹر ہیں انہوں نے گائنی کے شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اس کے بعد وہ ڈاکٹروں کی سیاست میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ اب انہوں نے وزارت کا قلمدان سنبھالا ہے تو محکمہ صحت کو حقیقی معنوں میں عوام کا خادم بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس پر ان کے بعض سابق ساتھی شکوہ بھی کرتے ہیں۔

پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔تین ہزارسے زائد اموات ہوچکی ہیں مگر اس کے باوجود آپ کی بہت سے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوگی جو کورونا کو فراڈ قراردے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ یہود و ہنود کی سازش ہے۔ اور یہ سارا پراپیگنڈا کا کھیل ہے۔ اس میں حقیقت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے مذہبی لوگ پیش پیش ہیں۔ وہ عبادت گاہوں میں احتیاطی تدابیر کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔مگر یہ المیہ محض پاکستان کے مذہبی حلقوں تک محدود نہیں ہے۔ گذشتہ دنوں میں ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا کہ کٹر یہودیوں نے اسرائیل کو بھی خاصا پریشان کر رکھا ہے۔ اسرائیل میں الٹراآرتھوڈکس یہودیوں کی تعداد کل آبادی کا دس فی صد ہے اور وہاں کورونا کے مریضوں کی 70فی صد کا تعلق انہی کٹر مذہبی یہبودیوں سے ہے۔ جو سماجی فاصلے نہیں کرتے، ماسک کے استعمال سے گریز کرتے ہیں اور مذہبی اجتماعات منعقد کرتے رہتے ہیں۔ اور اس یقین کے ساتھ کرتے ہیں کہ ان کی عبادت انہیں اس مرض سے محفوظ رکھے گی جبکہ ان کی بڑی تعداد اس خطرناک وائرس کا شکار ہو رہی ہے۔

کورونا وائرس کو قدرت کا عذاب بھی قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے تدارک کے سلسلے میں دعاکی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ تاہم بزرگ احتیاط اور کوشش کو بھی دعا کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔ دعا کیلئے ماسک بھی پہنا جاسکتا ہے۔ سماجی فاصلے کا بھی خیال رکھاجاسکتا ہے۔ تاہم سینی ٹائزر کے متعلق ہم کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کیونکہ سینی ٹائزر میں الکحل ہوتی ہے جسے عرف عام میں شراب بھی کہاجاتا ہے۔ کورونا کی وجہ سے اب اکثر ہاتھ شرابی ہوگئے ہیں۔ شرابی ہاتھوں کے ساتھ دعا کرنے میں بہت سے لوگوں کو تامل ہوسکتا ہے۔تو انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سینی ٹائزر کی بجائے صابن ہاتھوں سے زیادہ مؤثر انداز میں کوروناوائرس کا خاتمہ کرتا ہے۔برادرم حامد میر نے اپنے کالم میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے کہ 1918ء میں انفلوئنزا پھیلا تو لاکھوں لوگ مارے گئے۔ لاہور میں ہر دوسرا شخص بیمار پڑ گیا۔ رائے بہادر میلا رام داتا گنج بخش کے قریب اپنی مشہور لال کوٹھی میں رہتے تھے۔ ان کے تین بیٹے وبا کا شکار ہوگئے۔شہر کے ماہر ڈاکٹر انہیں شفایاب نہ کرسکے۔میلا رام کے بقول انہوں نے داتا گنج بخش کے مزار پر دعا کی اور ان کے بیٹے ٹھیک ہوگئے جس کے بعد انہوں نے مزار کو بجلی فراہم کرکے نذرانہ پیش کیا۔ داتا گنج بخش کے دربار سے رنجیت سنگھ کو بھی عقیدت تھی۔اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس نے داتا گنج بخش کے مزار پر سے سنگ مرمر اکھیڑا تو بیمار پڑ گیا اور قے کرنے لگا۔ چنانچہ اس نے مزار پر حاضری دینا شروع کی اور ٹھیک ہوگیا۔کورونا وائرس کے علاج کی تاحال کوئی مؤثر دوا تیار نہیں کی جاسکی۔ ڈاکٹر محض علامات کا علاج کر رہے ہیں۔اس کڑے وقت میں دعا کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

کورونا سے پاکستان میں تین ہزار مریض ہلاک ہوئے ہیں تو اب تقریباً ساٹھ ہزار مریض صحت یاب بھی ہوچکے ہیں اور اس سلسلے میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دوسرے طبی عملے کو خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سے لوگوں کو شکایتیں بھی ہیں مگر اس میں شبہ نہیں ہے کہ یہ لوگ بڑی جرأت کے ساتھ کورونا سے لڑ رہے ہیں۔متعدد ڈاکٹرز اور نرسیں شہید ہوچکی ہیں مگر کسی ہسپتال سے یہ خبر بھی نہیں آئی ہے کہ طبی عملے نے اپنے فرائض انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پنجاب کے صحت کے نظام پر تنقید کی جاسکتی ہے مگر ہزاروں مریضوں کی شفایابی کا کریڈٹ اس طبی عملے کو بھی جاتا ہے جس کی قیادت ڈاکٹر یاسمین راشد کر رہی ہیں جن کو غیرضروری طور پر تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے۔۔۔ویل ڈن ڈاکٹر یاسمین راشد۔

مزید :

رائے -کالم -