افغانستان ، سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں طالبان کے فرضی ضلعی سربراہ سمیت 20عسکریت پسند ہلاک

افغانستان ، سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں طالبان کے فرضی ضلعی سربراہ سمیت ...
افغانستان ، سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں طالبان کے فرضی ضلعی سربراہ سمیت 20عسکریت پسند ہلاک

  

کابل( شِنہوا)افغانستان میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں طالبان کے فرضی ضلعی سربراہ سمیت 20عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ۔افغانستان کی قومی دفاعی اور سکیورٹی افواج(اے این ڈی ایس ایف) نے مغربی صوبہ غور میں طالبان عسکریت پسندوں کے ایک بڑے حملے کو پسپا کرتے ہوئے طالبان کے ایک فرضی ضلعی سربراہ سمیت تین شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔

افغان وزارت دفاع نے جمعہ کو ایک بیان میں کہاکہ یہ واقعہ جمعرات کی رات دیر گئے اس وقت پیش آیا جب سینکڑوں طالبان عسکریت پسندوں نے صوبائی دارالحکومت فیروز کوہ کے نواح اور نزدیکی پسابند اور تولغ اضلاع میںسیکیورٹی چوکیوں پر حملہ کیا۔بیان میں کہا گیاکہ ضلع تیوارا کے نام نہاد طالبان ضلعی سربراہ نصر اللہ انصاری سمیت تین طالبان عسکریت پسند مارے گئے اورطالبان کے ایک ڈویژنل کمانڈر گل احمد سمیت تین عسکریت پسند زخمی ہوئے ۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جھڑپوں کے دوران اے این ڈی ایس ایف کے اہلکار محفوظ رہے۔

ادھر افغانستان کے 2 صوبوں میں جمعرات کی رات 17 طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 1 زخمی ہو گیا ہے۔ اس کی تصدیق افغان سپیشل فورسز کی کمانڈ نے جمعہ کے روز کی۔اے این اے سپیشل آپریشنز کور نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی صوبہ قندھار کے ضلع میانشین میں طالبان عسکریت پسندوں کے ایک دستے نے سیکورٹی چوکیوں پر حملہ کیا ۔ جس کے جواب میں افغان نیشنل آرمی(اے این اے)کے کارکنان نے طالبان کے ٹھکانوں پر بھاری اسلحہ سے شیلنگ کی جس میں 13 دشمن ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی صوبہ پکتیکا کے ضلع سرھوزا میں فضائی حملے کے نتیجے میں 4 عسکریت پسند مارے گئے ہیں ، بیان میں مزید کہا گیا کہ فضائی حملہ درست انٹیلی جنس مخبری پر کیا گیا۔بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا یہ حملہ نیٹو کی زیر قیادت اتحادی افواج نے کیا یا افغان فضائیہ نے ۔عسکریت پسند گروہ طالبان کی جانب سے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

مزید :

بین الاقوامی -