بھارت کی ہمسایوں کے ساتھ مستقل چیڑ خانی

بھارت کی ہمسایوں کے ساتھ مستقل چیڑ خانی
بھارت کی ہمسایوں کے ساتھ مستقل چیڑ خانی

  

تحریر: کیمورخان

اس ہفتے کے آغاز میں دریائے گیلان کی وادی میں بھارت اورچین کے درمیان ایک مرتبہ جھڑپیں ہوئی جن میں جانی نقصان بھی ہوا بھارتی میڈیا مسلسل شور مچارہاہے  ، اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت مسلسل سرحدوں پر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ محاذ گرم رکھتاہے ۔ تاہم اس مرتبہ بھارت کو یہ مہم جوئی مہنگی پڑ گئی ہے۔

بھارت اور چین کے موقف اور اس کے تزویراتی مضمرات کا تجزیہ کرنے سے پہلے ، یہ ضروری ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی پر نظر ڈالی جائے کہ یہ ملک  کس طرح جنوبی ایشیاء میں مستقل طور پربے چینی اور اضطراب پیداکررہا ہے۔

بھارت ایک ایسا ملک ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مخاصمانہ رویہ رکھتاہے حال ہی میں چین اور نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعات نے اس کے غاصبانہ  عزائم کوایک مرتبہ پھر بے نقاب کیا ہے۔ بھارت کی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برے سلوک اور سرحدی تنازعات پیدا کرنے کی تاریخ رہی ہے ۔  کبھی حیدرآباد دکن ، سکم ، گوا اور جونا گڑھ پر غاصبانہ قبضہ کیا تو کبھی جموں و کشمیر اور ناگالینڈ کے کچھ حصوں پر غیر قانونی قدم جمالیے  ۔ پاکستان اور چین کے ساتھ جنگیں لڑیں اور سری لنکا اور مالدیپ میں فوجی مداخلت کی ۔ بھارت نے بھوٹان میں مستقل فوج رکھی ہے ، اور بنگلہ دیش ، نیپال اور پاکستان کے ساتھ آبی تنازعات بھی  پال رکھے ہیں ۔

یہ امر باعث دلچسپی ہے کہ بھارت اور چین کے مابین موجودہ تناؤ بھارت نیپال سرحدی تنازعہ کے فورا بعد پیدا ہوا ہے۔ بھارتی حکومت نے نیپالی علاقے لیپولیخ کے راستے چین کے کیلاش مانسوروور سے ہندوستان کو جوڑنے کے لئے ایک لنک روڈ کا افتتاح کیا۔ جس کے جواب میں  کھٹمنڈو میں نوجوانوں کی  مختلف تنظیموں نے اپنی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے مظاہرے کیے تاکہ ہندوستان سے اس علاقے کو واپس لینے کے لئے ضروری اقدامات اختیار کیے جائیں۔ نیپالی حکومت اور نیٹ صارفین  نے اپنی سرزمین پر بھارتی مداخلت کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

 اس حوالے سے ہندوستانی وزارت خارجہ نےدعوی کیا کہ یہ سڑک پرانے راستے پر ہی تعمیر کی جارہی ہے جسے  زائرین کیلاش مانسوروور (چین میں) میں یاترا کیلئے استعمال کرتے  تھے  یہ  بھارتی علاقہ تھا۔ تاہم نیپال اس دعوی کورد کرتاہے  نیپالی پارلیمنٹ نے متنازعہ علاقے کو نیپال کے  سرکاری نقشے میں شامل کرنے کے لئے تحریک  پیش کی۔

بھارت نے   اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ  کیے گئے متعدد معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور ہمیشہ اپنے مخاصمانہ  اور چانکیا ہتھکنڈوں کے ذریعہ اپنے  مخالف نقطہ نظر سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے ۔اس کی ایک تازہ مثال موسم کے بلیٹن میں گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے موسم کے حال کو  شامل کرناہے۔ نیپال کی سرزمین کو ہڑپ  کرنے کی بھارتی کوشش  بھارت نیپال دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ  جنوبی ایشیا میں ایک پرامن ہمسایہ ملک کی حیثیت سے بھارتی سفارتی ساکھ پربھی  برے اثرات مرتب کررہا ہے ۔

چین بھارت  تنازعہ کی ساٹھ کی دہائی کے اوائل سے ہی  ایک تاریخ ہے۔ چین نے 1962 میں شمال مشرقی اور شمال مغربی دونوں محاذوں پربھارت کو بدترین شکست دی تھی ۔ دراصل چین اور بھارت کے درمیان سرحد موجود نہیں ہے ، یہ دنیا کی سب سے طویل غیر متعین (3500 کلومیٹر) سرحد ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ، 5000 سے 7000 چینی فوج  نے مقبوضہ لداخ میں ایل اے سی کو عبور کیا ہے۔

 تب سے بھارتی فوجی اور سیاسی قیادت پر سکتہ طاری ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ بھارتی تجزیہ کار بھارتی قیادت پر تنقید کر رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں  جب بھارت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کیلئے بڑھکیں ماررہا تھا ایسے میں بھارت کو چین کی جانب سے زبردست دھچکا لگاہے ۔

بھارتی میڈیا معلومات چھپا رہا ہے اور عوام کو بتا رہا ہے کہ چینی فوج نے کچھ بھارتی  فوجیوں کو مختصر طور پر حراست میں لیا تھا۔ یاد رہے کہ ابی نندن کو بھی پاکستان نے مختصر وقت کیلئے حراست میں لیا تھا اور رہا کردیا تھا۔

 حقیقت میں بھارت اس وقت چین کے ساتھ محاز آراٗئی کا متحمل نہیں ہوسکتا.

عملی طور پر ، چین تزویراتی لحاظ سے بہت مضبوط پوزیشن میں ہے اوربھارت کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔

ہندوستانی فوج بد نظمی کا شکار ہے  ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را کیلئے بھی افغانستان ،سری لنکا اور نیپال میں ناکامی کے بعد یہ ایک بڑا دھچکا ہے ۔لداخ  کی غلطی بھارت کو بہت مہنگی پڑ گئی ہے ۔

لداخ میں موجودہ پیش رفت سے چند نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔

بھارت کا  امریکہ ، آسٹریلیا اور جاپان  اتحاد میں شامل ہونا اور جنوبی ایشیا میں امریکہ کا پٹو بننا یا بہ الفاظ دیگر بحر الکاہل اتحاد کو چین اپنی سلامتی کیلٗئے خطرہ سمجھتاہے اور چین اپنی سلامتی کے تحفظ کی بھرپور اہلیت اور صلاحیت رکھتاہے ۔مودی کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے خاتمے نے اکسائی چن میں ہندوستانی ارادوں کو بے نقاب کردیا ہے ۔ بھارت نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر براہ راست حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی  ، اس طرح پاکستان میں چین پاکستان اقتصادی رہداری اور چین کے اہم مفادات کیلئے  خطرہ بن گیا تھا۔ چین اپنے مفادات کا تحفظ کرنا خوب جانتاہے ۔ یہ بات دنیا پرواضح ہوگئی ہے کہ  بھارت کاغذی شیر ہے جو بڑھکیں مارتاہے ۔ اورعالمی سطح کے کھلاڑی بننے سے ابھی بہت دور ہے ؟

یہاں یہ بات بھی قابل ذکرپے  کہ پچھلے چار مہینوں میں بھارت کو شدید دھچکے لگے ہیں ۔ کوڈ 19 ،  سائیکلون، لداخ میں نقصان ، ٹڈیوں کا حملہ ، یہاں تک کہ طوفان نثارگا مودی اور ان کے آر ایس ایس کیلئے شدید اسٹریٹجک دھچکے ہیں ۔بھارت کو چاہیے کہ اپنے جارحانہ اور غاصبانہ موڈ سے نکل کر پڑوسی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی راہ اختیار کرے اور پرامن بقائے باہمی کی روش اپنائے  تاکہ جنوبی ایشیا جہاں بھارتی رویے کی وجہ سے  ایک بڑی آبادی پسماندگی کا شکارہے خوشحالی سے ہمکنارہو اور یہ خطہ بھی امن و سلامتی  کا گہوراہ بن کر ترقی کرے۔

۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -