”میرے کئی ساتھی قومی ٹیم میں کھیل رہے ہیں تو میں بھی کھیل سکتا ہوں“ عمران فرحت بھی میدان میں کود پڑے

”میرے کئی ساتھی قومی ٹیم میں کھیل رہے ہیں تو میں بھی کھیل سکتا ہوں“ عمران ...
”میرے کئی ساتھی قومی ٹیم میں کھیل رہے ہیں تو میں بھی کھیل سکتا ہوں“ عمران فرحت بھی میدان میں کود پڑے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر عمران فرحت نے کہا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم میں نام نہ آنے پر مایوس نہیں ہوتا کیونکہ میں سوچتا ہوں کہ جب قسمت میں لکھا ہو گا تو قومی ٹیم میں بھی واپسی ہو جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق 38 سالہ عمران فرحت نے40 ٹیسٹ، 58 ون ڈے اور 7 ٹی 20 میچز میں پاکستان کی نمائند کی ہو ئی ہے اور انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ 2013ءمیں سینچورین میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا تھا جبکہ اسی برس چیمپئینز ٹرافی کے دوران برمنگھم میں جنوبی افریقہ کے ہی خلاف آخری ون ڈے میچ بھی کھیلا۔

گزشتہ 7 سال سے ٹیم سے باہر ہونے کے باوجود عمران فرحت اسی جذبے کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہیں جیسے وہ پہلے کھیلا کرتے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ میرے کئی ساتھی اس وقت قومی ٹیم میں کھیل رہے ہیں تو میں بھی کھیل سکتا ہوں لیکن میں نام نہ آنے پر مایوس نہیں ہوتا کیونکہ میں سوچتا ہوں کہ جب قسمت میں لکھا ہوگا تو کھیل جاؤں گا۔ 

انہوں نے کہا کہ میں ایک پروفیشنل کرکٹر ہوں اور مجھے کرکٹ کھیلنا ہے چاہے کسی بھی سطح پر ہو اور میں خود کو ایسے ہی فٹ رکھتا ہوں جیسے قومی ٹیم میں ہوں۔ ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا تھا کہ ابھی کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں رہنا پڑ رہا ہے لیکن میں نے ایک دن بھی ٹریننگ نہیں چھوڑی، اپنے بڑے ٹیسٹ کرکٹر بھائی ہمایوں فرحت اور بچوں کے ساتھ ٹریننگ کرتا ہوں اور خود کو فٹ رکھتا ہوں کیونکہ ابھی میں نے کرکٹ کھیلنی ہے۔

عمران فرحت نے کہا کہ کرکٹ انجوائے کرنے کیلئے کھیلتا ہوں اور جب تک فٹ ہوں میں کرکٹ کھیلتا رہوں گا۔ ڈومیسٹک کرکٹ کو شیڈول کے مطابق شروع ہونا چاہیے کیونکہ یہ کرکٹرز اور پاکستان ٹیم کیلئے بہت ضروری ہے، اب جب انٹر نیشنل سیریز شروع ہونے جا رہی ہیں تو اس کی وجہ سے ڈومیسٹک کرکٹ کے بھی ضابطہ کار بنیں گے اور ڈومیسٹک کرکٹ بھی شروع ہو سکے گی۔

بائیں ہاتھ کے اوپنر نے کہا کہ دورہ انگلینڈ پاکستان ٹیم کیلئے بڑی اہمیت کا حامل ہے، ٹیم میں نوجوان فاسٹ باﺅلرز شامل ہیں اور انگلینڈ کی کنڈیشنز کی وجہ سے انہیں فائدہ ہو گا جبکہ شان مسعود اور عابد علی کو اب اپنی اننگز نکھارنی ہوں گی اور سب سے بڑھ کر کورونا کی وجہ سے کرکٹرز کو دماغی طور پر مضبوطی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

مزید :

کھیل -