10ارب روپے کی لاگت سے صحت انصاف کارڈ فراہم کئے جائینگے

10ارب روپے کی لاگت سے صحت انصاف کارڈ فراہم کئے جائینگے

  

پشاور(سٹی رپورٹر)صحت کے شعبے کے لئے 2020-21 بجٹ خیبرپختونخواہ۔صوبے میں تمام خاندانوں کو صحت کی فراہمی کے لیے دس ارب روپے کی لاگت سے صحت انصاف کارڈ (ہیلتھ انشورنس سکیم)فراہم کیے جائیں گے۔ 30 ہزار اضافی طبی عملہ بھرتی کیا جائے گا تاکہ صحت کی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔ 2.4 ارب روپے انٹیگریشن آف ہیلتھ سروسز ڈلیوری پروگرام پر خرچ کیے جائیں گے۔ تمام نان ٹیچنگ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہاسپٹلز کی بہتری کے منصوبے پر 1.1 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ چار ارب روپے کی لاگت سے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور خیبر ٹیچنگ ہاسپیٹل میں نئے بلاک تعمیر کیے جائیں گے۔صحت کے شعبے کے لیے 2020- 21 بجٹ خیبر پختونخواہ، 90کروڑ روپے کینسر میں مبتلا غریب افراد کے علاج پر خرچ کیے جائیں گے۔ 30 کروڑ روپے سے صوبے کے تمام بیسک ھیلتھ یونٹسBHUs کی بہتری اور 200 بنیادی ھیلتھ مراکز BHUs اور محصوص RHCs میں سہولیات کا دائرہ کار24/7 کیا جا رہا ہے۔ 20 کروڑ روپے تیمرگرہ میڈیکل کالج, دیر لوئر کے قیام کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔((صحت بجٹ 2020۔21 خیبر پختونخواہ۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ شعبہ صحت میں کویڈ۔19 ایمرجنسی کے لئے 24 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت خیبر پختونخواہ کا صحت بجٹ میں ریکارڈ اضافہ کرتے ہوئے 124ارب روپے تک بڑھایا ہے۔صوبے کی تاریخ میں آج تک سب سے زیادہ صحت بجٹ ہے جبکہ گذشتہ سال صحت بجٹ 85 ارب روپے تھا۔ بجٹ 2020-21 میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 318 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ رشکئی اکنامک ذون سے متعلقہ سکیمز کی امسال تکمیل کیلئے سو فیصد بجٹ فراہم کیا گیا ہے۔ سیاحت کے فروغ، سڑکوں کی تعمیر اور یونیورسٹیوں کیلئے اٹھارہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔جنوبی اضلاع کی ترقی کیلئے اٹھائیس ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں۔بجٹ میں پشاور کے 121 مختلف منصوبوں کیلئے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔شہر کے منصوبوں میں دیہی ترقی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، کھیل، صحت لوکل گورنمنٹ، ٹرانسپورٹ اور اعلی تعلیم کے منصوبے شامل ہیں۔ صوبے کے باقی ماندہ تمام اضلاع تک ریسکیو 1122 کی خدمات کو توسیع دی جائیگی۔ تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے مزید بائیس ہزار اساتذہ کو بھرتی کیا جائے گا۔ ضم شدہ اضلاع بجٹ حصہ،ضم شدہ اضلاع کیلئے 184 ارب روپے مختص کئے گئے۔ان میں 96 ارب اخراجات کی مد میں مخصوص کئے گئے ہیں۔ قبائلی اضلاع میں شعبہ صحت کی بہتری اور عوام تک صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے دس ارب روپے خرچ کئے جائینگے۔ان اضلاع میں دوسرے اور تیسرے درجے کے ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ 1.3 ارب روپے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بھرتی جبکہ 550 ملین روپے کی ادویات و دیگر ضروری سامان خریدا جائے گا۔ تعلیمی سہولیات کی دستیابی، سکولوں کی اپگریڈیشن اور ایجوکیشن واوچرز کی فراہمی کیلئے گیارہ ارب روپے خرچ کئے جائینگے۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر کیلئے سولہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔توانائی اور سڑکوں کے منصوبے بندوبستی اضلاع، 80 کروڑ روپے سے گبرال کلام ہائیڈروپاور پراجیکٹ 88 میگاواٹ تعمیر جاری رکھی جائے گی۔ بجٹ دستاویز۔ 80 کروڑ روپے سے مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 157 میگاواٹ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ 5.7 ارب روپے ADP کے تعاون سے صوبائی سڑکوں کی بحالی کے لیے رکھے گئیں ہیں۔ 4.2 ارب روپے ADP کے اشتراک سے مردان صوابی روڈ کو دوہرا کرنے کے لئے خرچ کئے جائینگے۔ پہلی مرتبہ تمام ڈویژن میں روڈ کی تعمیر اور بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔اس کے لئے 3.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 3.5 ارب روپے سے پشاور مردان ہزارہ،کوہاٹ، ملاکنڈ،ڈی آئی خان اور بنوں ڈویژن میں 835 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کی جائے گی۔ خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کی اصلاحات کے بعد صوبہ میں کارکردگی، گزشتہ سال کی نسبت اتھارٹی کی شرح نمو میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کویڈ-19 کے باوجود صوبے کی کل آمدن اس سال 36 ارب روپے ہوگی۔ کورونا وبا کے باعث سال 21-2020 کا بجٹ ٹیکس فری رکھا گیا ہے۔200 چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر سے ٹیکسز کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے ساتھ رجسٹریشن پر تمام ہوٹلز اور 18 سے زائد پروفیشنلز پر ہوٹل ٹیکس اور پروفیشنل ٹیکس کا خاتمہ کردیا جائیگا۔ وقت پر ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہنداگان کو 35 فیصد تک مزید رعایت مل سکے گی۔27 کیٹیگریز میں سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں واضح طور پر کمی کی گئی ہے۔ تمام سرکاری پرائمری اور سیکنڈری سکولز اور آرٹ کالجز میں فیس پر مکمل چھوٹ دینے کا فیصلہ۔ بندوبستی علاقاجات، ایمرجنسی سہولیات کی بہتر فراہمی, 29 کروڑ روپے کی لاگت سے ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو خدمات کو صوبے کے نئے اضلاع میں توسیع دی جا رہی ہے۔اس سال ٹانک چترال بالا کوہستان والا کولائی پالس بٹگرام اور میں ایمرجنسی سہولیات فراہم کیے جائیں گے۔ایمرجنسی سہولیات کی بہتر فراہمی کے سلسلے میں اکیس اعشاریہ پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو خدمات کی چار اضلاع میں توسیع کی گئی ہے۔ ایمرجنسی سہولیات کی بہتر فراہمی کے سلسلے میں ایک ہزار سے زائد نوکریاں بھی پیدا ہوگئی۔ معیشت کی بحالی اور نوکریوں کی فراہمی کے لیے کاروبار کے لیے امداد۔ 10000 سمال میڈیم انٹرپرائزز کو قرض کی فراہمی سے دس لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ تیس ہزار کاروباری اداروں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی سے 5 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہونگے۔ ورلڈ بینک آئی آر کے ایف کی مدد سے نوکریوں کی پیداوار کے لیے معاشی ترقی والے شعبوں پر خرچ کئے جائیں گے۔ بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت 25000 اضافی بھرتیاں اور انیس اعشاریہ پانچ کروڑ درخت لگانے کے لیے کی جائیگی۔ اکنامک زون میں مراعات کی فراہمی کیلئے وافر وسائل مختص کیے گئے ہیں۔ بونیر میں ماربل سٹی کے قیام کے لیے وسائل مختص کیے گئے ہیں۔ اہم شعبوں کی بحالی کاروبار میں معاونت اور روزگار کی پیداوار کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ 29 کروڑ روپے کے ڈیجیٹل جابس فور خیبرپختونخوا منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ رشکی اقتصادی زون تک رسائی کے منصوبے کو تیز رفتار بنانے کے لئے پیسے فراہم کیے گئے ہیں۔ 26 ہزار سکولوں کی بہتری,تعلیم میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں طلبہ کی تعلیمی معیار میں بہتری آئی ہے۔ رواں سال مارچ میں ہونے والے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانات کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ پچھلے سال کی نسبت اس سال طلبا کے سکور میں اوسط 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اساتذہ کی حاضری کی شرح 92 فیصد اور طلبا کی حاضری کی شرح 82 فیصد ہے۔ اساتذہ اور طلبا کی حاضری اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے۔ گزشتہ سال خیبر پختونخوا کے 13 ہزار سے زیادہ سکولوں میں لیٹریسی کی مہم چلائی گئی۔ لیٹریسی مہم سے ابتدائی جماعت کے کم عمر طالب علم کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے میں مدد ملی۔ سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے 21 ہزار نئے اساتذہ کی بھرتی جاری ہے۔ تعلیم کے سلسلے میں لگ بھگ تین ہزار اضافی اسسٹنٹ سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر کو شامل کیا جائے گا۔ ایک اسسٹنٹ سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر ساٹھ اسکولوں کی نگرانی کرتا تھا اب وہ صرف سات یا آٹھ اسکولوں کی نگرانی کرے گا۔رواں سال تین ہزار سکول قائدین/ لیڈرز بھرتی کیے جائیں گے۔ نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو اسکولوں اور گھروں میں تربیت دینے کے لئے ٹیبلیٹس خریدنے کی بھی رقم دی جائے گی۔ اساتذہ کو ٹیبلٹس دینے کا اقدام کو کووڈ-19 کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔ اس سال بارہ سو دس سکولوں کو اپ لفٹ کیا جائے گا۔ رواں سال 300 نئے اسکول تعمیر کیے جائیں گے۔ 534 سکولوں کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔ کالجز اور یونیورسٹیز کی ترقی کے لئے, یونیورسٹی کے وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے خصوصی طور پر ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہری پور میں پاک آسٹریا پاچاشولے انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے گا۔ ہری پور میں پاک آسٹریا پاچاشولے انسٹیٹیوٹ پر 50 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ 1.3 ارب روپے سے 74 سرکاری کالجز کی تعمیر کی جائے گی۔ بندوبستی اضلاع میں صاف پانی کی فراہمی۔ مانسہرہ میں گریوٹی لو واٹر سپلائی سکیم کا خصوصی منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ 83 کروڑ روپے صوبے میں پینے کا صاف پانی اور صفائی کے منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ 20 کروڑ روپے گریوٹی اینڈ اوور ہیڈ سکیم 400 واٹر سپلائی اسکیم کی سولرائزیشن کے لیے رکھے گئے ہیں۔ گدون صوابی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اتلا ڈیم کی تعمیر کی جائے گی۔ 21 کروڑ روپے کوہاٹ میں دریائے سندھ سے پانی کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے رکھے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں شہری علاقوں کی بہتری کے لیے 5 ارب روپے کی خاطر رقم مختص کی گئی ہے۔ 3.9 ارب روپے یورپین یونین کی مدد سے منتخب اضلاع میں بنیادی انفراسٹرکچر میونسپل خدمات کی ترقی کیلئے خرچ کیے جائیں گے۔ 1.8 ارب روپے سے ورسک روڈ سے نہ صرف تک رنگ روڈ (مسنگ لنک) کے شمالی سیکشن کی تعمیر کی جائے گی۔پشاور ترقیاتی پروگرام کے تحت احیا پشاور کے لیے 55 کروڑ روپے کی رقم خرچ کی جائے گی۔ 30 کروڑ روپے صوبے میں دیہی سڑکوں کی بحالی کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔ مانسہرہ چترال سوات اپر دیر میں لینڈ فل سائٹس کی تعمیر کی جائے گی۔ خیبرپختونخوا کی منتخب تحصیلوں میں مذبح خانے اور فروٹ سبزی منڈی تعمیر کئے جائیں گے۔ سیاحت اور کھیلوں کے فروغ کے لیے۔ 1.1 ارب روپے کائٹ پروگرام کے ذریعے سیاحت کے فروغ اور مقامات کی ترقی کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے خرچ کیے جائیں گے۔پشاور میں انٹرنیشنل کرکٹ کے فروغ کے لیے خصوصی طور پر ارباب نیاز اسٹیڈیم کی بحالی کے لیے 44 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ 33 کروڑ روپے خیبرپختونخوا میں 1000 سپورٹس فیسلٹی بنانے پر خرچ کیے جائیں گے۔1.9 ارب روپے صوبوں میں کھیل کے میدانوں کے قیام کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔ 37 کروڑ روپے سے ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات کے فروغ کے لیے سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی۔توانائی اور سڑکوں کے منصوبے بندوبستی اضلاع۔80 کروڑ روپے سے گبرال کلام ہائیڈروپاور پراجیکٹ 88 میگاواٹ تعمیر جاری رکھی جائے گی۔ 80 کروڑ روپے سے مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 157 میگاواٹ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ 5.7 ارب روپے ADP کے تعاون سے صوبائی سڑکوں کی بحالی کے لیے رکھے گئیں ہیں۔ 4.2 ارب روپے ADP کے اشتراک سے مردان صوابی روڈ کو دوہرا کرنے کے لئے خرچ کئے جائینگے۔ پہلی مرتبہ تمام ڈویژن میں روڈ کی تعمیر اور بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اس کے لئے 3.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 3.5 ارب روپے سے پشاور مردان ہزارہ،کوہاٹ، ملاکنڈ،ڈی آئی خان اور بنوں ڈویژن میں 835 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کی جائے گی۔

مزید :

صفحہ اول -