حکومت کو بڑا جھٹکا ، پیپلز پارٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مسترد کردیا

حکومت کو بڑا جھٹکا ، پیپلز پارٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مسترد کردیا
حکومت کو بڑا جھٹکا ، پیپلز پارٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مسترد کردیا

  

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پیپلز پارٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ سازش سے سلیکٹر اور سلیکٹڈ آئندہ انتخابات بھی چوری کر نا چاہتے ہیں ،طاقت کا مرکز اسلام آباد پارلیمنٹ سے نکل کر راولپنڈی کی طرف جارہا ہے،بے نظیر نے کہا تھا دہشتگردوں کے ساتھ لڑونگی ، ہم پر یہ قرض ہے جسے سامنے رکھنا ہوگا،بے نظیر بھٹو فیڈریشن کی علامت تھیں، آج فیڈریشن پر خطرات لاحق ہیں۔

بے نظیر بھٹو شہید کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہاکہ سب کو شہید بی بی کی سالگرہ مبارک ہو،جب ہم شہید بے نظیر کو عظیم لیڈر کہتے ہیں تو اسکی ایک شناخت ہوتی ہے،آج ہر کوئی عظیم لیڈر بنا پھرتا ہے،عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جسکے ربط میں آنے والا بھی غیر معمولی بن جاتا ہے،کراچی سے گلگت تک جوغیرمعمولی شخصیات نظر آتی ہیں انکاشہید بی بی سے رابطہ رہا ہے،بڑے لیڈر کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ آپ کو مجھے شناخت دیتا ہے،1954ء سے طے کیا سفر اسکے بعد بی بی پاکستان کی پہچان بن گئیں۔

انہوں نے کہاکہ جب وہ پیداہوئیں تو پاکستان انکی شناخت تھا، شہید ہوئیں تو وہ پاکستان کی شناخت بن گئیں، بے نظیر بھٹو کا ہم پر قرض بھی ہے جسے سامنے رکھنا ہوگا،اپنی آخری تقریر میں انھوں نے کہا تھا دہشت گرد پاکستان کا جھنڈا اتارنا چاتے ہیں میں ان سے لڑوں گی،یہ قرض کیوں ہے اس لئے کہ بے نظیر بھٹو نے ان دہشت گردوں کے ساتھ لڑنے کا کہا تھا،انکی شہادت کے بعد طاقت کا محور عوام سے ہٹ کر غیر سیاسی قوتوں کے ہاتھ میں جارہا ہے،طاقت کا مرکز اسلام آباد پارلیمنٹ سے نکل کر راولپنڈی کی طرف جارہا ہے،بی بی نے 27 دسمبر 2007 کوکہا تھا  کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔

فرحت اللہ بابر نے کہاکہ ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مسترد کرتے ہیں،اس سازش سے سلیکٹر اور سلیکٹڈ آئندہ کے انتخابات چوری کرنا چاہتے ہیں، فائیو جی وار کے نام ہماری سوچ اور فکر پر پابندیاں لگ گئی ہیں، سوچ و فکر کی پابندی کا مقابلہ کرنا ہوگا، معاشرے کا اخلاقی وجود نہ ہو تو ریاست نہیں رہ سکتی ،ریاست کے معاشرتی وجود کے لئے ان پابندیوں کو ہٹانا ہوگا، بے نظیر بھٹو فیڈریشن کی علامت تھیں، آج فیڈریشن پر خطرات لاحق ہیں،فیڈریشن پر حملے 18 ویں ترمیم کے بعد سے شروع ہوگئے تھے،18 ویں ترمیم کچھ لوگوں کو پسند نہیں آئی تھی، سازشیں بند نہیں ہوئیں،2014 میں دھرنا ہوا اس وقت وزیر اعظم اپنا استعفیٰ لیکر پارلیمان میں آیا تھا ،خورشید شاہ نے انہیں اس سازش کو کامیاب نہ بنانے کا مشورہ دیا،پھر فیض آباد پر دھرنا ہوا،وہ لوگ سازشیں اب بھی کررہے ہیں،آج اس سازش کے تحت الیکٹرانک مشین کے نام پر بل لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے نام پر آئندہ والے انتخاب میں دھاندلی کرنا چاہتے ہیں،میری تصور کی آنکھ اس سازش کے تحت 18 ویں ترمیم رول بیک ہوتی دیکھائی دے رہی ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس سازش کو بھانپ لیا ہے۔

ڈاکٹرنفیسہ شاہ نے کہاکہ آج سب کا سر فخر سے بلند ہے،یہ واحد جماعت ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح کے راہنماءفراہم کیے،ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے نام عالمی سطح کے راہنماوں میں تھے، شہید محترمہ نے کم عمری میں 24 سال کی عمر میں پارٹی کو سنبھالا،انہوں نے دو ظالم و جابر آمروں کے ساتھ مقابلہ کیا ، انہوں نے عوامی تحریک کی قیادت کی ،شہید بی بی کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں،ہم آئین پاکستان بنانے والوں میں سے ہیں اور ہم ہی نئے پاکستان کے وارث ہیں،آج بلاول شہید بی بی کے وارث ہیں اور ان کا علم تھامے ہوئے ہیں۔

مزید :

قومی -