عمران خان کا 18ویں ترمیم بارے بیان بدنیتی پر مبنی ہے، غلام احمد بلور

عمران خان کا 18ویں ترمیم بارے بیان بدنیتی پر مبنی ہے، غلام احمد بلور

  

پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما اور سابق وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ اگر اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑا گیا تو چھوٹے صوبے حق بجانب ہوں گے کہ وہ 1940ء کے قرارداد پاکستان کو بنیاد بنا کر ایک نیا عمرانی معاہدہ کرے جس سے صوبوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہو جو قرارداد پاکستان میں تھے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے بزرگ رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ عمران خان کا 18ویں آئینی ترمیم بارے بیان بدنیتی پر مبنی ہے۔ اس ترمیم کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے منتخب افراد اور چھوٹے صوبوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اس ترمیم نے صوبوں کو انکے وسائل پر اختیار اور حقوق کی فراہمی یقینی بنائی لیکن بدقسمتی سے آج بھی ہم سے بہت کچھ چھینا جاچکا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو حقوق انگریزکے دور غلامی میں ہمیں حاصل تھے،آج تک وہ بھی واپس نہیں ملے ہیں۔اس دور میں بجلی،معدنیات، گیس اور تیل پر مقامی افراد کا اختیار تھا لیکن آج وہ اختیار حاصل نہیں۔اس جنگلات اور صحت کے شعبے بھی صوبوں کے پاس تھیں حالانکہ اس وقت ہم انکے غلام تھے۔ آج آزادی کے دعویداروں نے وہ حقوق بھی چھین لئے ہیں۔حاجی غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اتنے حقوق چھیننے کے باوجود مرکز کا پیٹ نہیں بھرا اور اگر اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑا گیا تو صوبوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ 1940ء کے قرارداد پاکستان کی بنیاد پر نئے عمرانی معاہدے کامطالبہ کرے جس میں وہی حقوق صوبوں کو حاصل ہو جو اس قرارداد میں دیے گئے تھے۔ سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان حالات میں مرکز اور صوبوں کو مل بیٹھ کر ملک کی سالمیت، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا لیکن اس آئینی ترمیم کو چھیڑنے سے ملکی سالمیت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -