"ٹیکس سسٹم سے واقف ہرشخص جانتا ہے کہ ایف بی آر سے کسی کوبھی ۔۔۔" ماہر قانون بابر ستار بھی جسٹس فائز عیسیٰ کیس پر بول اٹھے

"ٹیکس سسٹم سے واقف ہرشخص جانتا ہے کہ ایف بی آر سے کسی کوبھی ۔۔۔" ماہر قانون ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف وکیل ، کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار بابر ستار نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کو ایف بی آر کو بھجوانے پرعدم اطمنان کااظہارکیاہے۔

فیصلے پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جن کا ایف بی آر سے واسطہ رہتا ہے وہ جانتے ہیں آڈٹ کیسے ہوتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیے گئے سسلسلہ وار ٹویٹس میں انہوں نے کہا" ہر وہ شخص جس کا واسطہ ہمارے ٹیکس سسٹم سے پڑا ہے وہ جانتا ہے کہ یہا ں آڈٹ کیسے ہوتا ہے اور کسی کو بھی کلین چٹ نہیں ملتی، ایف بی آر کو صرف یہ کہناپڑے گا کہ مسز قاضی فائز عیسیٰ چھ لاکھ پاونڈ میں سے ان ایک سو پاونڈ کی وضاحت نہیں دے سکیں جو انہیں جسٹس فائز عیسیٰ نے دیے تاہم ان کی طرف سے یہ اثاثوں کے ساتھ ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔

خیال رہے پاکستان کی سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں پر جمعے کی صبح وکیل صفائی منیر اے ملک کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے جمعے کی شام سنایا گیا۔

بی بی سی کے مطابق صدارتی ریفرنس مسترد کرنے کا فیصلہ تو بینچ نے نو کے مقابلے میں ایک کی اکثریت کے ساتھ دیا تاہم بینچ کے سات ارکان نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ ایف بی آر آئندہ دو ماہ میں ٹیکس کے معاملے کی تحقیقات مکمل کرے اور اس کی رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی جائے۔

حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس تحقیقات میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کوئی چیز سامنے آتی ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت از خود نوٹس لے کر کارروائی کر سکتی ہے۔

جن ججز نے یہ معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس منیب اختر، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس مظہر عالم، جسٹس قاضی امین، جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس فیصل عرب شامل ہیں۔

اس معاملے کو ایف بی آر میں بھیجنے سے جن تین ججز نے اختلاف کیا ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیٰ آفریدی شامل ہیں۔

مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر اس معاملے میں درخواست گزار کے اہلخانہ کو سات روز میں نوٹس جاری کرے اور ان سے لندن میں جائیداد کے بارے میں تفیصلات اور آمدن کے ذرائع بھی پوچھے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر 60 دن میں کارروائی مکمل کرے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس سے قبل اگر ایف بی آر کی طرف سے کوئی نوٹس جاری کیا گیا ہے تو اسے کالعدم سمجھا جائے۔

اس کے علاوہ عدالت نے کہا ہے کہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد ایف بی آر کے چیئرمین 75 دن میں رپورٹ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو جمع کرائیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر سو دن تک ایف بی آر کی طرف سے رپورٹ نہ آئی تو سپریم کورٹ کے رجسٹرار محکمے سے جواب مانگیں اور ایف بی آر کے چیئرمین کو اس حوالے سے وضاحت دینا ہوگی۔

مزید :

قومی -