چینی انکوائری کمیشن کیس، اسلام آبادہائیکورٹ نے حکم امتناع خارج کردیا،تمام اداروں کو کارروائی کی اجازت

چینی انکوائری کمیشن کیس، اسلام آبادہائیکورٹ نے حکم امتناع خارج کردیا،تمام ...
چینی انکوائری کمیشن کیس، اسلام آبادہائیکورٹ نے حکم امتناع خارج کردیا،تمام اداروں کو کارروائی کی اجازت

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کیس میں حکم امتناع خارج کرتے ہوئے شوگر ملز ایسوسی ایشن کی چینی رپورٹ پر کارروائی روکنے کی درخواست مستردکردی اور تمام اداروں کو چینی رپورٹ پر کارروائی کی اجازت دیدیا۔عدالت نے کہاکہ انکوائری کمیشن کی تشکیل درست تھی اور انکوائری کمیشن نے درست کام کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہونے پرمخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ایک دفعہ انکوائری کمیشن کی تشکیل کے بعد اس میں ترمیم نہیں ہو سکتی،کمیشن میں ترمیم انکوائری کمیشن ایکٹ کی سیکشن 21 کی خلاف ورزی ہے،ہم نہیں جانتے اس خاص ممبر کی شمولیت کاکمیشن پر کیااثر ہوا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ میں نے پہلے کمیشن رپورٹ نہیں پڑھی تھی رات کو پڑھی ہے ،وفاقی وزیر اوروزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں کمیشن نے لکھا ہے کیا وہ بھی متعصب ہے؟،جنہوں نے اس کی اجازت دی ان کے بارے میں بھی کمیشن نے لکھا ہے ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کمیشن رپورٹ میں ان لوگوں کے بارے میں سیریس لکھا گیا جو ابھی وفاقی کابینہ میں ہیں ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ زیادہ فکر تو اس پبلک آفس ہولڈر کو ہونی چاہئے تھی جو آج حکومت میں ہے ،نیب کے پاس کیس تو ان کے خلاف بھی جائے گا،اس سب کے ہوتے ہوئے ہم کیسے کہہ دیں رپورٹ تعصب کی بنا پر تیار کی گئی ؟،پبلک آفس ہولڈرز کیخلاف رپورٹ میں سیریس قسم کے الزامات لگا ئے گئے ہیں ۔

عدالت نے شوگر ملز وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو تو خوش ہونا چاہئے نیب اورحکومت کاامتحان ہے،ابھی تک پتہ نہیں نیب اس پر کارروائی کرتا بھی ہے یا نہیں ،نیب توایسی رپورٹس یاشکایت کا پہلے جائزہ لیتا ہے،وفاقی وزیر کے حوالے سے رپورٹ میں لکھاجانا حکومت کابھی امتحان ہے،رپورٹ اصل میں حکومت اورنیب کاامتحان ہے۔

وکیل ملز مالکان نے کہاکہ چینی کیس کاروباری افرادکے بنیادی آئینی حقوق کامقدمہ ہے،کابینہ کاالگ اورمعاون خصوصی کاالگ فیصلہ ہوا،شہزاداکبرکوذمہ داری دی گئی وہ کمیشن کی سفارشات پرعملدرآمدکرائیں گے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیاکابینہ اپنے اختیارات کسی اورکودے سکتی ہے؟،عدالت نے کہاکہ مسابقتی کمیشن کیس کے فیصلے میں کہاگیاکابینہ کسی کواختیارنہیں دے سکتی،اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں حکومت کو ایڈوائس دیتا ہوں کہ وہ اس پر نظرثانی کرے ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ چینی رپورٹ اصل میں حکومت اورنیب کا امتحان ہے،ملزمالکان توفائدہ لینے والے ہیں، اصل مسئلہ توعوامی عہدہ رکھنے والوں کوہوناچاہئے۔

عدالت نے کہا کہ ذمہ دارقراردیئے گئے کسی حکومتی رکن نے رپورٹ کوچیلنج نہیں کیا؟یہ رپورٹ صرف فیکٹ فائنڈنگ ہے،رپورٹ میں جونتیجہ اخذکیاگیااس کومتعلقہ فورم پرثابت ہونا ہے،چینی رپورٹ میں سخت الفاظ کوحذف کردیتے ہیں،وکیل نے کہاکہ چینی رپورٹ سے سخت اورغیرضروری الفاظ حذف کرنامناسب نہیں،ہماری استدعا ہے چینی پرنیا کمیشن تشکیل دیاجائے۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے شوگر ملز انکوائری کمیشن کیخلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے فیصلہ سنایا،عدالت نے چینی انکوائری کمیشن کیس میں حکم امتناع خارج کرتے ہوئے شوگر ملز ایسوسی ایشن کی چینی رپورٹ پر کارروائی روکنے کی درخواست مستردکردی اور تمام اداروں کو چینی رپورٹ پر کارروائی کی اجازت دیدیا۔عدالت نے کہاکہ انکوائری کمیشن کی تشکیل درست تھی اور انکوائری کمیشن نے درست کام کیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -اہم خبریں -