تعلیمی دشمن بجٹ اور طلبہ

تعلیمی دشمن بجٹ اور طلبہ
تعلیمی دشمن بجٹ اور طلبہ

  

تحریر: حسنین شیخ 

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اس.بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتے ہے کہا جاتا اگر کسی  کی ترقی کو جانچنا ہو تو اس کے تعلیم کے نظام کو دیکھے ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے کہ تعلیم کے بغیرترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا مگر پاکستان میں حالات اس کے برعکس نظر آرہے، ہم موجودہ حالات میں جب دنیا مریح پر پہنچ چکی ہے ہم 20 سال پرانی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں ۔  مگر اس حکومت نے اپنے اپنے دوسرے بجٹ میں بھی سب سے پہلے تعلیمی بجٹ پر کٹ لگا کر تعلیم دشمن ہونے کا ثبوت دیا یاد کرواتا چلو یہی وہ صاحب تھے جو تعلیم کے نام پر نوجوانوں سے ووٹ حاصل کر کے آۓ مگر اور آپ سب وعدے بول گئے ۔ 

مالی سال20 - 2019 کے بجٹ میں 46 ارب روپے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ آئی سی) کے لیے رکھے گئے تھے جس میں سے 29 صرف مختص کئے   گئے  اس فنڈ میں 40 فیصد تک کمی واقع آئی اس بجٹ کا نتیجہ کیا نکلا؟ غریب عوام جو سرکاری کالجز اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہے ان کے والدین پر فیسوں کےبوجھ میں اضافہ اور دوسری طرف طالبہ پر فیسسز میں اضافے کے ذریعے ان پر اعلی تعلیم کے دروازے بند کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے ۔

بات یہ  ہے کہ حکمران اور مقتدر قوتیں تعلیم کو بجٹ دینے پر کیوں رضامند نہیں ہے؟ اس کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے وہ غریب عوام تک تعلیم پہنچنا کیلئے رضامند نہیں ہے اس کی وجہ ان کے اس اقتدار کو اپنے ہاتھ سے نکل جانے کا ڈر ہے ۔ بجٹ کے بعد ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر طارق بنوری نے میڈیا چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بدترین ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ  ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں سماجی رابطوں کی ويب سائٹس پر لوگ اس بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر کئی صارفین دفاعی بجٹ میں اضافے پر بالخصوص نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا پاکستان کو صحت وتعلیم سے زیادہ اسلحہ کی ضرورت ہے۔

بات یہ ہے کی سیاسی پارٹیاں اقتدار حاصل سے پہلے تو بہت بلند وبالا نعرے لگتی ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ تعلیم کو اسی جدید طریقے سے استوار ے گئےکہ دنیا میں پاکستان  مثال قائم ہوئیں گی مگر وہ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی شکل میں ایک منفرد مثال قائم کرتے ہیں چاہیے وہ پی ٹی آئی کی حکومت ہو یا کوئی اور پارٹی ہوہے ۔

پہلے ہی پاکستان میں میں امرا اور مراعات یافتہ طبقوں کیلئے نجی اداروں کے نام پر پر تعیش تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں۔ جن کے مقابلے میں بے سرو سامان سرکاری ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے غریب بچے احساس کمتری کا شکار ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سرکاری اداروں کو وہ تمام سہولتیں فراہم کرے جو ان تعلیمی اداروں کا بنیادی حق ہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے جب اعلیٰ درسگاہ کے طور پر سامنے آئیں گے تو ان میں پڑھنے والے بچے بھی پراعتماد ہوں ۔ اس لیے حکومت تعلیمی بجٹ میں کمی کرنیکی بجائے سرکاری سکول کالجز اور یونیورسٹی کی حالت زار بہتر بنائے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں،قائم لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں پر خاص توجہ دی جائے۔ وہاں چاردیواری پانی ، بجلی ، فرنیچر کی فراہمی کے ساتھ نئے کلاس روم تعمیر کئے جائیں۔ اس طرح ہم ایک تعلیم یافتہ اور آگے بڑھنے والے پاکستان کا خواب پورا کر سکے ۔

    گزشتہ سال ملک بھر میں طلبہ 29 نومبر کو انہی مطالبات کو لیے سڑکوں پر نکل مگر معمول کے طرح اسمبلیوں میں پھر بل منظور ہوئے اور بات ٹھنڈی کردی گئی

مگر یاد رہے کہ ہم طلبہ روز روز نہیں نکلتے مگر جب پھر نکلتے تو اپنے مطالبات منظور کر جاتے ہیں۔

۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -