صدارتی ریفرنس مسترد لیکن قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے میں کس نے مرکزی کردار ادا کیا؟ مقامی اخبار نے ساری کہانی بے نقاب کردی

صدارتی ریفرنس مسترد لیکن قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے میں کس نے ...
صدارتی ریفرنس مسترد لیکن قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے میں کس نے مرکزی کردار ادا کیا؟ مقامی اخبار نے ساری کہانی بے نقاب کردی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اب جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم کردیا ہے اور شوکاز نوٹس واپس لے لیا گیا ہے، کسی کو تعجب ہوگا کہ اس ریفرنس کا مواد کیا تھا اور عدالت عظمیٰ کے اعلیٰ جج کے خلاف سرکاری الزامات کتنے سنجیدہ تھے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں حکومت کا ماننا تھا کہ معزز جج بظاہر سراسر مس کنڈکٹ (بدعنوانی) کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہیں سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کی سفارشات پر ہٹا دیا جائے۔ اس ریفرنس کا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ بظاہر دفتر وزیر اعظم نے اپنے ایسیٹس ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے ذریعے ان حقائق کی تصدیق کرنے، اعلیٰ عدلیہ کے ارکان کے خلاف شواہد اکٹھا کرنے اور ایس جے سی کے سامنے ریفرنس دائر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ریفرنس کے مطابق 10 اپریل کو 2019 کو عبد الوحید ڈوگر نے وزیر اعظم کے ایسیٹس ریکوری یونٹ میں ایک شکایت داخل کی اور اطلاعات فراہم کیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر دو ججوں کے بیرون ملک اثاثے ہیں۔ اے آر یو نے تحقیقات کیں۔ 28 دنوں کے اندر دفتر وزیر اعظم نے ناصرف اپنی تحقیقات مکمل کرلیں بلکہ برطانیہ او رپاکستان میں ان حقائق کی تصدیق بھی کرلی۔

اس دوران دفتر وزیر اعظم نے لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے ذریعے ججوں کی آف شور پراپرٹیز سے متعلق مصدقہ دستاویزات حاصل کیں۔ اس نے ایف آئی اے اور ایف بی آر سے بھی اس کی تصدیق کی کہ عدالت عظمیٰ کے ارکان کی جانب سے یہ اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے۔ حکومت نے اپنے ریفرنس میں الزام لگایا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے غیرملکی اثاثے حاصل کرنے کے ذریعے کی جواب دہی نہیں کی گئی۔ اس لئے ایس جے سی کو اس معاملے کی تفتیش کرنا چاہئے کہ آیا یہ اثاثے منی لانڈرنگ کے ذریعے حاصل کئے گئے ہیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -