ریسکیو 1122خدمات کو مزید صوبے کے نئے اضلاع میں توسیع دی جارہی ہے

ریسکیو 1122خدمات کو مزید صوبے کے نئے اضلاع میں توسیع دی جارہی ہے

  

پشاور(سٹی رپورٹر)صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑانے کہا ہے کہ29کروڑ روپے کی لاگت سے ریسکیو 1122 خدمات کو مزید صوبے کے نئے اضلاع میں توسیع دی جا رہی ہے،اس سال ٹانک چترال بالا کوہستان والا کولائی پالس بٹگرام اور میں ایمرجنسی سہولیات فراہم کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں مالی سال2020-21کا بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑانے کہا ہے کہایمرجنسی سہولیات کی بہتر فراہمی کے سلسلے میں 21.5کروڑ(اکیس اعشاریہ پانچ کروڑ روپے) کی لاگت سے ریسکیو 1122 خدمات کی چار اضلاع میں توسیع کی گئی ہے،ان میں ضلع لکی مروت،مالاکنڈ،لوئیر کوہستان اور شانگلہ شامل ہیں،اس منصوبے سے ایک ہزار سے زائد نوکریاں بھی پیدا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی اور نوکریوں کی فراہمی اور کاروبار کے لئے امداد کے طور پر10000 سمال میڈیم انٹرپرائزز کو قرض کی فراہمی سے دس لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے،تیس ہزار کاروباری اداروں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی سے 5لاکھ سے زائد افراد مستفید ہونگے،ورلڈ بینک (آئی آر کے ایف) کی مدد سے نوکریوں کی پیداوار کیلئے معاشی ترقی والے شعبوں پر خرچ کئے جائیں گے،بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت 25000 اضافی بھرتیاں اور انیس اعشاریہ پانچ کروڑ درخت لگانے کے لیے کی جائیگی،اکنامک زون میں مراعات کی فراہمی کیلئے وافر وسائل مختص کیے گئے ہیں،بونیر میں ماربل سٹی کے قیام کیلئے وسائل مختص کیے گئے ہیں،اہم شعبوں کی بحالی کاروبار میں معاونت اور روزگار کی پیداوار کیلئے اقدامات کیے جائیں گے،29 کروڑ روپے کے ڈیجیٹل جابس فور خیبرپختونخوا منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے گا،رشکی اقتصادی زون تک رسائی کے منصوبے کو تیز رفتار بنانے کے لئے پیسے فراہم کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ26ہزار سکولوں کی بہتری،تعلیم میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں طلبہ کی تعلیمی معیار میں بہتری آئی ہے،رواں سال مارچ میں ہونے والے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانات کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں،پچھلے سال کی نسبت اس سال طلبا کے سکور میں اوسط 11 فیصد اضافہ ہوا ہے،اساتذہ کی حاضری کی شرح 92 فیصد اور طلبا کی حاضری کی شرح 82 فیصد ہے،اساتذہ اور طلبا کی حاضری اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے،گزشتہ سال خیبر پختونخوا کے 13 ہزار سے زیادہ سکولوں میں لیٹریسی کی مہم چلائی گئی،لیٹریسی مہم سے ابتدائی جماعت کے کم عمر طالب علم کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے میں مدد ملی،سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے 21 ہزار نئے اساتذہ کی بھرتی جاری ہے،تعلیم کے سلسلے میں لگ بھگ تین ہزار اضافی اسسٹنٹ سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر کو شامل کیا جائے گا،ایک اسسٹنٹ سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر ساٹھ اسکولوں کی نگرانی کرتا تھا اب وہ صرف سات یا آٹھ اسکولوں کی نگرانی کرے گا،رواں سال تین ہزار اسکول قائدین/ لیڈرز بھرتی کیے جائیں گے،نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو اسکولوں اور گھروں میں تربیت دینے کے لئے ٹیبلیٹس خریدنے کی بھی رقم دی جائے گی،اساتذہ کو ٹیبلٹس دینے کا اقدام کو کووڈ-19 کے پیش نظر کیا جا رہا ہے،اس سال بارہ سو دس سکولوں کو اپ لفٹ کیا جائے گا،رواں سال 300 نئے اسکول تعمیر کیے جائیں گے،534 سکولوں کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کالجز اور یونیورسٹیز کی ترقی کے لئے یونیورسٹی کے وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے خصوصی طور پر ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،ہری پور میں پاک آسٹریا پاچاشولے انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے

گا،ہری پور میں پاک آسٹریا پاچاشولے انسٹیٹیوٹ پر 50 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے،1.3 ارب روپے سے 74 سرکاری کالجز کی تعمیر کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بندوبستی اضلاع میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے مانسہرہ میں گریوٹی لو واٹر سپلائی سکیم کا خصوصی منصوبہ شروع کیا جائے گا،83 کروڑ روپے صوبے میں پینے کا صاف پانی اور صفائی کے منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں،20کروڑ روپے گریوٹی اینڈ اوور ہیڈ سکیم 400 واٹر سپلائی اسکیم کی سولرائزیشن کے لیے رکھے گئے ہیں،گدون صوابی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اتلا ڈیم کی تعمیر کی جائے گی،21 کروڑ روپے کوہاٹ میں دریائے سندھ سے پانی کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں شہری علاقوں کی بہتری کے لیے 5 ارب روپے کی خاطر رقم مختص کی گئی ہے،3.9 ارب روپے یورپین یونین کی مدد سے منتخب اضلاع میں بنیادی انفراسٹرکچر میونسپل خدمات کی ترقی کیلئے خرچ کیے جائیں گے،1.8 ارب روپے سے ورسک روڈ سے نہ صرف تک رنگ روڈ(مسنگ لنک)کے شمالی سیکشن کی تعمیر کی جائے گی،پشاور ترقیاتی پروگرام کے تحت احیاپشاور کیلئے 55 کروڑ روپے کی رقم خرچ کی جائے گی،30کروڑ روپے صوبے میں دیہی سڑکوں کی بحالی کے لیے خرچ کیے جائیں گے،مانسہرہ چترال سوات اپر دیر میں لینڈ فل سائٹس کی تعمیر کی جائے گی،خیبرپختونخوا کی منتخب تحصیلوں میں مذبح خانے اور فروٹ سبزی منڈی تعمیر کئے جائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ سیاحت اور کھیلوں کے فروغ کیلئے1.1 ارب روپے کائٹ پروگرام کے ذریعے سیاحت کے فروغ اور مقامات کی ترقی کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے خرچ کیے جائیں گے،پشاور میں انٹرنیشنل کرکٹ کے فروغ کے لیے خصوصی طور پر ارباب نیاز اسٹیڈیم کی بحالی کیلئے 44 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،33 کروڑ روپے خیبرپختونخوا میں 1000 سپورٹس فیسلٹی بنانے پر خرچ کیے جائیں گے،1.9ارب روپے صوبوں میں کھیل کے میدانوں کے قیام کے لیے خرچ کیے جائیں گے،37 کروڑ روپے سے ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات کے فروغ کے لیے سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -