وہ جگہ جہاں کورونا وائرس 20 ہزار برس تک رہ سکتا ہے، چینی ماہر نے پریشان کن دعویٰ کردیا

وہ جگہ جہاں کورونا وائرس 20 ہزار برس تک رہ سکتا ہے، چینی ماہر نے پریشان کن ...
وہ جگہ جہاں کورونا وائرس 20 ہزار برس تک رہ سکتا ہے، چینی ماہر نے پریشان کن دعویٰ کردیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی ابتداءمیں بتایا گیا تھا کہ درجہ حرارت زیادہ ہونے پر یہ وائرس ختم ہو جائے گا لیکن بعد میں سائنسدانوں نے تحقیق کے ذریعے بتایا کہ درجہ حرارت زیادہ ہونے سے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کی شرح سست روی کا شکار ہو گی مگر اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو گا۔ اب چینی ماہرین نے درجہ حرارت کے حوالے سے کورونا وائرس کے متعلق ایک اور تشویشناک انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چینی حکومت کی میڈیکل ایڈوائزر اور وبائی امراض کی ماہر پروفیسر لی لین جوآن نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کو درجہ حرارت کم ہونے کا کوئی خوف نہیں کیونکہ کم درجہ حرارت پر یہ سالوں زندہ رہ سکتا ہے۔

پروفیسر لی کا کہنا تھا کہ ”کورونا وائرس منفی 4ڈگری سینٹی گریڈ پر چند ماہ تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن منفی 20ڈگری سینٹی گریڈ پر یہ 20سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ “ چین میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے حوالے سے پروفیسر لی نے کہا کہ ”اس بار چین میں یہ وائرس یورپ سے آیا۔ ممکنہ طور پر یہ یورپ سے آنے والی مچھلی کے ساتھ یہاں منتقل ہوا۔“ اس دوسری لہر میں جو کورونا وائرس چین میں پھیل رہا ہے، پروفیسر لی نے اس کا جینوم ڈیٹا بھی شیئر کیا جو یورپ میں پائے جانے والے وائرس سے مشابہہ تھا۔

پروفیسر لی کا کہنا تھا کہ منفی درجہ حرارت پر چونکہ وائرس طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے اور یورپ سے مچھلی فریز کرکے بھیجی جاتی ہے چنانچہ غالب امکان یہی ہے کہ اسی مچھلی کے ساتھ یہ وائرس چین آیا اور کئی ماہ تک یہاں فریز کی ہوئی مچھلی کے ساتھ زندہ رہا اور اب لوگوں میں پھیل گیا ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر میں چین میں کیسز کی تعداد183ہو گئی ہے اور ان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز 25نئے کیس سامنے آئے۔ اس دوسری لہر میں سب سے زیادہ کیسز دارالحکومت بیجنگ میں سامنے آ رہے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -