سب کچھ چھوڑ کرکہاں پناہ ملے گی؟

سب کچھ چھوڑ کرکہاں پناہ ملے گی؟
سب کچھ چھوڑ کرکہاں پناہ ملے گی؟

  

اقوام متحدہ کے دوسری مرتبہ سیکرٹری جنرل منتخب ہونے ولے انتونیو گوتریس نے اپنے ایک حالیہ پیغام میں کہا ہے کہ”کوویڈ۔19  نے ہمیں دکھایا ہے کہ ہم صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتے ہیں جب ہم سب اکٹھے ہوں اور ہمارا یہ فرض ہے کہ پناہ گزینوں کی زندگی کی تعمیر نو کرنے میں ان کی مددکریں“۔ یہ پیغام انھوں نے خصوصی طور پر پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کیا ہے۔اس وقت دنیا بھر کے 80 ملین افرادنسلی تعصب،مذہبی کشیدگی،امتیازی سلوک، جنگ،تشدد، ظلم وستم یا سیاسی تناو سے اپنے کنبے کو بچانے کے لئے اپنا گھر بار،اپناوطن چھوڑکر دوسرے ممالک میں پناہ گزینوں کی زندگی بسر کررہے ہیں،خراب حالات و واقعات کے شکار افراد ا جن مصائب سے بچنے کے لئے جلا وطنی اختیار کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ مشکلات ان کو دیار غیر میں برداشت کرنی پڑجاتی ہیں کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کا شمار سب سے کمزور لوگوں میں کیا جاتا ہے انھیں دیگر غیرملکی شہریوں جیسے حقوق نہیں دیئے جاتے۔1951 اور 1967میں رفیوجی کنونشن میں پناہ گزینوں کے حقوق اور میزبان ممالک کی ذمہ داریوں پرسب سے پہلے روشنی ڈالی گئی لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر کئی میزبان ممالک پناہ گزینوں کو ان کے حقوق نہیں دے رہے جس کے باعث پناہ گزینوں کی زندگی ایک مذاق بن کررہ گئی ہے اسی لئے اقوام متحدہ کے زیر اہتمامہر سال 20 جون کو پناہ گزینوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے،یہ دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کے فیصلے کے نتیجے میں سن 2000ء سے منایا جارہا ہے۔اس سال اس دن کا موضوع ہے ”ایک ساتھ مل کر ہم کچھ بھی حاصل کرسکتے ہیں“ 

اس عالمی دن کے موقع پر اقوام عالم کی توجہ ان لاکھوں،کروڑوں پناہ گزینوں کی جانب مبذول کرائی جائے گی جو جنگ،ظلم و تشدد،نقص امن،سیاسی یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑکر غیر ملک میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فارر فیو جیز اور مختلف انسانی حقوق کی تنظمیں دنیا کے سو سے زائد ممالک میں اس دن کو بڑے اہتمام اورجذبے سے مناتی ہیں تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ آج بھی لاکھوں، کروڑوں افراد پناہ گزینوں کی حیثیت سے دوسرے ممالک کے رحم و کرم پر اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ایسے افراد انتہائی غربت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے علاوہ بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ ایک سروے کے مطابق جنگوں، تشدد، بدامنی، بدسلوکی اور دہشت گردی جیسے واقعات کے باعث ہجرت پرمجبورافراد کی تعداد میں اس قدر ریکارڈ اضافہ ہوا ہے کہ اب ان کی تعداد جنگ عظیم (دوم) کے دوران بے گھرہونے والے افراد سے بھی کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ شام،فلسطین،مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں پرجومظالم ڈھائے جارہے ہیں۔شام میں 20 لاکھ سے زائد افراد تشدد،مظالم سے تنگ آکر اردن، لبنان، ترکی اور عراق میں پناہ گزینوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اسی طرح اسرائیلی جارحیت اورآئے دن انسانیت سوز واقعات کے باعث فلسطینی مسلمان اپنا وطن چھوڑ نے پر مجبور ہیں۔ افغانستان  کے 26 لاکھ 64 ہزار افراد مہاجر کی حیثیت سے دوسرے ممالک میں پناہ گزین کی حیثیت سے زندگی گذار رہے ہیں جبکہ عراق کے 14 لاکھ 26 ہزار افراد، صومالیہ کے 10 لاکھ 7 ہزارافراد، سوڈان کے 5لاکھ سے زائد افراد دوسرے ملکوں میں پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 

اقوام متحدہ نے پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پرمصوری اور موسیقی کے پروگراموں کا بھی اہتمام کیا ہے۔دنیا بھر سے مصور اپنے بنائے ہوئے فن پارے اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر اپ  لوڈ کرکے مصوری کے مقابلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔موجودہ سال مصوری کے مقابلوں کا تھیم ہے(TOGETHER THROUGH SPORT) مصوری کے ان مقابلوں کی خاص بات یہ ہے کہ آپ چاہے پروفیشنل آرٹسٹ ہوں یا نہ ہوں،اپنی مصوری کا نمونہ بھیج سکتے ہیں بس عمر کی حد دس سے تیس سال تک ہونی چاہیئے۔مقابلے میں بھیجے جانے والے ڈیزائن نہ صرف دس ملین فالوورز کو سوشل میڈیا پر شیئر کئے جائیں گے بلکہ مقابلہ جیتنے والے پہلے پانچ آرٹسٹوں کوانعامات بھی دیئے جائیں گے۔مقابلے کے لئے ڈیزائن بھیجنے کی آخری تاریخ 25 جون ہے اس کے علاوہ پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر نامور گلوکار ورچوئل پروگرام اقوام متحدہ کے ویب چینل،یو ٹیوب اور فیس بک سے پیش کریں گے۔ان پروگراموں میں پناہ گزینوں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشت کو جو نقصان ہوچکا ہے اس کا ازالہ کرنے میں پناہ گزین معاون و مددگار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب میزبان ملک انھیں دیگر غیر ملکی شہریوں کی طرح سہولتیں اور حقوق فراہم کرے۔ 

مزید :

رائے -کالم -